تازہ ترین خبریں
آپ کو مجلس احرار کیسی لگی؟

نااہل اور نالائق حکمران

سید محمد کفیل بخاری تین ماہ میں تبدیلی اور ملک کی قسمت بدلنے کے دعوے دار حکمرانوں کو ملک کی باگ دوڑ سنبھالے ڈیڑھ برس بیت گیا۔ انھوں نے اپنی نااہلی اور نالائقی کے عالمی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے وطن عزیز کی حالت پہلے سے بھی ابتر کر دی ہے۔ حکومت بحرانی حالت میں ہے اورعوام ہیجان کی کیفیت میں۔ معیشت تباہ، سرمایہ کار فرار، بیروزگاری عروج پر، مہنگائی کا جن بے قابو، انصاف اور انتقام میں فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ وزیر اعظم کا اپنا کوئی ویژن نہیں، ریاست نااہل مشیروں اور نالائق نورتنوں کے رحم و کرم پر ہے۔ روز بیانیہ بدلتے ہیں جو پہلے کے برعکس اور متضاد ہوتا ہے۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے کو ہی

یوم تاسیس احرار (29؍ دسمبر 1929 …… 29 ؍دسمبر 2019 ء )

عبداللطیف خالد چیمہ تحریک خلافت کی ناکامی کے بعد حریت پسند رہنماؤں سید عطاء اﷲ شاہ بخاری، چودھری افضل حق، مولانا ظفر علی خان، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، مولانا محمد داؤد غزنوی، مولانا مظہر علی اظہر، عبد الرحمن غازی، شیخ حسام الدین رحمتہ اﷲ علیہم اور دیگر نے 29؍ دسمبر 1929ء کو لاہور میں دریائے راوی کے کنارے ’’مجلس احرار اسلام‘‘ کی بنیاد رکھی۔ بنیادی مقاصد قیام حکومت الہیہ، انگریز سامراج کے ہندوستان سے انخلاء اور عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ طے ہوئے، پھر ہندوستان کے عوام کے دلوں سے برطانوی سامراج کا خوف اتار پھینکا اور آزادیٔ وطن کے لیے ہر مشکل کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ پاکستان بن جانے کے بعد تمام اختلافات کو ختم کر کے حفاظت وطن کے لیے سربکف ہو

نور العیون فی سیرت الامین المامون صلی اﷲ علیہ وسلم (قسط دوم)

علامہ ابن سیّد الناس رحمہ اﷲ تعالیٰ ترجمہ: ڈاکٹر ضیاء الحق قمرؔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے غزوات کا بیان: آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی مدنی زندگی میں پچیس غزوات ہوئے۔ اور ایک روایت کے مطابق ان کی تعداد ستائیس ہے۔ ان غزوات میں سے سات میں لڑائی ہوئی اور وہ یہ ہیں: عزوہ بدر، غزوہ اُحد، غزوہ خندق، غزوہ بنی قریظہ، غزوہ بنی مصطلق، غزوہ خیبر، غزوہ حنین اور غزوہ طائف۔ (۱) اور بعض کے مطابق وادی القریٰ، غابہ اور غزوہ بنی نضیر میں بھی لڑائی ہوئی۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے روانہ کردہ لشکروں کا بیان: اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے روانہ کردہ لشکروں کی تعداد پچاس ہے۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے حج کا بیان: حج

