تازہ ترین خبریں
آپ کو مجلس احرار کیسی لگی؟

فتح طالبان اور افغانستان کی نئی صورت حال

سید محمد کفیل بخاری دو ہفتوں سے زائد دن گزر چکے کہ طالبان افغانستان میں مکمل کنٹرول حاصل کر چکے ہیں۔ دوحہ معاہدے کے بعد جس برق رفتاری کے ساتھ طالبان نے دس دنوں میں فتح افعانستان کا مشن مکمل کیا، اسے نصرت الٰہیہ کے سوا دوسرا کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔ طالبان جس حکمتِ عملی کے ساتھ کابل میں داخل ہوئے، اس نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ناصرف حیران بلکہ چکرا کر رکھ دیا۔ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور عام معافی کے اعلان نے فتح مکہ کی یاد تازہ کر دی ہے۔ وہ ایک نئے عزم کے ساتھ اٹھے ہیں اور ماضی کے تلخ تجربات کو ہر لمحہ سامنے رکھ کر اپنی حکمت عملی مرتب کر کے آگے

یوم تحفظ ختم نبوت (یوم قرارداد اقلیت)

7 ؍ستمبر 1974………… 7 ؍ستمبر 2021ء عبداللطیف خالد چیمہ فتنہ انکار ختم نبوت کے استیصال کے لیے سیدنا حبیب ابن زید انصاری رضی اﷲ عنہ کی پہلی شہادت سے لے کر شہداء جنگ یمامہ، شہداء 1953، شہداء 1974، شہداء 1984 اور دور حاضرتک یہ تسلسل جاری ہے۔ مجلس احرار اسلام کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ برصغیر میں مرزا غلام قادیانی کی امت مرتدہ کی حقیقت کو بے نقاب کرنے کے لیے اجتماعی سطح پر سب سے پہلے محاذ جاری کیا۔ 21 تا 23 اکتوبر 1934 کو قادیان (ہندوستان) میں داخل ہو کر پہلی احرار تبلیغ کانفرنس منعقد کی۔ تب پوری مسلم قیادت احرار کی پشت پر کھڑی تھی۔ تاآنکہ پاکستان بن گیا اور موسیو ظفر اﷲ خان کو پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ بنایا

رفیق افغان: ایک صحافتی مزاحمتی کردار

ڈاکٹر عمر فاروق احرار صحافتی محاذ پرمحترم رفیق افغان مرحوم نے ایک چومکھی جنگ لڑی اور ہر معرکے میں وہ کامیاب و کامران رہے ۔ وہ ایک نظریاتی کارکن تھے ، اس لیے ان کے مخالفت بھی اصول و نظریہ کی بنیاد پر استوار ہوتی تھی۔ بلاشبہ انہوں نے نظریاتی محاذ پر استقامت اور دوٹوک رائے اختیار کی اور بارہا انہیں بھاری نقصان برداشت کرنے پڑے ،مگر انہوں نے ہر نظریاتی یلغار کا ہمت و دلاوری سے سامنا کیا اور بالآخر مخالفین کو چاروں شانوں چت کیا۔ رفیق افغان کے مخالفین میں سیکولرزم، لبرل ازم کے انتہا پسند،فکری اوباش،نظریاتی گم راہ، مادر پدر آزاد عورتیں، میرا جسم، میری مرضی کے راگ الاپنے والا موم بتی مافیا، قادیانی گماشتے اورلادین ارتدادی ٹولہ اور متعصب لسانی گروہوں

شہدائے ختم نبوت چوک چیچہ وطنی کی تعمیر نو

اکرام الحق سرشار چیچہ وطنی شہر شروع سے ہی دینی تحاریک کا مرکزرہاہے مجلس احراراسلام کے رہنماء اور دینی قائدین یہاں تشریف لاتے رہے ہیں ان کی آمدو رفت کی وجہ سے اہلیان چیچہ وطنی کے دینی جذبات اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کی جدوجہد عوام کے دلوں میں سلگنے لگی اسی وجہ سے یہ شہر حساس شہربن گیا۔ ابن امیر شریعت حضرت پیر جی سید عطا ء المہیمن بخاری رحمہ اﷲ تقریبادس سال چیچہ وطنی میں رہے ان کی محنت کی وجہ سے ایک مضبوط ٹیم تیار ہوگئی۔ فروری 1971 کی بات ہے کہ قادیانیوں نے بڑی بے دردی سے ایک مسلمان کو دجل و فریب سے گھر بلا کر ماردیا۔قادیانیوں کے تشدد کی وجہ سے مسلمانوں کے جذبات بھڑک اٹھے۔ حضرت پیر

