تازہ ترین خبریں
آپ کو مجلس احرار کیسی لگی؟

سانحۂ کربلا…… پس منظر اور پیش منظر

مفکر اسلام علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمۃ اﷲ علیہ

دیرینہ تعصبات اور جنگوں کے متعلق صحیح مؤقف:
ہمارا ’’اہلسنت والجماعت‘‘ کا اعتقاد یہ ہے کہ نبی پاک صلی اﷲ علیہ وسلم کی تشریف آوری پر عرب لوگ جو متفرق زندگی گزار رہے تھے، وہ ایک ہوئے اور جو دیرینہ جنگیں اور تعصبات کی لہریں تھیں، وہ ساری دب گئیں اور قوم ایک ہو گئی۔ لیکن اہلسنت والجماعت کے اس عقیدے کے متوازی، اس کے مقابلے میں ایک بات یہی کہی جا رہی ہے کہ وہ تعصبات پر برابر جمے رہے۔ محرم کے ایام میں اس بہت کو اور زیادہ High Light کیا جاتا ہے۔ وہ کیا؟ مثلاً کہ جی خود مکہ میں کیا دو متقابل نہ تھے اور دونوں عبد مناف کی اولاد تھے۔
٭اموی لوگ اور ہاشمی لوگ ٭ اموی قبائل اور ہاشمی قبائل
آپس میں ایک نہیں تھے بلکہ نبرد آزما تھے، لڑائیاں تھیں۔
بدر و اُحد میں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا مقابلہ کن سے رہا :
بدر اور دوسرے موقعوں پر جنگوں میں اور احد کے دن قیادت میں کون آیا۔ نبی پاک صلی اﷲ علیہ وسلم ہاشمی تھے، ان کے مقابلے میں کون آیا؟ ابو سفیانؓ اموی۔ اور نبی کے بعد علی ہاشمی تھے، ان کے مقابلے میں کون آیا؟ ابو سفیانؓ کا بیٹا معاویہؓ۔ اس کے بعد کیا ہوا، جب علی ؓ گئے تو ان کے بعد ان کا بیٹا حسین ؓہاشمی اور پھر معاویہؓ کا بیٹا یزید۔ تو یہ ایک خاندانی طور پر جو پرانی چیز چلی آ رہی تھی، جو عداوت چلی آ رہی تھی، اسی کو اس موقع پر زیادہ Hgih Light کر کے کہا جاتا ہے کہ
حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے مقابل ………………ابو سفیان (رضی اﷲ عنہ)
علی رضی اﷲ عنہ کے مقابل ………………ابو سفیان کا بیٹا (معاویہ رضی اﷲ عنہما)
پھر حسین رضی اﷲ عنہ کے مقابل ………… ……اس کا بیٹا (یزید)
تو کہا جاتا ہے، لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ یہ خاندانی عداوت پہلے سے چلی آ رہی ہے تھی۔ یہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی آمدپر دبی نہیں بلکہ اور بھڑکی اور یہ آگ ایسی بھڑکی کہ ہر مقابلے میں ادھر وہ اور اُدھر وہ۔ نبی (صلی اﷲ علیہ وسلم) ہے،علیؓ ہے، حسینؓ ہے۔ مقابلے میں ابوسفیان ہےؓ ،معاویہؓ ہے اور یزید ہے۔ سو محرم کی ابتدا میں لوگوں کو ذہنی طور پر یہ بات بتلائی جاتی ہے کہ ایک وہ سلسلہ چلا آ رہا ہے اور ایک یہ سلسلہ چلا آ رہا ہے۔ ایک شجرہ اس قسم کا اور ایک شجرہ اس قسم کا۔
جاہلیت کی چنگاریاں اور نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کا معجزہ:
تو میں آپ کو اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ان کے ہاں سانحہ کربلا کی بنیاد اس پرانی عداوت پر ڈالی گئی ہے۔ اس واقعہ کی شرح کے لیے اس میں پچھلی پوری تاریخ عرب کو دہرایا جاتا ہے۔ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت جو حالات پیش آئے، انقلابات آئے، ان کو بالکل ایک طرف کر کے ایک ایسی مصروف منطق دی گئی، جس کو قرآن قبول نہیں کرتا۔ قرآن صاف کہتا ہے:
کُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِہِمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖ اِخْوَانًا ۔ (پارہ: ۴، سورۃ: آل عمران: ۱۰۲)
ترجمہ: تم پہلے دشمن چلے آ رہے تھے، اس پیغمبر کی بعثت سے تم ہو گئے آپس میں بھائی بھائی۔
آپ ذرا غور کریں، یہ شجرہ عداوت والے کیا اس قرآن پر ایمان رکھنے والے ہو سکتے ہیں؟ جاہلیت کی چنگاریاں اور جاہلیت کی جو آگ تھی، پہلے قوموں سے قومیں ٹکراتی تھیں، قبائل سے قبائل ٹکراتے تھے۔ تو نبی پاک صلی اﷲ علیہ وسلم کی تشریف آوری پر وہ آگ ٹھنڈی ہو گئی اور حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی رسالت کا یہ ایک اعجاز تھا کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کو ایک کیا، جو ایک ہونے والے نہ تھے۔ تو ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کو ایک کیا اور عرب میں لوگ حقیقی طور پر ایک ہو گئے۔ ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کا یہ معجزہ اور اسلام کا یہ انقلاب کوئی عارضی نہ تھا، اس کے مقابلہ میں اگر یہ کہا جائے کہ جی حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا مقابلہ جاری رہا اور جاہلیت کی آگ ٹھنڈی نہ ہوئی، تو اسی تناظر میں واقعہ کربلا کو بھی بیان کیا جاتا ہے،تو آپ ذرا اس پر غور فرمائیں۔ بنیاد تو آپ کے ذہن میں آ گئی نا؟ تو کیا یہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے لائے انقلاب کا کھلا انکار ہے یا نہیں؟ اور کیا یہ قرآن کا کھلا انکار ہے یا نہیں؟
نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کا مشن آپ کے وصال کے بعد:
اگر حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے مشن کو حضور کی وفات کے بعد معاذ اﷲ صحابہ رضی اﷲ عنہم نے چلنے نہ دیا اور جاہلیت کی وہی پرانی چنگاریاں…… پھر سے بھڑک اٹھیں، اختلافات کی جس آگ کو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے ٹھنڈا کیا تھا، وہ آگ پھر لگ گئی اور پھر قبیلے سے قبیلے ٹکرائے اور یہ سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ برابر کہا جاتا ہے کہ پہلے
داد…… ………… لڑا، حضور صلی اﷲ علیہ وسلم سے
پھر اس کا بیٹا ……………… معاویہ (رضی اﷲ عنہ) لڑا، حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے
پھر اس کا بیٹا ……………… یزید لڑا حسین رضی اﷲ عنہ سے
اور کربلا کا واقعہ پھر اس کے نتیجے میں واقع ہوا تو یہ ایک ایسی تشریح ہے، جو اپنے قیاس اور اس منطق سے عوام کے ذہن میں اتاری جائے تو عوام سمجھتے ہیں کہ اچھا! یہ واقعات اس طرح ہوئے، لیکن وہ یہ نہیں سوچتے کہ اگر واقعات کو اس طرح تسلیم کر لیا جائے تو ناکامی کا داغ کس پر آتا ہے؟ آپ ہی بتائیں کہ کیا پھر ناکامی کا داغ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم پر ہی نہ آئے گا؟ کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم، معاذ اﷲ اپنے مشن میں کامیاب نہیں ہوئے۔ قرآن کریم کو مانیں یا ان بیان کردہ غلط واقعات کو؟
حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی کامیابی اور اہل سنت کا عقیدہ:
دیکھیں! ہم اپنا عقیدہ صاف آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں ، ہم حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کو اس درجہ میں کامیاب اور منصور سمجھتے ہیں کہ صحابہ رضی اﷲ عنہم اور اہل بیت رضی اﷲ عنہم دونوں ہی حق اور دونوں ہی حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے فرماں بردار اور دونوں مل کر چلنے والے تھے اور عرب میں جو انقلاب آیا، وہ واقعی ہی انقلاب تھا، وہ دکھاوا نہیں تھا۔
قوموں کا اتحاد:
آپ ’’کربلا‘‘ کے اس سارے پس منظر کو جب تک نہ دیکھیں اس انداز سے، اس وقت تک بات سمجھ میں نہیں آئے گی۔ توجہ اس طرف کرنی چاہیے، عرض یہ ہے کہ جب یہ کہا جائے کہ نبی پاک صلی اﷲ علیہ وسلم نے قبائل میں جاہلیت کی آگ بجھا دی تھی، جو صدیوں سے ایک دوسرے سے دشمنی چلی آ رہی تھی اور قبائل آپس میں لڑتے رہتے تھے، اس پیغمبر انقلاب صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان سب کو ایک کر دیا۔ اگر یہ عقیدہ رکھا جائے تو قرآن اس کی تائید کرتا ہے اور اگر یہ عقیدہ رکھا جائے کہ قبیلے آپس میں دل سے نہیں ملے تھے ، اوپر اوپر سے ملے تھے۔ تو پھر یہ قوموں کا اتحاد ہو گا یا ڈرامہ؟ کیا خیال ہے؟ کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے آنے پر اگر قومیں آپس میں ایک ہوئیں تھیں تو یہ اوپر اوپر سے ہوئیں تھیں؟ دلوں میں بغض و عناد باقی تھا؟ جاہلیت کی چنگاریاں اندر ہی اندر سے سلگ رہی تھیں؟ پیغمبر جب پردے میں گئے تو وہی پرانی چنگاریاں پھر بھڑک اٹھیں اور پھر دو سلسلے قائم ہو گئے کہ علیؓ کے مقابلے میں معاویہؓ اور حسینؓ کے مقابلے میں یزید؟
میں عرض کرتا ہوں، اس فلسفہ فکر کو، اس سوچ کو جو ان کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے، آپ اس کے مجموعی نتیجے کو کیوں نہیں سامنے رکھتے؟ واقعات اور جزئیات میں کہاں تک ہم بحث کریں اور کہاں تک چلتے جائیں۔ خلاصہ یہ دیکھنا ہے کہ مشن میں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم اگر کامیاب ہیں تو آپ کے بعد آپ کی امت نے آپ کے دین کو، آپ کے مشن کو صحیح سنبھالا اور خلفائے راشدین حق پر تھے، اہلِ بیت، حضرت علی حق پر تھے اور وہ ان کے ساتھ پورے ایک ہو کر چلے، اس سے آپ کا ذہن بنے گا، آپ کا ایمان بنے گا کہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ ہمارے پیغمبر عرب کے انقلاب قائم کرنے میں سو فیصد کامیاب ہوئے۔ ایک یتیم اٹھا اور ساے عرب پر چھا گیا۔
بنو امیہ اور بنو ہاشم کے دلوں میں محبت:
وَ أَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِہِمْ (اﷲ نے ان کے دل جوڑ دیے)۔ قرآن کہے کہ اﷲ نے دل جوڑ دیے، یہ کہتے ہیں نہیں۔ یہ دو لائینیں لگی ہوئیں تھیں، ابو سفیان اس کے بعد اس کا بیٹا پھر اس کے بعد اس کا بیٹا، اور نبی کے بعد علی اور اس کے بعد حسین، یہ دونوں لائنیں ٹکرا رہی ہییں، تو اﷲ فرما رہے ہیں وَ أَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِہِمْ (اﷲ نے ان کے دل جوڑ دیے) تو بنو امیہ اور بنو ہاشم کو جوڑ دیا، ابو سفیانؓ اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو جوڑ دیا، ابو سفیان کو محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم کی غلامی میں ان کے قدموں میں بٹھا دیا، اﷲ تعالیٰ نے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو اطلاع دے دی کہ اب ان کا جوڑ جو ہے اس کا میں گواہ ہوں، حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے بتا دیا۔ اور ہم اہل سنت اسے قرآن کی روشنی میں دلوں کا ماننا کہہ رہے ہیں۔
حضرت ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کا حضور صلی اﷲ علیہ وسلم سے رشتہ:
آپ حضرت ا جو نبی پاک صلی اﷲ علیہ وسلم کی امت ہیں، یہ بات سمجھیں کہ ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کا رشتہ جو ہے حضور اکرم صلی اﷲ علیہ سے، وہ یہ کہ ابو سفیان رضی اﷲ عنہ کی بیٹی اُمّ حبیبہ رضی اﷲ عنہا حضور کی حرم محترم ہیں اور اُمّ المؤمنین ہیں۔ میں اس وقت تفصیل میں نہیں جاتا، میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اگر آپ یہ عقیدہ رکھیں کہ مخالف طاقتیں مجبور ہو کر ساتھ مل گئیں تھیں، دل سے ساتھ نہیں تھیں، بنو ہاشم سے برابر دشمنی تھی، لیکن جو لوگ آ کر جھک گئے، وہ اوپر اوپر سے سے تھے، اندر سے نہیں تو ایسے معاملے میں کیا کیا جائے؟ کیا اتنے بڑے انقلاب کو محض انسانی سوچ کہا جا سکتا ہے۔
میں آپ حضرات سے التماس کرتا ہوں کہ آؤ ہم اﷲ کی کتاب سے فیصلہ لیں، کہ اﷲ کی کتاب کیا کہتی ہے۔ دسواں پارہ، سورۃ انفال، آیت: ۶۲، ذرا اس پر غور کریں اﷲ تبارک و تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا:
اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’ وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا اَنْ یَّخْدَعُوْکَ……الخ ‘‘ اگر یہ کافر لوگ ارادہ کریں کہ تجھے دھوکہ دیں، یعنی اندر سے تو مسلمان نہ ہوں اور اوپر اوپر سے تیرے ساتھ چلتے رہیں، تیرے ساتھ ساتھ پھریں، ’’فَاِنَّ حَسْبُکَ اللّٰہُ ‘‘ تو تجھے اﷲ کافی ہے۔ اﷲ تمھارے ساتھ ہے، اﷲ تعالیٰ ان کے دھوکے کو کامیاب نہیں ہونے دے گا، اﷲ تیرے ساتھ ہے۔ اﷲ فرماتے ہیں، حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو کہ تو میرا پیغمبر ہے، اگر یہ ارادہ کر لیں کہ یہ تجھے دھوکہ دیں تو اﷲ تجھے کافی ہے۔ اﷲ نے تجھے زور دیا، تجھے اﷲ نے قوت دی، اپنی مدد دے کر ’’ایَّدَکَ بِنَصْرِہٖ وَ بالمؤمنین ‘‘ اور اﷲ تعالیٰ نے تیری مدد کی مومنین کو تیرے ساتھ لگا کر۔
اگر اس نبی کے ساتھ لگنے والے مومنین نہیں تو قرآن کیوں کہہ رہا ہے ’’ وَ بالمؤمنین ‘‘ یعنی مومنین کے ساتھ تیری مدد کی۔ کاش کہ(لوگ) اسے سمجھ پاتے۔
حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے دور میں حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ نے ان کی خلافت کا انکار نہیں کیا:
جب علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ خلیفہ ہوئے، حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ نے ان کی خلافت کا انکار نہیں کیا کہ آپ خلافت کے اہل نہیں، معاذ اﷲ۔