مساجد میں دروس قرآن وحدیث …… ضرورت واہمیت

مولانا محمداَحمدحافظ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم! اسلامی معاشرے میں مسجد،مدرسے اور خانقاہ کی اہمیت ہمیشہ مسلّم رہی ہے۔مساجد میں اہل ایمان پانچ وقت حاضر ہوکر اﷲ تعالیٰ کے حضور اپنی بندگی،عجزونیاز،زاری وشیفتگی اور والہیت کا اظہار کرتے ہیں۔مدرسہ دینی تعلیم وتعلم کا مرکز اور خانقاہ اسلامی اخلاق وکردارکی تعمیر، اورتزکیہ وتطہیر نفس کا ادارہ ہے۔ان تینوں اسلامی اداروں میں مسجد کا ادارہ سب سے اہم ہے۔اس لیے کہ تعلیم اور تزکیہ کے لیے دوسرے مقام کا سفر اختیار کیا جاسکتا ہے،لیکن نمازوں کی ادائیگی کے لیے اپنے محلے اور علاقے میں مسجد کا ہونا ضروری ہے،۔مساجد بندگی رب کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم اور تزکیہ وسلوک کے لیے مرکز بن سکتی ہیں،لیکن مدرسہ یا خانقاہ مسجد کا متبادل نہیں ہوسکتے۔ حضور نبی کریم صلی

محبوب کی یادوں سے (نعت)

محمد فیاض عادلؔ فاروقی محبوبؐ کی یادوں سے معمور جو سینہ ہے اُس سینے میں جو دل ہے وہ دل بھی مدینہ ہے ہو ذکر ولادت کا، بعثت کا کہ سیرت کا توصیفِ محمدا کا ہر ایک مہینہ ہے طیبہ کی ہواؤں سے دل شاد ہُوا جب سے کم لگتا نگاہوں میں عالم کا خزینہ ہے وہ حُبِّ محمدا سے محروم نہ ہو کیونکر اصحابِ محمدا سے رکھتا جو بھی کینہ ہے ربّ خالقِ عالم ہے، یہؐ رحمتِ عالم ہیں مولا کی عطاؤں کا یہؐ ذات دفینہ ہے رحمتؐ یہ جہاں بھر کی جس قوم کو ہے حاصل عالَم کی انگوٹھی میں وہ مثلِ نگینہ ہے بیڑے کو لگائے گا اُس پار خدا عادلؔ ملّاح محمدا ہیں، محفوظ سفینہ ہے

بابری مسجد خدا حافظ

محمد عثمان جامعی خدا کے گھر خدا حافظ سنو اے گنبد و مینار اے منبر خدا حافظ شہادت سے تری کتنے ہی منظر لوٹ آئیں گے وہ ’’سینتالیس‘‘ کے سب تیر وخنجر لوٹ آئیں گے بھرے تھے زخم جو پھر تازہ ہو کر لوٹ آئے ہیں کہ پھر بلوائیوں کے خونی لشکر لوٹ آئے ہیں ترے ملبے نے ارض قدس کی صورت دکھائی ہے اس اڑتی گرد میں ہسپانیہ کی یاد آئی ہے ہو تیرا شکریہ کیسے ادا اے ٹوٹتی مسجد ہماری حیثیت تو نے ہمیں گر کر بتائی ہے سنو اے گرتی دیوارو اے گرتے در خدا حافظ

مولانا سیّد امیر علی ملیح آبادی اور ان کی تفسیر مواہب الرحمن

مولانا سعید الرحمن علوی رحمہ اﷲ اﷲ اﷲ کیسے لوگ تھے جو اپنے پیدا کرنے والے کے دین کی خدمت میں ہمہ تن مصروف رہے اور ایسے ایسے مثالی کام کرگئے جو رہتی دنیا تک ان کو زندہ و جاوید رکھیں گے۔ہم اپنے اسلاف کی صرف قرآنی خدمات پر نظر دوڑاتے ہیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔اس صدی ہجری جسے یار لوگوں نے ایک سال پہلے ہی ختم کردیا تھا ،کے چوتھے سال یعنی یعنی ۱۳۰۴؁ء میں ایک صاحب کا انتقال ہوا جنہیں آج دنیا علامہ آلوسی ؒ کے نام سے یاد کرتی ہے اس بندہ خدا نے قرآن کریم کی عربی تفسیر لکھی ،نام روح المعانی ہے ،آپ حیران ہوں گے ،تیس جلد ،گویا ہر پارہ ایک جلد پر مشتمل ہے ،سینکڑوں

بیالیسویں سالانہ احرار ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی روداد