عورت مارچ ایجنڈا قانون بن گیا، والدین ہونا جرم

’’گھریلو تشدد بل‘‘ کے نام پر آزاد خیال معاشرے کا قیام محمد عاصم حفیظ ’’گھریلو تشدد‘‘بل سینٹ سے منظور ہو کر آئین پاکستان کا حصہ بن چکا ہے۔ ایک خوشنما نام لیکن اس کے مندرجات دیکھیں تو یوں لگے گا کہ جیسے کسی سیکولر / لبرل مغربی فنڈڈ این جی او نے اپنا منشور ہی آئین پاکستان کا حصہ بنا دیا ہے۔ یہ خاندانی نظام، خونی رشتوں اور خصوصا والدین اور اولاد، میاں بیوی کے درمیان تعلقات، خانگی زندگی کی بنیادیں ہلا کے رکھ دے گا۔ آئیے پہلے اس کے چیدہ چیدہ پوائنٹس دیکھتے ہیں۔ ان کی گہرائی میں جانا، مستقبل کی تصویر سوچنا آپ پر ہے۔ اس کے اہم نقاط یہ ہیں (1) والدین کا اپنے بچوں کی پرائیویسی، آزادی میں حائل ہونا جرم

سیدنا حمزہ رضی اﷲ عنہ

مولانا علامہ محمد عبداﷲ رحمۃ اﷲ علیہ لے چل ہاں منجد ھار میں لے چل، ساحل ساحل کیا چلنا میں خوگر ہوں طوفانوں کا، سو انجام سے کیا ڈرنا رشتے میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا، خالہ زاد بھائی اور رضاعی بھائی تھے۔ بڑے شمشیرزن، تیرانداز، غیور اور جسور تھے۔ شکار کے بڑے شوقین تھے۔ انہی مردانہ مشاغل میں مگن رہتے تھے۔ کئی سال تک دعوت اسلام کی طرف کان نہ دھرا۔ غالباً بعثت کے چھٹے سال اسلام قبول کیا۔ اس وقت تک رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ دارارقم رضی اﷲ عنہ میں رہتے تھے۔ اسی سال حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کیا تلوار لے کر چلے تو کسی اور ارادے سے تھے، آگے

سیدنا علی رضی اﷲ عنہ کی مزعومہ خلافت بلا فصل کے دلائل کا جائزہ

عطا محمد جنجوعہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے سیدنا علی المرتضیٰ کے فضائل بیان فرمائے ہیں: مَنْ سَبَّ عَلِیًّا فَقَدْ سَبَّنِیْ ترجمہ: جس نے علیؓ کو گالی دی، اس نے مجھے گالی دی۔ (الصحیح المسند فی فضائل الصحابہ، ص: ۱۱۷) اَلَا تَرْضٰی اَنْ تَکُوْنَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ھَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی غَیْرَ اَنَّہُ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اﷲ عنہ سے فرمایا: ’’کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ میرے لیے تم ایسے ہو جیسے موسیٰ کے لیے ہارون تھے، لیکن فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہو گا‘‘۔ (صحیح البخاری، ح:۴۴۱۶) لَأُعْطِیَنَّ ہٰذِہِ الرَّأْیَۃَ غَدًا رَجُلًا یَفْتَحُ اللّٰہُ عَلَی یَدَیْہِ یُحِبُّ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہُ وَ یُحِبُّہُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ ۔ آپ صلی اﷲ

رَیحانۃ النبی المصطفیٰ،سوار دوش رسول، جگر گوشۂ بتول سیدنا حسین ابن علی رضی اﷲ عنہما