حضرت علی رضی اﷲ عنہ اپنی شان میں، اپنے مقام میں، اپنے تعارف میں اور قربانیوں کے لحاظ سے اس مقام پر تھے کہ ان کی شان میں کوئی بات اٹھا ہی نہیں سکتا تھا تو حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ نے یہ کہا ! کہ میرا ایک ہی آپ سے مطالبہ ہے کہ میں یہاں حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ کا مقرر کیا ہوا ہوں، انھوں نے مجھے گورنر مقرر کیا عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بعد، تو اب میں ان کا وفادار ہوں، اس درجہ میں کہ جب تک عثمان کے قاتلوں کو پکڑا نہ جائے، جب تک آپ عثمان رضی اﷲ عنہ کے قاتلوں کو گرفتار نہ کریں، میں بیعت نہیں کروں گا، تو حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ نے ان کی بیعت سے انکار کیا، مقابلے میں خلیفہ ہونے کا اعلان نہیں کیا۔ عام لوگ جو سمجھتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ ان کے مقابلے میں خود خلافت کے مقام پر آئے، ان کے خطوط میں نے مطالعہ کیے ہیں، وہ فرماتے ہیں حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے:
اے علی! مجھے دو خلیفوں نے آپ سے پہلے گورنر مقرر کیا ہے شام کا، تو میں اپنے اسی حال پر کھڑا ہوں۔ یعنی میں بطور گورنر عثمان کے کام کروں گا، جب تک کہ ان کے قاتلوں کو پکڑا نہ جائے، ان کی وفا داری کا تقاضا ہے کہ یہ جو صوبوں کے عامل ہیں، صوبوں کے جو نمائندے ہیں، وہ اپنے مرکز کو اس طرح کمزور نہ کریں کہ مرکز کو آ کر کوئی تباہ کر دے؟ شہید کر دے اور کوئی اٹھے نہ، تو میں خون عثمان رضی اﷲ عنہ کے لیے اٹھوں گا۔
قصاص عثمان رضی اﷲ عنہ میں خلیفہ راشد حضرت علی رضی اﷲ عنہ کا مؤقف:
حضرت علی رضی اﷲ عنہ کہتے تھے کہ وہ باغی جو عثمان رضی اﷲ عنہ پر حملہ آور ہوئے، اس قد ر وہ پھیلے ہوئے ہیں کہ ابھی تو میں ان پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا، تو حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے یہ الفاظ نہج البلاغہ میں محفوظ ہیں کہ ’’یملکوننا و لا نملکھم ‘‘ کہ جو عثمان رضی اﷲ عنہ کے قاتل ہیں، اتنے حالات پر قبضہ کیے ہوے کہ ان کی بات چلتی ہے، میری بات نہیں چلتی، ابھی قوت اتنی نہیں ہوئی۔ تو حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں کہ اگر آپ اتنے زیاد ہ کمزور ہیں، کہ ان کو نہیں پکڑ سکتے تو پھر ہمیں موقع دیں، میں پکڑتا ہوں، لیکن وہ اور صوبہ میں تھے، یہ اور صوبہ میں تھے، جب کہ اس پر اختلاف ہوا۔
حضرت علی رضی اﷲ عنہ کا حضر ت معاویہ رضی اﷲ عنہ کے متعلق فرمان:
اس موقع پر حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کی بصیرت پر قربان جائیں، انھوں نے صاف کہا، فرمایا: کہ میرا اور معاویہ (رضی اﷲ عنہ) کا معاملہ کیا ہے؟ ربنا واحد ……یعنی ہمارا رب ایک، ہمارا نبی دونوں کا ایک، ہمارا دونوں کا قبلہ ایک، ہماری دعوت فی الاسلام ایک، ہم ایک ہیں۔ ‘‘
حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ تو کہیں ’’الامر واحد‘‘ اور یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ مجالس میں،حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ کے خلاف اتنی غلیظ باتیں کہی جاتی ہیں اور اتنا زہر اگلا جاتا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ کی پوری تاریخ اس کا انکار کرتی ہے اور حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی پوری بصیرت اس کا انکار کرتی ہے۔
٭ ہمارا رب ایک ہے ٭ہمارا نبی ایک ہے ٭ ہمارا قبلہ ایک ہے
٭ہماری کتاب ایک ہے ٭ہماری دعوت فی الاسلام ایک ہے۔
الامر واحد انما الاختلاف ما وقع فی دم عثمان واللّٰہ یعلم انی منہ بری (نہج البلاغہ، ج:۲، ص: ۴۱۱)
اختلاف سارا خون عثمان رضی اﷲ عنہ کے بارے میں اور حضرت علی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں ، خدا جانتا ہے، میں اس سے بری ہوں۔
حضرت حسن رضی اﷲ عنہ کی جانشینی اور حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ سے صلح:
تو جب حضرت علی رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے، تو جو حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی پارٹی کے لوگ تھے، انھوں نے اپنا نیا امیر حضرت حسن رضی اﷲ عنہ کو بنایا۔ حضرت حسن رضی اﷲ عنہ کے خلافت پر آتے ہی کچھ ماہ گزرے تو حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ اور حضرت حسن رضی اﷲ عنہ نے صلح کر لی اور پھر ایک ہو گئے۔ تو جب ایک ہو گئے تو حضرت حسن رضی اﷲ عنہ نے جب معاویہ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر صلح کر کے اپنی حکومت ان کے سپرد کر دی تو حسین رضی اﷲ عنہ بھی ساتھ تھے، آج ہم حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کو کربلا کے ذکر پر اپنی عقیدت کے پھول پیش کر رہے ہیں، تو ضروری ہے کہ آپ جانیں کہ حضرت حسین رضی اﷲ عنہ اپنے بھائی حضرت حسن رضی اﷲ عنہ کے ساتھ مل کر حضرت حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ کو قبول کر چکے ہیں۔ اب جو لوگ حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ کی شان میں بے ادبی کرتے ہیں، کیا ان کی بے ادبی سے حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کی روح ان سے خوش ہو گی؟
حضرت حسن رضی اﷲ عنہ نے دل سے حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کی خلافت کو قبول کیا تھا؟
کبھی لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ جی ’’تقیہ‘‘ کے طور سے قبول کیا تھا، اندر سے نہیں، صرف اوپر سے۔ تقیہ کے طور پر غلط حکومتوں کو قبول کیا جا سکتا ہے، اس لیے علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے ان کو قبول کیا تقیہ کے طور پر، یہ بات جو کہی جاتی ہے کہ جی تقیہ کے طور پر قبول کیا تھا، تو پھر کیا سوال یہ نہیں اٹھتا کہ ’’حضرت حسین رضی اﷲ عنہ نے تقیہ کیوں نہ کیا‘‘ اگر ایسے حکمرانوں کے سامنے تقیہ کر کے ان کی اطاعت کی جا سکتی ہے تو پھر حسین رضی اﷲ عنہ نے کیوں نہ کی؟ اور اگر نہیں کی جا سکتی تو علیؓ نے کیوں کی؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب بارہ سو سال سے یہ لوگ نہیں دے سکے، جو صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم پر اور خاص طور پر ابوبکر و عمر رضی اﷲ عنہما پر اعتراض کرتے ہیں، تو مسئلہ بالکل دو ٹو ک ہے۔ آپ سے سادہ زبان میں پوچھا جائے، ایک ہی مسئلہ ہے، کہ اگر حکمران غلط ہوں، تو ان کو قبول کرنا جائز ہے کہ نہیں؟
اگر جائز ہے تو حسین رضی اﷲ عنہ نے کیوں نہ کیا؟ اور اگر ناجائز ہے تو علی رضی اﷲ عنہ نے کیوں کیا؟ بھائی میں آپ سے پوچھتا ہوں، میرا سوال سمجھ آیا نا؟