فرحان حقانی / تنویر الحسن مجلس احرار اسلام کے زیر اہتمام 2روزہ احرار ختمِ نبوت کانفرنس اور جلوس دعوتِ اسلام گزشتہ 41سال سے قادیان کے ختم نبوت کے محاذ کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے چناب نگر ضلع چنیوٹ میں بھرپور محنت سے اہتمام کر کے منعقد کیا جاتا ہے، امسال 42ویں ختم نبوت کانفرنس تھی۔ یوں تو سیرت النبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے مبارک عنوان پہ ملک بھر میں ربیع الاوّل کی آمد کے ساتھ ہی اجتماعات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، مگر چناب نگر کی اس کانفرنس کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ محرم کا چاند نظر آتے ہی اس اجتماع کے لیے محنت شروع کر دی جاتی ہے، گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی مجلس احرار اسلام کی شوریٰ اور

چناب نگر میں دعوت اسلام کانفرنس ، آنکھوں دیکھا حال

محمد مقصود کشمیری تحصیل پریس کلب کے سیکرٹری جنرل وقاص علی چوہدری کے ہمراہ چناب نگر میں مجلس احرار اسلام کے زیر اہتمام ہر سال 12 ربیع الاول کو قادیانیوں کے مرکز ایون محمود کے سامنے ہونے والی دعوت اسلام کانفرنس میں شرکت کے لیے ہفتہ 11 ربیع الاول کی صبح ڈڈیال سے براستہ موٹر وے پنڈی بھٹیاں ہم مغرب کے وقت چینوٹ پہنچے ، تو وہاں سے ایک رکشے پر چناب نگر کی طرف روانہ ہوئے ، احرار کے سرخ پوش کارکنان کے جلوس میں شرکت وہاں کے مناظر کو دیکھنے کی خواہش اور دل میں تڑپ کافی عرصہ سے تھی ، نواسہ امیر شریعت مولانا سید محمد کفیل شاہ بخاری مدظلہ اور دیگر احرار قائدین کی پر خلوص محبت و دعوت کے باوجود

مرزا صاحب کی گل افشانیاں (دوسری و آخری قسط)

شیخ راحیل احمد حلال زادہ کون؟ مرزا صاحب کا اپنے خاص الخاص حوالی موالیوں (جنھیں قادیانی معاذ اﷲ صحابی کہتے ہیں، ناقل) کی معیت میں عیسائیوں سے مباحثہ ہوا، جو پندرہ دن تک چلا اور مرزا صاحب کے بقول ان کے اندر روح القدس کے کام کرنے کے، خدا کے ارادہ مرزا صاحب کے ارادہ کے تحت ہونے کے اور کن فیکون کی طاقت ہونے کے با وجود بے نتیجہ رہا۔ سچے ہوتے تو نجران کے عیسائیوں کی طرح چند گھنٹے میں فیصلہ ہو جاتا۔ مقابلے پر عیسائیوں کی ٹیم پادری عبداﷲ آتھم کی سرکردگی میں حصہ لے رہی تھی۔ اس وقت یہ قضیہ اتنا مشہور ہوا کہ سارے ہندوستان کی نظریں اس پر لگی ہوئی تھیں۔ مرزا صاحب نے پندرھویں دن بغیر مخالف ٹیم

بیانِ صادق …… من جانب مجلس احرار بہ جواب جماعت اسلامی ، بہ سلسلہ تحریکِ ختمِ نبوت ۱۹۵۳ء

(دوسری و آخری قسط ) ماسٹر تاج الدین لدھیانوی رحمۃ اﷲ علیہ مودودی صاحب کی جماعتی عقیدت: بحث معقول ہو۔ اصولی اعتراضات ہوں۔ نیتوں کا خلوص معاملہ سلجھانے کی راہیں تلاش کرتا ہو تو مشکل مراحل بھی طے ہو جاتے ہیں، مگر جہاں جماعتی عصبیت کوٹ کوٹ کر بھری ہو، دوسرے انسان کم درجہ کے نظر آنے لگیں اور طبیعت یہ فیصلہ کرہی لے کہ اپنے سوا کسی اور کو خواہ وہ کتنا بلند پایہ کیوں نہ ہو، اپنا بڑا مان کر کسی کے ساتھ یا کسی کو رہنما مان کر چلنا ہی نہیں تو پھر مشکلات ہی مشکلات اور تباہیاں مقدر ہو جایا کرتی ہیں۔ اس میٹنگ میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اقتدار اور عصبیت کے گرداب میں غوطہ کھا رہے تھے۔ جب اجلاس