مولانامحمد احمدحافظ ریحانۃ النبی المصطفیٰ سیدنا حسین ابن علی رضی اﷲ عنہما قریش کا خلاصہ اور بنی ہاشم کا عطر تھے۔ آپ کا شجرہ طیبہ یہ ہے کہ آپ کے والد گرامی سیدنا علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ اور والدہ ماجدہ سیدۃ نساء اہل الجنۃ سیدہ فاطمہ بنتِ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں۔ نام حسین، کنیت ابو عبداﷲ اور لقب ’’سید شباب اہل الجنۃ‘‘ اور ’’ریحانۃ النبی‘‘ ہیں۔ ولادت: ابھی آپ شکم مادر میں ہی تھے کہ حضرت حارث رضی اﷲ عنہ کی صاحبزادی ام الفضل نے خواب میں دیکھا کہ کسی نے رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کے جسم اطہر کا ایک ٹکڑا کاٹ کر ان کی گود میں رکھ دیا ہے۔ انہوں نے اسے ناگوار جانا اور رسول اﷲ صلی اﷲ

امیرالمؤمنین، خلیفۃ المسلمین سیدنا معاویہ رضی اﷲ عنہ

(آخری قسط ) غلام مصطفی جدید تہذیب کے دِلدادوں اور تاریخ کے رطب ویابس کی زد میں آنے والے پڑھے لکھے کرم فر ماؤں سے گذارش ودرخواست ہے کہ روافض کے لکھے ہوئے چیتھڑوں پر انصار کرنا چھوڑ دیں۔ اور سیدنا معاویہ رضی اﷲ عنہ کے حیرت انگیز اسلامی کار ناموں کو جانچنے کے لیے وسعت نظری کے ساتھ عمیق مطالعہ کریں۔ قرآن وحدیث کے اصولوں کی روشنی میں ایک عظیم حکمران کی وسیع سلطنت کے خدوخال کا بغور جائزہ لیں ایک ہی باہمی جنگ کی کہانیاں بیان کیے جانے کی بجائے غیر مسلموں سے لڑی جانے والی سینکڑوں لڑائیاں اور بے مثال اصلاحات سے خود کو روشناس کرائیں۔ تاریخ اسلام کا ایک دلچسپ سوال نامہ : تاریخ کی مشہور کتابوں میں سے ایک ’’الکامل‘‘

منقبت سیدنا عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ

نادر صدیقی کون ہے پیاس کی عصمت کو بچانے والا کون ہے پانی پیمبر کو پلانے والا کون ہے جس نے صحابہ پہ سخاوت کی ہے کون ہے جس نے بڑے لوگوں کی دعوت کی ہے ہاتھ کھولے تو مدینے کو سخی کرنے لگے ہم فقیروں کو بھی عثمان…… غنی کرنے لگے آنکھ اٹھائے تو مَلَک آنکھ جھکانے لگ جائیں ہاتھ اٹھائے تو عزازیل ٹھکانے لگ جائیں ایسی پاکیزہ حیا جس پہ حیا ناز کرے کیوں نہ عثمان پہ محبوبِ خدا ناز کرے مشک و کافور سے معمور ہے دنیا اس کی یعنی دو نور سے معمور ہے دنیا اس کی سایہءِ گنبدِ خضرا میں مکیں ہے اب بھی اپنے محبوب نگینوں کے قریں ہے اب بھی (حرم معظم مکہ مکرمہ میں لکھی گئی)

جنگِ یمامہ

ڈاکٹر محمد سعید کریم بیبانیؔ سناؤں جنگِ یمامہ کا قِصہ اے احباب؟                                            کہ جس میں قتل ہوا تھا مسیلمہ کذاب پیغمبر کا کیا جس نے کذبیہ دعویٰ                                                چنانچہ آقاؐ نے لشکر جہاد کا بھیجا جہاد ایسوں سے کرنا ہے فرض، بے شک ہے                                         رسول پاکؐ کا ہر اُمتی پہ یہ حق ہے مگر وہ فوج مدینے کی حد سے جو نہی گئی 