حضرت حسن رضی اﷲ عنہ کی وفات اورحضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ سے حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کے تعلقات:
حضرت حسن رضی اﷲ عنہ نے جب صلح کر لی تو کچھ عرصہ بعد حضرت حسن رضی اﷲ عنہ کی وفات ہو گئی، ایک پراپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ جی حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ نے معاذ اﷲ کسی عورت کے ذریعے سے زہر دلوایا تھا۔، تو بھائی اگر یہ واقعہ ہو تو آپ کی عقل کیا کہتی ہے؟ اگر یہ واقعہ ہو تو پھر حسین رضی اﷲ عنہ جو حضرت امام حسن کوحسن رضی اﷲ عنہ کے بھائی تھے، وہ مدینہ میں ہی رہیں گے؟ پھر وہ معاویہ کو چھوڑیں گے نہیں؟ پھر تو وہ چھوڑ جائیں گے، صلح دونوں بھائیوں نے کی تھی، تو پھر حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کی غیرت قبول کرے گی کہ وہ وہیں رہ کرحضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ کے وظیفے قبول کریں، تو حضرت معاویہ کے دور میں آخرت تک حضرت حسین رضی اﷲ عنہ بھی رہے اور جب حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا تو حضرت حسین رضی اﷲ عنہ وہیں رہ رہے تھے، معلوم ہوا کہ ان کی کوئی لڑائی حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ سے نہیں، جب اگلا جانشین ان کا یزید ہوا تو حضرت حسین رضی اﷲ عنہ نے پھر سفر کیا کہ اب وہ عراق چلیں۔
حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ کی وقتِ وفات یزید کو حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کے متعلق وصیت:
حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ نے جو وصیت کی ہے، وہ مؤرخین نے کتابوں میں محفوظ کر لی ہے اور شیعہ عالم ملا باقر مجلسی کی کتاب جلاء العیون (ج۲،ص: ۵۰۹) میں بھی حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ کی یزید کو حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کے متعلق وصیت ملتی ہے۔
انھوں نے کہا بیٹا! میں بڑے لوگوں کی جو اولاد ہے، ان کے بارے میں، تجھے ایک بات کہتا ہوں کہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کی جو اولاد ہے، وہ آئیں گے ہی نہیں سیاسی قیادت میں، کیونکہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو مشورہ دیا گیا تھا کہ آپ کا بیٹا عبداﷲ بن عمر علم میں بہت اونچا ہے، علم کا پہاڑ ہے اور نیک بھی بہت ہے، تو فرمایا بھائی اگر وہ نیک ہے، تجربہ کار ہے، ان سے مشورہ لے لیں لیکن ا س کو خلیفہ نہیں بنانا، قیادت میں نہیں لانا۔ انھوں نے کہا جی وہ تو بڑا اہل ہے اور قابل ہے۔ فرمایا کہ ہمارے خاندان کا یہ ٹھیکہ ہے؟ کہ یہی کام کریں؟ اور لوگوں کو بھی کہو اور بھی کریں، اپنے خاندان کی طرف سے میں اس قربانی میں سب سے آگے رہا ہوں، ٹھیک ہے میں کر گیا، اب ہم یہ بوجھ نہیں اٹھائیں گے۔ عبداﷲ بن عمر جو ہے، ان سے مشورہ لے لیا کرو، شوریٰ میں لے لو لیکن آگے اس کو نہیں کرنا۔ تو حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ نے کہا (یزید کو) کہ عبداﷲ بن عمر اس مقام کے ہیں کہ آگے وہ آئیں گے ہی نہیں، ہاں حسین (رضی اﷲ عنہ) جو ہیں، وہ ممکن ہے کہ آگے آئیں۔
لیکن میں تمھیں صرف ایک بات کہتا ہوں کہ اگر تو حالات پر قابو پالے تو حسین رضی اﷲ عنہ کے بارے میں تم رشتہ رسالت کو یاد رکھنا کہ بیٹا کن کا ہے، نواسہ کن کا ہے، فاطمہ کی گود نے اس کو پالا ہے۔ یہ یاد رکھیں، اب غیب کا علم تو نہیں، اس لیے یزید کے کسی کردار کی وجہ سے ہم حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ پر انگلی نہیں اٹھا سکتے۔
حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کا سانحہ ارتحال:
جب ولید نے کہا تھا، جو والی تھا مدینہ کا، کہ حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہو گیا اور ان کا بیٹا یزید، جو ولی عہد مقرر کیا ہوا تھا، اس نے چارج سنبھال لیا ہے تو اِنا للّٰہ و انا الیہ راجعون سب نے پڑھا۔ حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ کی وفات پر سب نے دل سے اظہار افسوس کیا۔ تو اس نے جب میٹنگ کی اور میٹنگ میں جن کو بلایا گیا، سارے آ گئے۔ حضرت حسین رضی اﷲ عنہ بھی آ گئے، لیکن عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہما نہیں آئے، عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہما نے کہا کہ میں آج نہیں آ سکتا کل آؤں گا، یا دیکھا جائے گا۔ حضرت حسین رضی اﷲ عنہ آ گئے، حضرت حسین رضی اﷲ عنہ نے کہا یہ بڑا اہم مسئلہ ہے، ہمیں کچھ سوچنے کا موقع دو، ولید نے کہا کہ ہاں کوئی بات نہیں کل سہی، لیکن اس کو نہیں پتہ تھا راتوں رات عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہما چلے جائیں گے۔ تو اگلے دن ولید کو اطلاع ہوئی کہ عبداﷲ بن زبیر تو مل نہیں رہے۔ اب حیران ہیں کہ وہ جو چلے گئے تو سلطنت کو خطرہ ہو گا،تو اگلا سارا دن وہ انھی کو تلاش کرتے رہے کہ ہیں کہاں۔ سارا وقت اسی پر لگا دیا کہ کدھر گئے اور وہ اپنا قافلہ لے کر نکل گئے، کہاں گئے، ان کو پتہ نہ چل سکا۔
حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کی مدینہ سے مکہ روانگی:
لوگ بہت کم اس کو بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسین رضی اﷲ عنہ مدینہ منورہ سے جب چلے تو آپ نے رخ عراق کی طرف نہیں کیا،، مکہ کی طرف کیا اور آپ کے اور عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہما کے سفر میں کچھ ہی فاصلہ تھا۔