میرا افسانہ قسط: ۱۵

مفکر احرار، چودھری افضل حق رحمۃ اﷲ علیہ جیل کی مشہور دنیا کا مفصل حال آ چکا ہے۔ دہلی جیل کی مختصر روئیداد عرض ہے۔ پریذیڈنٹ پٹیل اور دہلی جیل: پریذیڈنٹ پٹیل کو طبیعت پر ایسا قابو تھا کہ عام آدمی جس نے انھیں اسمبلی کی کرسی صدارت پر بیٹھے دیکھا ہو، کبھی میرے اس بیان پر یقین نہیں کر سکتا کہ وہ بغیر مذاق کیے اور کرائے نہ رہ سکتے تھے۔ صدارت کی کرسی پر وہ سر تا پا متانت اور پرائیویٹ زندگی میں بالکل ظریف تھے، جوں ہی ہم جیل کی ڈیوڑھی میں پہنچے اور بڑا دروازہ بند ہوا۔ پریذیڈنٹ پٹیل نے پنڈت مالویہ کو مخاطب کیا: ارے بڈھے! بمبئی میں تو تو معافی مانگ کر رہا ہو گیا تھا، مگر یہ دہلی

مسافران آخرت

مسافران آخرت ا حضرت مولانا احمد خان رحمۃ اﷲ علیہ (خانقاہ سراجیہ) کے پڑپوتے، معروف افسانہ نگار جناب حامد سراج صاحب رحمۃ اﷲ علیہ 13 نومبر کو انتقال کرگئے۔ مرحوم عرصہ دراز سے مختلف عوارض میں مبتلا تھے لیکن اﷲ تعالیٰ کی دی ہوئی ہمت سے بہت ہی صبر کے ساتھ وقت گزارا اﷲ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائیں۔ مجلس احرار اسلام کے نائب امیر سید محمد کفیل بخاری، ناظم اعلیٰ عبد اللطیف خالد چیمہ اور دیگر احباب مجلس خانقاہ سراجیہ گئے اور حضرت مولانا عزیز احمد، حضرت مولانا خلیل احمد دامت برکاتہم اور مرحوم کے فرزندان محمد اسامہ خان اور محمد قدامہ خان سے اظہار تعزیت کیا۔ قاری علی زمان رحمۃ اﷲ علیہ: سید محمد ذوالکفل بخاری شہید رحمہ اﷲ کے اُملج (سعودی

نقیب

گزشتہ شمارے

2019 December

نااہل اور نالائق حکمران

یوم تاسیس احرار (29؍ دسمبر 1929 …… 29 ؍دسمبر 2019 ء )

نور العیون فی سیرت الامین المامون صلی اﷲ علیہ وسلم (قسط دوم)

مساجد میں دروس قرآن وحدیث …… ضرورت واہمیت

محبوب کی یادوں سے (نعت)

بابری مسجد خدا حافظ

مولانا سیّد امیر علی ملیح آبادی اور ان کی تفسیر مواہب الرحمن

بیالیسویں سالانہ احرار ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی روداد

چناب نگر میں دعوت اسلام کانفرنس ، آنکھوں دیکھا حال

مرزا صاحب کی گل افشانیاں (دوسری و آخری قسط)

بیانِ صادق …… من جانب مجلس احرار بہ جواب جماعت اسلامی ، بہ سلسلہ تحریکِ ختمِ نبوت ۱۹۵۳ء

میرا افسانہ قسط: ۱۵

مسافران آخرت