فراق کیا ہے

سعود عثمانی فراق کیا ہے کسے خبر ہے حدِ مدینہ تھی جس پہ اک شہسوار پابستہ چل رہا تھا یمن کی جانب سفر کی خاطر ضروری زاد سفر سبھی بار ہوچکا تھا وداع کرنے وداع ہونے کا وقت سر پرتھا رنج آزار ہو چکا تھا دیا رِدل دار ہولے ہولے قدم اٹھاتے بچھڑ نے والوں کو دیکھتا تھا سوار تھا دور جانے والا اور اس کو رخصت کے لفظ کہتا سوار کے ساتھ ساتھ پیدل وداع کرنے کو چل رہا تھا وہ دوست جو اس کو بھیجتا تھا وہ دوست اک عام دوست کب تھا یہ کب ہوا ہے کہ ہر کسی شہسوار کا یہ نصیب بھی ہو کہ ایسا سردار دوست ہو جو نبی بھی ہو اور حبیب بھی ہو؟ جودل کے اتنے قریب

امیر شریعت حضرت سید عطاء اﷲ شاہ بخاری رحمۃ اﷲ علیہ

(یوم پیدائش: 23 ستمبر 1892ء) علامہ عبد الرشید نسیم طالوتؔ رحمہ اﷲ حضرتِ سید عطاء اﷲ شاہؒ                               مومنوں کا قافلہ سالار ہے پاسدارِ عزتِ ابرار ﷺ ہے                               ناخدائے کشتیِ احرار ہے غازیٔ گفتار بھی ہے ٹھیک ہے                        اصل میں پَر غازیِ کردار ہے معرکوں میں اپنے دادا کی طرح                        شیر ہے، مقدام ہے، کرّار ہے آپ کی تقریر ہے سحرِ جلال                             آپ

ذرا سی احتیاط ………… فوائد بے شمار

مولانا منظور احمد آفاقی سرکاررسالت مآب صلی اﷲ علیہ وسلم کے دور میں ایک دفعہ ایک گھر کو آگ لگ گئی تھی۔ آپ نے تحقیقات کرائیں ۔ معلوم ہوا کہ رات کے وقت صاحب خانہ چراغ بجھائے کے بغیر سوگیا تھا۔ ایک چوہا اپنے بل سے نکلا۔ چراغ کے پاس پہنچا اور اس میں پڑے ہوئے تیل کو پینے لگا۔ تیل ختم ہوا تو اس نے بتی کا نچلا سیرا منہ میں دبایااور چھت پر چڑھ گیا۔ بتی کا دوسرا سرابد ستور جل رہا تھا۔ چھت گھاس پھوس اور کھجور کی شاخوں کا ایک چھپر تھی، جس نے فورا آگ پکڑلی اور دیکھتے ہی دیکھتے سارے گھر میں پھیل گئی۔ اس موقع پر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ان ھذہ النار انماہی

میرا یار مجھ سے بچھڑ گیا

شیخ الطاف الرحمن بٹالوی حادثوں کی آنچ ! تونے لاکھ سلگایا مجھے میں ترو تازہ ہوں ، شاخِ زندگی آ دیکھ لے 15؍ جولائی 2021ء رات کوئی ڈیڑھ بجے، گھر کی گھنٹی بج۔ دروازہ کھولا۔ بیٹا (حافظ شفیق الرحمن)اور بھتیجا (اشعر خلیل) سامنے کھڑے تھے۔ ہسپتال سے یہ خبر لے کر آئے تھے کہ مانی (عمیر الطاف) ہم سے روٹھ گیا ہے۔ دور، بہت دور چلاگیاہے …… ایک بجلی کوندی، صدمے کا پہاڑ ٹوٹا۔ نہیں…… میری کمر ٹوٹ گئی۔ ایسے جیسے مکان میرے سر پر آگرا ہو۔ مجھے بس اتنا یاد ہے کہ وہ کہہ رہے تھے۔ ’’ابّا جی! ہسپتال سے مانی کی میت ہم آبائی گھر لے کر آ رہے ہیں‘‘ اپنی ماں کی وفات کے بعد، مانی نے ساری زندگی میرے ساتھ گزاری۔

ایک نومسلم کی سرگزشت

دوسری و آخری قسط ڈاکٹر عمر فاروق احرار پروفیسر طاہر احمد ڈار 1967ء میں فاروق آباد ضلع شیخوپورہ میں پیداہوئے۔آپ مقامی کالج میں انگریزی کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ پروفیسر طاہر احمدڈار ایک سو چودہ سال سے قادیانیت پر قائم رہنے والے خاندان کے وہ پہلے فرد ہیں، جنہوں نے قادیانیت کو ترک کیا اور اسلام کی دولت پائی۔ اسلام کی سعادت حاصل کرنے میں پروفیسرصاحب کے پانچ بچے اوران کی اہلیہ بھی شامل ہیں۔ زیرِ نظر تحریر میں ان کے قبول اسلام کی روداد انھی کے الفاظ میں بیان کی جا رہی ہے۔(ادارہ) قادیانیت کی ساری عمارت ہی جھوٹ پر قائم ہے۔ وہ ہر معاملے میں جھوٹ بولتے ہیں۔ مثلاً قادیانی اپنی اصل تعداد کبھی نہیں بتائیں گے، بلکہ ہمیشہ اپنی تعداد کو بڑھا چڑھا