اگلی رات آ گئی تو ، آدھی رات حسین رضی اﷲ عنہ بھی نکل گئے ۔ حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کو یہ پتہ نہیں تھا کہ عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کدھر گئے ہیں۔ عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو پتہ نہیں تھا کہ حضرت حسین رضی اﷲ عنہ بھی آ رہے ہیں، اور حالات بتاتے ہیں، تاریخ بتاتی ہے۔ اتفاق یہ ہے کہ دونوں تقریباً ایک ہی وقت میں یا وقت کے قریب حرم کعبہ میں داخل ہوئے۔ تو نیت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کی بھی تھی کہ میں کعبہ میں چلا جاؤں اور حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کا ارادہ بھی یہی تھا۔ تو وہ واقعات بتاتے ہیں کہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ تو اس لیے کہ باقی وقت عبادت میں گزاروں۔حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کا ارادہ یہ تھا کہ مکہ سے ہو کر، اﷲ کے ہاں دعا کر کے پھر عراق کی طرف جائیں، تو جو مشہور ہے کہ ان کو بڑے بڑے لوگوں نے روکا کہ ادھر نہ جائیں، وہ بھی اتفاق سے مکہ آ گئے یعنی عبداﷲ بن عمر، عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما آ گئے، تو یہاں بھی انھوں نے حضرت حسین رضی اﷲ عنہ سے کہا کہ آپ ادھر نہ جائیں۔ کیونکہ عراق والوں میں وفا نہیں، وہ آپ کو خراب کریں گے، آپ کو سیاست میں لائیں گے، تو آپ یہیں رہیں، اﷲ کی عبادت کرتے کرتے زندگی گزاریں مکہ میں، خانہ کعبہ میں، حرم کعبہ سے بہتر اور کون سی جگہ ہو سکتی ہے۔
حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کا سفر عراق:
انھوں نے روکا بھی، لیکن حضرت حسین رضی اﷲ عنہ (کوفیوں کے) خطوط پر اعتماد تھا، انھوں نے کہا میں چلتا ہوں، اب وہ مکہ سے چلتے ہیں۔ اور اب ان کارخ جو ہے وہ عراق کی طرف ہے، لیکن اس وقت سڑکیں پکی نہیں تھیں، اور نہ کوئی نئے راستے معروف تھے، جس طرح ہمارے ہاں ہے، کہ لندن جانا ہے تو M6سے جانا ہے یا Oneسے، اس طرح اس وقت راستے نہیں تھے، تو تمام صحراؤں میں ادھر سے گزریں اُدھر سے گزریں، اس وقت کا جو زمانہ تھا، اس کے مطابق آدمی کو پکڑنا بڑا مشکل ہوتا تھا، سڑکوں پر جانے والوں کو پکڑا جا سکتا ہے، لیکن جو سڑکیں ہی نہیں، جنگل ہیں یا صحرا ہیں سارے، وہاں کوئی کسی کو کیا پکڑے؟
قافلۂ حسین مقام صرف پر:
اب حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کا قافلہ جو چلا عراق کی طرف تو ادھر جو مقرر کیا ہوا تھا یزید نے، عراق کے لیے گورنر ابن زیاد، اس کو بڑی فکر تھی کہ حسین کس طریقے سے اور کہاں سے آئیں گے۔ لیکن حسین چل پڑے اور چلتے چلتے کسی طرف سے جا رہے ہیں
حسینی قافلہ صحرا کی جن راہوں سے گزرا تھا
وہ راہیں آج بھی اس قافلے کو یاد کرتی ہیں
تاریخ میں ان کے نقوش کیا ہیں، اس طرح جانیے کہ جب آ رہے تھے تو راستے میں صَرْف (گاؤں) کا ایک مقام ہے۔ صرف کے مقام پر جب حسین رضی اﷲ عنہ پہنچے، تو ابن زیاد کے جو کارندے تھے، مقرر کیے ہوئے تھے کہ حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کدھر جاتے ہیں، ان میں پہلا قافلہ حُر تمیمی کا تھا، اسے ایک ہزار فوجی دے کر بھیجا گیا تھا کہ تونے ان کو روکنا ہے، تو حر تمیمی صرف کے مقام پر حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کے سامنے آ گیا، اب یہاں سے تقابل شروع ہوتا ہے کہ کس طرح آمنا سامنا ہوا۔
حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کی حُر سے ملاقات:
اتفاق یہ کہ یہ جو حُر تھا، وہ بھی عراقی تھا۔ اور جو خطوط امام حسین رضی اﷲ عنہ کو لکھے گئے تھے مدینہ منورہ میں، بلکہ حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ کے آخری دنوں میں لکھے گئے تھے، ان خطوط میں لکھا خط اس کا بھی تھا کہ آپ ادھر آئیں، تو حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کو اس کا وہ خط یاد آ یا، اور کہا : حُر تونے خط نہیں لکھا تھا، اور تم نے کیا خود نہیں مجھے بلایا۔ اور اگر اب تم نے رائے بدل دی ہے تو میں بھی رائے بدلتا ہوں، مجھے مدینہ واپس جانے دو، حُر کو خیال تھا کہ اگر میں نے جانے دیا تو ابن زیاد کیا کہے گا، کیونکہ میں تو ملازم ہوں، میری Jobجائے گی۔ تو وہ آگے ہو گیا کہ میں جانے نہیں دوں گا۔ تو حضرت حسین رضی اﷲ عنہ نے شمال کی جانب رخ کیا کہ میں قادسیہ چلا جاؤں، تو جب وہ قادسیہ جانے کے لیے چلے تو ابھی راستے میں ہی تھے، قادسیہ پہنچنے ہی والے تھے کہ ان کو راستے میں پتہ چلا کہ قادسیہ میں عمرو بن سعد، ابن زیادہ کا نمائندہ ، وہ آگے ایک فوج لے کر آیا ہوا ہے، تو پھر انھوں نے قادسیہ پہنچنے سے پہلے ہی اپنا رخ بدل لیا اور قادسیہ سے تقریباً دس میل کے فاصلے پر کربلا ہے، تو حضرت حسین رضی اﷲ عنہ نے ادھر رخ کر لیا اور تھکے ہوئے تھے
سچ ہے کہ خاک کھینچتی ہے اپنی خاک کو
قضا و قدر میں پہلے سے ہی تھا کہ کربلا میں آئیں گے۔
حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کربلا میں:
تو حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کربلا میں، ادھر عمرو بن سعد کو جو قادسیہ میں تھا۔ قادسیہ انھوں نے آنا تھا، قادسیہ ابھی پہنچے نہیں، تو اگلے دن تلاش کرتا کرتا وہ بھی پیچھے مڑا تو وہ بھی کربلا آ گیا، جب کربلا میں آ گیا تو آتے ہیں حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کے قافلے کے سامنے ہوا۔ اور حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کو آواز دی، جب وہ سامنے آئے تو کہا کہ ہمیں گورنر ابن زیاد نے بھیجا ہے اور ہم اس کی طرف سے مامور ہیں، اور باقاعدہ السلام علیکم کہیں، اور بڑے احترام سے بولا کہ ہمیں اس نے بھیجا ہے اور ہم ایک سرکاری حیثیت میں آئے ہیں، ہمیں (ابن زیاد) نے کہا ہے کہ ان کو روکو۔ یا میرے پاس لے آؤ۔
حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کی تین تجاویز:
اس نے حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کو کہا کہ آپ اب بتائیں، ہم تو مامور ہیں، ہم تو لے کر ہی جائیں گے، تو حضرت حسین رضی اﷲ عنہ نے (عمرو بن سعد کو)فرمایا کہ میری تین تجویزیں ہیں، (جو سنی، شیعہ دونوں کتابوں میں درج ہیں) کہ:
اگر آپ مجھے روکتے ہیں، (۱) تو مجھے واپس جانے دو، لڑنا میرا مقصود نہیں، نہ میں لڑنے کے لیے آیا ہوں (۲) اگر یہ تم نہیں مانتے تو مجھے کسی سرحدی علاقے میں بھیج دو، میں زندگی وہیں بسر کروں اور اگر کبھی لڑنا پڑے تو کفار کے ساتھ لڑتے ہوئے اپنی جان جان آفرین کو دوں (۳) تم میرے راستے میں رکاوٹ نہ بنو، میں شام جاتا ہوں یزید کے پاس خود جاتا ہوں۔(شیعہ کتاب مقتل الحسین، ص: ۱۰۰)
