آپ کو مجلس احرار کیسی لگی؟

برطانوی اراکین پارلیمنٹ کی قادیانی جلسے میں مطالبات، پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت، الزامات مسترد کرتے ہیں: عبداللطیف خالد چیمہ

لاہور(پ ر)متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی پاکستان کے کنوینراورمجلس احراراسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل عبداللطیف خالد چیمہ نے 3سے 5اگست تک قادیانی جماعت کے لندن میں ہونے والے سالانہ جلسے میں قادیانی نواز گروپ کے رکن سرایڈورڈڈیوی اوردیگر برطانوی مقررین کے پاکستان کے حوالے سے قادیانیوں کورعایت دینے کے لیے دھمکی آمیز مطالبات کوانتہائی اشتعال انگیزبلکہ شرانگیز قراردیتے ہوئے مذمت کی ہے اپنے ایک بیان اور ردعمل میں عبداللطیف خالدچیمہ نے کہاہے کہ قادیانیوں نے عمران حکومت پرقادیانیوں کورعایت دلانے کے لیے برطانوی پارلیمنٹ کی تمام جماعتوں کے اراکین پرمشتمل جوگروپ قائم کیاہے اس گروپ میں زیک گولڈاسمتھ بھی شامل ہے جن کی بہن جمائماعمران کی مطلقہ ہے ۔ان حوالوں سے قادیانیوں نے لندن میں اسلام اورپاکستان دشمن لابیوں کومتحد کرکے ایک پلیٹ فارم تشکیل دیاہے جس کے ذریعے عمران حکومت کوقادیانیوں کے بارے میں نرم گوشہ پیداکرنے کے لیے مجبورکرناہے ۔انہوں نے کہاکہ لندن کے سالانہ جلسے میں مرزامسرور احمد کے قادیانیت کے پھیلاؤ کے حوالے سے تمام دعوے جھوٹ پرمبنی ہیں۔انہوں نے کہاکہ قادیانیت پھیل نہیں سکڑرہی ہے اورجوں جوں قادیانیوں پرحقیقت آشکاراہورہی ہے قادیانی مشرف بااسلام ہورہے ہیں جس کی کئی تازہ مثالیں موجود ہیں انہوں نے کہاکہ قادیانیت کے سرپرست کان کھول کرسن لیں کہ قادیانیوں کے حوالے سے وہ نئی حکومت سے توقعات وابستہ نہ کریں اس میں بھی وہ منہ کی کھائیں گے ۔عبداللطیف خالدچیمہ نے کہاکہ اگرتحریک انصاف کی حکومت نے قادیانیوں کورعائت دینے کی کوشش کی توان کوسیاسی اپوزیشن سے زیادہ مضبوط اپوزیشن کاسامنا کرناپڑے گا کیونکہ یہ مسئلہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کا ہے اورعقیدے کے اس مسئلے پرقوم اپنی جان توقربان کرسکتی ہے لیکن آنچ نہیںآنے دے گی ۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ ہم جانتے ہیں کہ تحریک انصاف سمیت دیگر سیاسی جماعتوں میں قادیانی لابنگ موجودہے لیکن یہ لابنگ قادیانیوں کے کسی کام نہیںآئے گی ۔انہوں نے کہاکہ مسلمان عقیدے کے اس مسئلے پرمستعد ہیں اورمستعد ہی رہیں گے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.