آپ کو مجلس احرار کیسی لگی؟

قادیانیت نوازی ناقابل قبول، ختم نبوت کے قانون کو چھیڈا گیا تو مذامت کریں گے، حکومت اسلامی دفعات کا تحفظ کرے : قائد احرارسیدعطاء المہیمن بخاری

مجلس احراراسلام پاکستان کے زیراہتمام مرکزی دفتراحرار، احرارایونیو، نیو مسلم ٹاؤن لاہور میں قائد احرارسیدعطاء المہیمن بخاری کی زیرصدارت منعقدہ سالانہ ’’ختم نبوت کانفرنس‘‘کے مقررین نے انتباہ کیاہے کہ آئین کی اسلامی دفعات خصوصاً تحفظ ناموس رسالت اور تحفظ ختم نبوت کا مکمل تحفظ نہ کیا گیا تو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا ہم عاطف میاں کواکنامک ایڈوائزری کونسل سے علیحدہ کرنے کے فیصلہ کا بھرپور خیر مقدم کرتے ہیں آئندہ بھی قادیانی گروہ سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے ، کانفرنس میں جامعہ اشرفیہ کے مہتمم مولانا فضل الرحیم ، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نائب امیرمولانا انوارالحق ،مجلس احراراسلام پاکستان کے نائب امیر سید محمد کفیل بخاری ،پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہدالراشدی ،مجلس احراراسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل عبداللطیف خالد اور سید عطاء اللہ شاہ ثالث ، جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ ،متحدہ جمعیت اہلحدیث پاکستان کے امیر مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری ، جمعیت علماء پاکستان کے صدر قاری محمدزوار بہادر، تحریک انصاف پنجاب کے صدر اعجاز چودھری ، جمعیت علماء اسلام کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا محمد امجد خان، ورلڈپاسبان کے امیر علامہ محمد ممتاز اعوان اورمولانا محمد اسلم ندیم، مولانا فداء الرحمن، حافظ عمیراحمد ،میاں محمد اویس، حافظ میاں محمد عفان ،ڈاکٹر قاری احمدمیاں تھانوی ، قاری ذکی اللہ کیفی، حافظ محمد سفیان اویس،قاری عمیر قوی،ڈاکٹر ضیاء الحق قمر،قاری محمد قاسم ،مولانا احمد مدنی نے شرکت وخطاب کیا، مولانا زاہد الراشدی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ حکومت کے ریاست مدینہ اور فلاحی ریاست بنائے کے وعدے واعلان کے حوالے سے ضروری ہے کہ خلیفۂ بلافصل سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ‘ کے خلافت سنبھالنے کے بعد والے اولین فیصلوں پرعمل درآمد کرنا ضروری ہے اس سے مراد عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت ،نظام زکوٰۃ کامؤثر نظم اورقرآن پاک کی حفاظت ہے جن کے بغیرریاست مدینہ کا آغاز نہیں ہوسکتا ، انہوں نے کہاکہ ریاست مدینہ کے قیام کے لیے ریاست مدینہ کوپڑھنا ضروری ہے اورنظام تعلیم ونظام معیشت کواسلام کے قالب میں ڈھالنا ہو گا ۔مولانا فضل الرحیم نے کہاکہ جوشخص بھی عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کی جدوجہدکرے گا اس کے لیے جنت کی ضمانت ہے ، مولانا انوارالحق نے کہا کہ پاکستان میں انتہائی اہم کلیدی عہدوں پر فائز قادیانی اسلام اور وطن دشمنی میں ملوث ہیں ، سید محمد کفیل بخاری نے کہا کہ7ستمبر 1974ء ایک یادگار تاریخی دن کی حیثیت اختیار کرگیا ہے جس کا اظہار عالم اسلام کے مسلمان کررہے ہیں، لیاقت بلوچ نے کہا کہ 7ستمبر 1974ء کے فیصلے کے پیچھے تاویل قربانیوں کی داستان ہے جسے کسی صورت بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ،مولانا امجد خان نے کہا کہ معاملے پر عقل کی بات مانی جاتی ہے لیکن جب نامور رسالت کی بات آتی ہے تو پھر عشق رسالت کے جذبے کی بات منانی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ 6ستمبر دفاع وطن اور 7ستمبر یوم ختم نبوت آپس میں جڑواں ہیں ، اعجاز چودھری نے کہا کہ ناموس رسالت پر ہم کچھ قربان کرنے کو تیا ر ہیں انہوں نے کہا کہ یورپ میں ہولوکاسٹ پر کوئی بات نہیں کرسکتا اگر کوئی کرے تو سزا کا قانون موجود ہے تو کیا مسلمان نبی آخر زمان ﷺ پر چپ رہ سکتے ہیں ؟ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا انہوں نے کہا کہ عاطف میاں کو ایڈوائزری کونسل سے نکالنا اور ریاست مدینہ کا تذکرہ کرنا عمران خان کا ہی کام ہے ، سید ضیا ء اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ قرآن اور ناموس رسالت کی حفاظت خود اللہ تعالیٰ کررہے ہیں ہم تو جناب نبی ﷺ سے اپنی نسبت کے لیے جدوجہد کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ احراراور ختم نبوت سے عشق کی حد تک محبت مجھے ورثے میں ملی ہے انہوں نے کہا کہ نواز شریف کوختم نبوت کے کاز سے غدار کی سزا ملی ہے ،سید عطاء اللہ شاہ ثالث نے کہا کہ 7ستمبر کا دن یوم تشکر اور تجدید عہد کا دن ہے انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ بنانے کے لئے حکومت پاکستان کو علماء اور مدارس سے رجوع کرنا ہوگا ، قاری محمد زوار بہادر نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کی جدوجہدکے سامنے کوئی طاقت نہیں ٹھہر سکتی انہوں نے کہا کہ قادیانی جب اپنے آپ کو اقلیت تسلیم ہی نہیں کرتے تو پھر ان کو اقلیتی حقوق دینے کی بات مضحکہ خیز ہے ۔
کانفرنس کی قراردادوں میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئین پاکستان کے تقاضوں کے مطابق ملک میں اسلامی نظام نافذ کیا جائے ،سودی نظام معیشت کا خاتمہ کیا جائے، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو عملی جامہ پہنایا جائے، مرتد کی شرعی سزا نافذ کی جائے، 7ستمبر کو قومی دن قراردیا جائے، چناب نگر(ربوہ) میں ریاست در ریاست کا ماحول ختم کیا جائے، قائداعظم یونیورسٹی کے سنٹر فار فزکس کو قادیانی ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے، قادیانیوں کو اقلیتی دائرے میں رہنے کے لیے پابند کیا جائے، امتناع قادیانیت ایکٹ پر مکمل و مؤثر عمل درآمد کرایا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.