مطلب یہ تھا کہ اگر وہ میری شرائط مان لے تو میں اس کی حکومت کو مان لوں گا، میرے بھائی حضرت حسن اور حضرت معاویہ بھی تو ایک دوسرے کے پاس پہنچے تھے اور مسئلہ حل ہو گیا تھا، تو میں حضرت معاویہ کے بیٹے کے پاس جانے کو تیار ہوں، تو حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کی جو تین تجویزیں تھیں، اس میں سے آخری تجویز کہ مجھے یزید کے پاس شام میں خود جانے دو، میں بات کروں گا اس طرح، جس طرح میرے بڑے بھائی اور حضرت معاویہ کے درمیان بات ہوئی تھی، اب بتائیے کہ حضرت حسین رضی اﷲ عنہ سے زیادہ کوئی امن پسند ہو سکتا ہے؟ کہ انھوں نے فتنے سے، خون ریزی سے، لڑائی جھگڑے، ہر چیز سے بچتے ہوئے( یہ تین تجاویز دیں)، جس نے حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کی یہ تینوں تجویزیں سنیں، وہ حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کے بارے میں ایک لمحہ کے لیے بھی یہ تصور نہیں کرسکتاکہ وہ اقتدار کے طالب تھے، ایک لمحہ کے لیے وہ تصور نہیں کر سکتا کہ خون ریزی کو وہ پسند کرتے تھے یا لڑنا ان کا مزاج تھا۔
جو لڑنے کے لیے نکلے، کیا وہ شرطیں پیش کرتا ہے؟
تو حضرت حسین رضی اﷲ عنہ نے شرطیں پیش کیں، کہ تم اگر میرے سفر پر راضی نہیں کہ میں عراق میں آؤں، تو تم مجھے واپس مدینہ جانے دو، میں وہیں رہ لوں گا، اگر یہ شرط منظور نہیں تو مجھے اسلامی سلطنت کے بارڈر پر کسی جگہ رہنے دو، تاکہ وہاں کوئی جہاد کی نوبت آئے تو میں اس کے ساتھ اپنا وقت پیش کروں، نہیں تو یزید کے پاس مجھے لے چلو، میں براہِ راست بات کرتا ہوں، تو انھوں نے تین شرطیں پیش کیں، تو جو لڑنے کے لیے نکلے وہ شرطیں پیش کرتا ہے؟ نہیں، لیکن ان کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ نہیں بیعت کریں یزیدکی،اور ہمارے ہاتھ پر کریں۔ یزید سے بات کرنا آسان تھی، وہ یزید کے پاس جا کر شرطیں لگاتے، کہ اپنی زندگی اس طرح بسر کرو، اس طرح شریعت قائم کرو، تو اگر یزید مان لیتا تو کیا معلوم صلح ہو جاتی؟ کیا خیال ہے؟ تو حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کا اختلاف کیا تھا؟
میدان کربلا میں یزید کی بیعت سے انکار یا یزیدیوں کی بیعت سے انکار؟ …… (یزیدیوں کی بیعت سے انکار)، یزیدی کون ہیں؟ جو اس کے کارندے تھے، عبید اﷲ بن زیاد(شمر وغیرہ)، یہ سارے جو تھے، یزید یا یزیدی تھے؟
یزید اور یزیدیوں میں فرق:
تو انکار تھا یزیدیوں کی بیعت کا، معرکہ تھا یزید سے، تو حضرت حسین رضی اﷲ عنہ جو تھے، اب کس مقام پر تھے،؟ مقام شجاعت تو تھا ہی، اب مقام غیرت میں داخل ہو گئے، مجاہدین کو میدان میں ایسا موقع بھی ملتا ہے کہ پھر ایک غیرت کا مسئلہ بن جاتا ہے، حضرت حسین رضی اﷲ عنہ مقام غیرت پر آ گئے، جب وہ کہتے ہیں کہ مجھے اس کے پاس لے چلو، میں اس سے بات کروں، تو روکنے والے تم کون ہو؟ تو اس وقت آپ اپنے ذہن میں یہی بات رکھیں کہ حضرت حسین رضی اﷲ عنہ لڑنے کے لیے نہیں نکلے تھے، یہ میں نے حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کی بہادری کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے، یہ ایک چارٹ ہے، (ڈاکٹر صاحب نے اپنا ایک بنایا ہوا چارٹ دکھاتے ہوئے فرمایا) کہ اس کے اوپر ایک عنوان ہے کہ’حضرت حسین رضی اﷲ عنہ نہ جنگ کے لیے نکلے، نہ آپ نے اس کے لیے اپنے ساتھ کسی کو نکلنے کی آواز دی اور نہ آپ نے کسی کے لیے اپنے ساتھ جنگ کے لیے جانے کا اظہار کیا، پورے سفر میں، کہ ہم جنگ کے لیے جا رہے ہیں، کیا کوئی بیوی بچوں کو لے کر جنگ کے لیے جاتا ہے؟‘‘
حضرت حسین رضی اﷲ عنہ نقل مکانی کے لیے نکلے تھے:
اس وقت آپ ذرا یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ حضرت حسین رضی اﷲ عنہ، لڑنے کے لیے نکلے ہی نہیں، چونکہ پاکستان میں اکثر مجالس محرم میں، یہ بات سنی گئی، لوگوں نے آ کر ہمیں بتایا، کہ جی کہتے ہیں دیکھو ناں، آخر میں علی کا بیٹا ہی نکلا نا یزید کے مقابلے میں، ابو بکر کا بیٹا نہیں نکلا، حضرت عمر کا کوئی بیٹا نہیں نکلا، عثمان کا کوئی بیٹا نہیں نکلا، تو علی کا بیٹا ہی نکلا نا، تو لوگ حیران ہو کر پوچھتے ہیں کہ جی بات تو ٹھیک ہے، کہ یہی نکلا، اور میں کہتا ہوں اﷲ کے بندو!، وہ بھی نہیں نکلے۔ حضرت حسین رضی اﷲ عنہ بھی نہیں نکلے، وہ نقل مکانی کے لیے آ ئے تھے، کہ مدینہ میں اب ہم نہیں رہیں گے، کیونکہ حضرت معاویہ رضی اﷲ عنہ چلے گئے، انھیں کے ساتھ اتحاد کر کے ہم آئے تھے، اب جب وہ فوت ہو گئے ہیں، ہم بھی ادھر آ جاتے ہیں، تو حضرت حسین رضی اﷲ عنہ آ رہے تھے نقل مکانی کے طور پر، فیصلہ انھوں نے یہاں کرنا تھا، مشورہ انھوں نے یہاں کرنا تھا کہ اب ہم کیا کریں۔
شمر ملعون کا ابن زیاد ملعون کو مشورہ:
اس موقع پر شمر بھی تھا ابن زیاد کے پاس، اس نے کہا ابن زیاد کو مخاطب کرتے ہوئے کہ دیکھنا یہ موقع پھر نہیں آئے گا، اس وقت حسین (رضی اﷲ عنہ) تمھارے قابو میں ہیں، تواگر وہ کسی طرح چلے گئے تو پھر انتشار ہو سکتا ہے، اس لیے ان کو چھوڑنا نہیں، اور ابن زیاد جو خوش، اس کو چقمہ دیا شمر نے، اور کہا ابن زیاد! اس وقت یزید کی نظرِ انتخاب تم پر ہے، تم کو جو اس صوبے کا بڑا بنایا، اگر حسین( رضی اﷲ عنہ) کی اور یزید کی صلح ہو گئی تو پھر یہاں حسین (رضی اﷲ عنہ) کا کام چلے گا۔
ابن زیاد ملعون نے حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کی تینوں تجاویز مسترد کر دیں:
ابن زیاد نے کہا ، ان کو پیغام دو کہ یزید کی بیعت کریں، وہ بھی ابن زیاد کے ہاتھ پر، تو حسین رضی اﷲ عنہ کو میرے پاس لے آؤ، اگر وہ میرے ہاتھ پر یزید کی بیعت کر لے تو پھر ان کو رہا کر دیا جائے گا، اور یہ خود شام جا کر بیعت کر لیں۔ اب زیاد تو خود بڑا بدنام قسم کا آدمی تھا، اور پھر حسین رضی اﷲ عنہ، جو پیغمبر کا نواسہ ہے، اس کے سامنے بطور گرفتار کے پیش ہو ، تو حضر ت حسین رضی اﷲ عنہ مقام غیرت میں آ گئے اور انھوں نے وہاں پر ایک تقریر بھی کی، تو حضرت حسین رضی اﷲ عنہ نے بات جس پر ختم کی، کہاکہ مجھے موت منظور ہے لیکن میں ابن زیاد کے پاس جاؤں اور اس کے ہاتھ پر بیعت کروں یہ نہیں۔ کیونکہ یزید کی اور یزیدیوں کی بات میں فرق ہے۔
دیتی رہے گی درس شہادت حسینؓ کی
آزادیٔ حیات کا یہ سرمدی اصول
چڑھ جائے سر تیرا نیزے کی نوک پر
لیکن یزیدیوں کی اطاعت نہ کر قبول
تو یزید کی اطاعت پر اتنا انکار نہیں، جتنا یزیدیوں کی اطاعت پر کہ یزیدیوں کی اطاعت نہ کر قبول۔ دو تاریخ کو یہ (عمرو بن سعد اور ان کی فوج) اترے تھے، لیکن انھیں آتے جاتے تقریباً ایک ہفتہ ہو گیا۔
دس محرم کو پیش آنے والے واقعات:
تو اب 10(دس) تاریخ آ گئی، محرم کی…… آج کیا ہے؟ دس تاریخ ہے محرم کی۔ نو تاریخ تک کے واقعات کو میں نے ایک ترتیب سے بیان کر دیا اب جو شمر تھا، اس نے کہا تھا، ابن زیاد کو کہ میں حسین ؓ کے ساتھ لڑنے اور قاتلانہ حملے کے لیے تیار ہوں، لیکن میری ایک شرط ہے کہ میرے چار بھانجے کربلا میں حسینؓ کے ساتھ ہیں، کہ میری بہن (ام البنین اس کا نام تھا)وہ حضرت علی ؓ کی بیوی تھی، ام البنین کے جو بیٹے تھے، وہ شمر کے بھانجے تھے، عبید، عباس، جعفر، عثمان، یہ ان کے نام تھے، تو شمر نے ابن زیاد کو کہا کہ میں حملے کے لیے تیار ہوں، لیکن تو ایک سرکاری تحریر دے ، کہ کربلامیں حسینؓ کے ساتھیوں پر جب ہمارا قبضہ ہو تو ان چار کی جان بخشی کی جائے گی اور ان کو امن کے ساتھ ، خطرے کے بغیر وہاں سے نکالا جائے گا، ابن زیاد نے لکھ کر بھیج دیا کہ ان چار کو قیدی نہ بنایا جائے، نہ قتل کیا جائے، ہم امان دیتے ہیں۔ تو وہ چٹھی شمر کو پہنچ گئی، یہ زرہ بکتر پہنے ہوئے لڑائی کے لیے تیار ہو گیا، اب اس بدقسمت کے نصیب میں اپنے ہاتھوں کو امام حسینؓ کے خون سے رنگین کرنا مقدر تھا، اس نے آ کر اعلان کیا کہ کربلا میں یہ جو چار میرے بھانجے ہیں، وہ باہر نکل آئیں، ان کے لیے امان کا اعلان کرتا ہوں، کل بہتر نفوس تھے، وہ چاروں جو ہیں، وہ آ گئے، انھوں نے کہا ہمیں تمھاری امان کی ضرورت نہیں، ہم اﷲ کی امان میں جائیں گے، ہم اپنے بھائی حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کے ساتھ نکلے ہیں اور ان کے ساتھ ہی جا مریں گے۔ اتنے میں عصر کا ٹائم ہو گیا، اور پھر عربوں کی روایات ہے کہ رات کو لڑتے نہیں تھے ۔
حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کا کربلا میں آخری خطبہ:
یہ وہ خطبہ ہے جو حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ نے کربلا میں دیا، اس کے بعد جامِ شہادت نوش فرمایا۔ انھوں کہا کہ: ’’جو مجھے نہییں جانتا، وہ مجھے جان لے کہ میں پیغمبر اسلام کا نواسہ ہوں، (مطلب یہ تھا کہ جس کا تم کلمہ پڑھتے ہو اور تمھاری اذانوں میں جس کا نام گونجتا ہے، میں اس کا نواسہ ہوں)، میں علی ؓ کا بیٹا ہوں، میں حسنؓ کا بھائی ہوں، میں جعفرؓ کا (جو حضرت علی ؓ کے بڑے بھائی تھے) بھتیجا ہوں، میں فاطمہؓ کی گود کا پروردہ ہوں اور میں نے اب تک اپنے ہاتھ سے کسی کو مارا نہیں، کہ میرے ذمہ خون دینا ہو، میں نے اب تک زبان سے کوئی ایسا وعدہ نہیں کیا، جس کو میں پورا نہ کر سکوں، اور میری زبان پکڑی جا سکے، میں اس کے علاوہ کہتا ہوں کہ میرے نانا کی زبان سے سننے والے کئی صحابی اب بھی موجود ہیں، جنھوں نے پیغمبر کی زبان سے سنا کہ حسن و حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہوں گے، (جنت میں جو بڑی عمر کے لوگ گئے، ان کے سردار تو ابوبکر و عمر ہوں گے وہ اور مسئلہ ہے۔ لیکن جو دنیا سے جوانی میں گئے، اگرچہ حضرت حسن و حسین جوانی میں نہیں تھے لیکن اﷲ تعالیٰ سب کو بڑھاپے سے نکال کر جوانی میں جنت میں داخل کر ے گا، تو کہا) تم میں ایسے بھی لوگ ہوں گے، جنھوں نے پیغمبر کی زبان سے سنا ہو گا، کہ میں وہی ہوں میں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس کی وجہ سے تم مجھ پر تلوار اٹھاؤ، میں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا اور میں یہ حجت جو ہے، اسی دن جو دن آنے والا ہے، (مطلب یہ کہ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ ، اس وقت سے ڈرو جب ہر کسی کو خوف ہو کہ ایک دن کھڑا ہونا ہے۔‘‘
شمر لعین کا حضرت حسین رضی اﷲ عنہ پر ظلم:
پھر دس محرم کو حضرت حسین رضی اﷲ عنہ نے جو اس وقت مقام غیرت میں تھے، کہا کہ میں نے بزدل کی موت نہیں مرنا، انھوں نے پہلے کبھی کسی کو قتل نہیں کیا، لیکن اب جو سامنے آیا، جس کو بھی شمر وغیرہ نے آگے کیا، آپ (امام حسین رضی اﷲ عنہ) نے تہِ تیغ کیا، پھر اسی بدبخت شمر نے اس عظیم ہستی کے گلے کو کاٹا۔ حضرت حسین رضی اﷲ عنہ نے اپنی تقریر سے پہلے کہہ دیا تھا اپنے ساتھیوں کو، ابھی دس تاریخ رات کے وقت، انھوں نے کہا: ’’دشمن میرے خون کے پیاسے ہیں، اے حاضرین! اے میرے کربلا کے ساتھیو! رات کا اندھیرا ہے، میری طرف سے سب کو اجازت ہے کہ جو جانا چاہتا ہے جائے، اس کو کوئی بھی نہیں روکے گا، راستوں میں کوئی بھی نہیں مارے گا، (کیونکہ دشمنی میرے ساتھ ہے، تمھارے ساتھ نہیں)، تو میں تمھیں موقع دے دیتا ہوں، تم یہ نہ سمجھو کہ میں تمھارا نقصان کروں، ان کو عداوت تو میرے ساتھ ہے، تو تم جہاں جانا چاہتے ہو، چلے جاؤ‘‘۔ (تاریخ اسلام)
لیکن کہنے والے سب نے کہا کہ نہیں ہم نہیں جائیں گے، لیکن انھوں نے اجازت دے دی، رات کے وقت کہ میں کسی کو جاتے بھی نا دیکھوں، اور جاتے ہوئے کوئی میرے ساتھ مصافحہ بھی کرنے نہ آئے، پھر اﷲ کے ہاں جب ہم کھڑے ہوں گے تو ظالم و مظلوم سب ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گے، سو چلے جاؤ۔ لیکن کوئی نہ گیا تو حضرت حسین رضی اﷲ وہیں کربلا میں تھے یعنی انھیں کوفہ جانے ہی نہیں دیا گیا۔ کربلا میں ہی روک لیا گیا، پھر انھی کو یہاں دیکھ کر قاتل بھی ٹھہر گئے،تو آگے عمرو بن سعد تھا، بدبختی اسی کی تھی، حالانکہ وہ دل سے نہیں چاہتا تھا کہ خون ریزی ہو، لیکن شمر اور ابن زیاد نے (غلط) پیرایہ اختیار کیا۔ تو قتل کا حکم یزید نے نہیں دیا تھا، وہ ابن زیاد نے دیا تھا، عمرو بن سعد یہ کام نہیں چاہتا تھا، لیکن جوش میں آ کر یہ کام کر گیا۔ کیونکہ بدبختی اس کا مقدر تھی۔ سو شمر سمیت ان سب نے بڑی بے دردی اور ظالمانہ طریقے سے نواسۂ رسول صلی اﷲ علیہ وسلم، حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کو شہید کر دیا۔
تو پھر جب یہ واقعہ ہو چکا، پھر اس قافلہ کو کوفہ جانے کی اجازت مل گئی، چند خواتین تھیں اور مردوں میں حضرت زین العابدین تھے، باقی ایک ایک کر کے شہید ہو گئے، اجڑا ہوا قافلہ کوفہ میں گیا، تو اب کوفہ تو شہر تھا، تو کوفہ کے بعض مرد بازار میں افسوس کے ساتھ دیکھ رہے تھے، کیوں؟ حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت حسن ؓ اور حضرت حسینؓ نکلے تھے کوفہ سے تو اس وقت کے ساتھی بھی جمع ہو گئے۔
حضرت زین العابدین رضی اﷲ عنہ کا اپنی پھوپھی سے سوال:
آج جو نشانی آخری تھی حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی، وہ ان کے سامنے زین العابدین کی شکل میں تھی، جب (قافلہ)جا رہا تھا تو حضرت زین العابدین نے اپنی پھوپھی زینب کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، کہ رونے والوں کی آوازیں مکانوں کی چھتوں سے آئیں، تو بچے نے اپنی پھوپھی سے پوچھا کہ اماں جی! یہ رو کیوں رہے ہیں؟ علامہ طبرسی نے کتاب الاحتجاج (ج:۳، ص:۶۸) میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ زین العابدین نے کہا ’’اِنَّ ہٓوئلاءِ یَبْکُوْنَ عَلَیْنَا ‘‘یہ جو ہم پر رو رہے ہیں کوفہ والے، اے میری پھوپھی مجھے تو بتا، تو پھر ’’من قتلنا غیرھم ‘‘ ان کے سوا ہمیں مارا کس نے ہے؟ مطلب یہ تھا کہ اگر حکومت پہل کرتی تو یزید چل کر مدینے آتا یا اس کے کارندے چل کر مدینے آتے، اور مار دیتے۔
مارا کنہوں نے؟ انھوں نے ہی، کوفہ والوں نے خطوط لکھے تھے، حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کو یہاں بلایا، ان کے ساتھ وفا کے عہد باندھے اور حضرت حسین رضی اﷲ عنہ خط کھول کر کہتے ہیں، او کوفہ والو! کیا تم نے یہ خط نہیں لکھے؟ تو حضرت زین العابدین نے اور حضرت زینب نے یہ ساری ذمہ داری ڈالی ہے کہ قاتلین حسین کہا ہیں؟ ان کو تلاش کرنا ہے تو عراق میں جاؤ، عراق کی گلیاں تمھیں بتائیں گی ، ان عورتوں کا رونا تمھیں بتائے گا کہ حسین رضی اﷲ عنہ کے قتل کے ذمہ دار کون ہیں، تو حضرت زین العابدین کے یہ الفاظ ’’اِنَّ ہٰٓؤلاءِ یَبْکُوْنَ عَلَیْنَا ‘‘ اب تو یہ ہم پر رو رہے ہیں لیکن بتا ’’من قتلنا غیرھم‘‘ ہمیں مارنے والا کون ہے ان کے سوا، تو جب زین العابدین نے یہ الفاظ کہے تو پھر زینب بھی بے اختیار ہو گئیں، انھوں نے کہا ’’سحقا لکم‘‘اے کوفہ والو! تمھاری بربادی ہو، ما لکم قتلتم حسینا، اور حسین کو تمھیں نے قتل کیا، اس کے اموال لوٹے، وورثتموہ ، اور وارث بھی تم ہی ہو گئے، نہیں سمجھے؟ وارث کیا ہوتے ہیں، جو مظلوم کی حمایت میں صدا لگاتے ہیں کہ قتل بھی تم نے ہی کیا اور وارث بھی تم ہی بن بیٹھے، اب دنیا کو تم ہی بتا رہے ہو کہ ہم حسین کے ہیں، اے اہل کوفہ ’’سحقا لکم ما لکم قتلتم حسینا وانبتہ اموالہ وورثتموہ‘‘ حضرت زینب نے جو الفاظ کہے تو یہ ایک عجیب منظر تھا ان کے لیے کو جو لوگ خط بھیج کر بلانے والے تھے، انھوں نے بدعہدی کی لیکن اب جب انجام دیکھ لیا کہ یہ آئے تھے اور اب جا رہے ہیں، بیمارِ کربلا بھی ساتھ ساتھ جا رہا ہے، پھوپھی کے ہاتھ کو پکڑے ہوئے اور ان کا رخ جو تھا اب ہوا شام کی طرف، کیونکہ شام والی عورتیں اور یہ سب ایک دوسرے کے رشتہ دار تھے۔
یزید کے گھر میں آہ و زاری:
تو جب یہ شام پہنچے ہیں تو پھر آہ و زاری ہونے لگی، یزید کے گھر میں وہ عورتیں روتی ہوئیں، جب ان عورتوں سے ملیں تو خونِ حسینؓ نے خود اپنی شان اسی وقت بتا دی کہ یہ مظلوم ہیں، اب اپنے پرائے سب آنسو بہا رہے ہیں، جیسا کہ مشہور شیعہ عالم ملا باقر مجلسی لکھتا ہے:
’’جس وقت امام حسینؓ کے گھر والوں کا قافلہ کوفہ سے دمشق میں آ کر دربار یزید میں پیش ہوا تو یزید کی بیوی دختر عبداﷲ بن عامر بے تاب ہو کر، بے پردہ دربار یزید میں چلی آئی، یزید نے دوڑ کر اس کے سر پر کپڑا ڈال دیا ور کہا کہ اے ہندہ! تو فرزند رسول اﷲ بزرگ قریش پر نوحہ زاری کر، ابن زیاد لعین نے ان کے معاملہ میں جلدی کی اور حال یہ ہے کہ میں ان کے قتل پر رضا مند نہ تھا‘‘۔ (جلاء العیون، ص: ۵۲۷) (۱)
حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کا جاتے ہوئے پیغام:
حضرت حسین رضی اﷲ عنہ نے خود اپنے عمل سے یہ بتا دیا کہ وہ ابن زیاد کے سامنے پیش ہونے کی بجائے لڑنے کو تیار ہو گئے، تو جاتے ہوئے کیا وہ پیغام نہیں دے گئے، سوچو کہ اگر میں ابن زیاد کے ہاتھوں میں ہاتھ دینے کو تیار نہیں اور اس کے ہاتھوں پر یزید کی بیعت کرنے کو تیار نہیں تو میرا باپ تو مجھ سے زیادہ غیرت مند تھا، اگر حضرت ابوبکر و عمر رضی اﷲ عنہما غلط حکمران ہوتے، تو کربلا اسی دن قائم ہو جاتی، تو یہ جو کربلا میرے دور میں ہوئی، تو حضرت حسین رضی اﷲ عنہ ہمارے محسن ہیں، کہ سنی عقیدے کو ثابت کرنے کے لیے، وہ میدان میں آئے، تاکہ وہ جو کہا جاتا تھا، کہ تقیہ کے طور پر غلط حکمرانوں کو مان لو، تو اگر ماننا جائز ہوتا تو کیا حضرت حسین رضی اﷲ عنہ، ابن زیاد کے پاس نہ آ جاتے؟ اگر وہ نہیں آئے تو، حضرت حسین ؓ کا مقام حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے تو نہیں بڑھ گیا، تو اگر حسین رضی اﷲ عنہ کا عمل یہ ہے، تو اگر ابوبکر و عمر رضی اﷲ عنہما غلط ہوتے تو علی رضی اﷲ عنہ بھی ان کے سامنے اسی طرح کھڑے ہو جاتے، جب انھوں نے (حضرت علی رضی اﷲ عنہ) نے ان کو قبول کیا دل سے، اس لیے کہ وہ راہِ راست پر تھے، حضور کی خلافت کے صحیح طور پر وہ حق دار تھے۔
یزید کی بہت بڑی غلطی تھی کہ وہ خود حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کے پاس نہ آیا:
اگر وہ کچھ بھی خیال کرتا کہ جو آنے والے ہے، وہ ہے کون؟ ’’حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا نواسہ ہے‘‘۔ جس کے منہ پر حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے لب مبارک سے بوسے دیے، فاطمہ رضی اﷲ عنہا کی گود میں جو پلنے والا ہے، اور حضور صلی اﷲ علیہ وسلم فرما چکے ہیں، حسن و حسین ’’سیدا شباب اہل الجنۃ ‘‘ ۔ اب ان کے سامنے سیاسی بات کرنے کے لیے یزید کو خود آنا چاہیے تھا، کیا خیال ہے کہ اگر وہ خود آتا تو حضرت نے کچھ نصیحتیں ہی کرنی تھیں؟ کچھ عہد لینے تھے، اس کو کوئی سیرت کی تعلیم دینی تھی کہ تم بزرگوں کی لائن پر چلو، اب حضرت حسن رضی اﷲ عنہ نے جب حکومت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کو دی تھی تو انھوں نے بھی نصیحت کی تھی، حسین رضی اﷲ عنہ بھی اس کو نصیحت کرتے اور اگر وہ مان جاتا تو عالمِ اسلام میں اتنا بڑ ا واقعہ (سانحہ) پیش نہ آتا، لیکن اس نے ابن زیاد کو بھیجا، خود نہیں گیا، تو جو باپ کی نصیحت تھی اس پر عمل کیا؟ (سامعین : نہیں)
حاشیہ
(۱) اسی طرح کا حوالہ ایک دوسری شیعہ کتاب منتہی الامال ( ج:۱، ص: ۱۰۵)مطبوعہ ایران از شیخ عباس قمی (۱۳۵۹ھ) پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اور ایک مشہور شیعہ مؤرخ لوط بن یحییٰ یہاں تک لکھتا ہے کہ ووضع الرس فی طشت و غطاہ بمندیل دیبقی ووضعہ فی حجرہ و جعل یلطم علی خدہ و یقول مالی و قتل الحسین (مقتل ابی مخنف ص: ۱۳۹) ترجمہ: یزید نے آپ کا سر مبارک ایک تھال میں رکھا، اس پر ریشمی رومال ڈال کر اپنی گود میں رکھا اور اپنے گالوں پر طمانچے مارنے لگا اور کہنے لگا کہ مجھے قتل حسین سے کیا سروکار تھا۔ (حیدری)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.