تاریخ احرار

قسط نمبر ۱۷ مفکر احرار چوہدری افضل حق رحمہ اﷲ مسٹر کھوسلہ کا فیصلہ: مولانا سید عطاء اﷲ شاہ صاحب کے تاریخی مقدمہ میں ان کی اپیل پر مسٹر کھوسلہ سیشن جج گورداسپور نے بزبان انگریزی جو فیصلہ صادر کیا ہے۔ اس کا اردو ترجمہ درج ذیل ہے۔ مرافعہ گزار سید عطاء اﷲ شاہ بخاری کو تعزیرات ہند کی دفعہ ۱۵۳؍الف کے ماتحت مجرم قرار دیتے ہوئے اس تقریر کی پاداش میں جو انھوں نے ۲۱؍ اکتوبر ۱۹۳۴ء کو تبلیغ کانفرنس قادیان کے موقعہ پر کی چھ ماہ کی قید بامشقت کی سزا دی گئی ہے۔ مرافعہ گزار کے خلاف جو الزام عاید کیا گیا ہے اس پر غور و خوض کرنے کے قبل چند ایسے حقائق و واقعات بیان کردینا ضروری معلوم ہوتا ہے

محرم الحرام اور مجالس ذکر حسین رضی اﷲ عنہ

عبداللطیف خالد چیمہ نیا اسلامی سال شروع ہوتاہے تو سیدنا حضرت عمر فاروق اور سیدنا حضرت حسین رضی اﷲ عنہما کا ذکر خیر بھی اپنے عروج پر پہنچ جاتا ہے۔ کم لوگ ہیں ……مگر ہیں جو مشکلات کے کئی پہاڑ عبور کرکے تاریخی روایات کو قرآن و سنت اور اسوۂ صحابہ رضی اﷲ عنہم کی روشنی میں پرکھنے کا پیغام مسلسل دے رہے ہیں۔ اور اس کام کی پاداش میں ان پر بہتان لگانے والے اہل حق بھی کم نہیں۔ محرم الحرام میں اہل سنت والجماعت کا ایک قدیمی ومرکزی اجتماع دار بنی ہاشم ملتان میں قائد احرار حضرت مولانا سید عطاء المحسن بخاری رحمتہ اﷲ علیہ کا شروع کردہ ہے۔ جسے 48 برس ہونے کو ہیں اور اس برس بھی دس محرم الحرام 19اگست(

تبصرہ کتب

نام کتاب: معارفِ سیرت مرتب: میاں سعد خالد مطبع: دار الکتاب قیمت: درج نہیں مبصر: ڈاکٹر محمد سلیم (استاذ کلیۃ العلوم والادب، جامعہ ملک عبد العزیز سعودی عرب ) ’’معارف‘‘ دارالمصنفین اعظم گڑھ سے شائع ہونے مجلہ ہے۔یہ 1916 میں جاری ہوا۔ مختلف علمی و دینی مضامین اس مجلے کا بنے۔علامہ اقبال اور ڈاکٹر حمید اﷲ جیسی معتبر شخصیات نے اس مجلے کے علمی معیار کی تعریف کی ہے۔ میاں محمد سعد خالد صاحب نے معارف کے مختلف ماہناموں میں سے سیرت مقدسہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم پر لکھے کچھ مضامین کو جمع کیا ہے۔ جس کو دارالکتب نے ’’معارف سیرت‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے۔ان مضامین کی جمع میں زمانی ترتیب کو میاں محمد سعد خالد صاحب کو ملحوظ خاطر رکھا ہے۔اس

اخبارالاحرار

لاہور ( 29 جولائی ) مجلس احرار اسلام پاکستان کے امیر مرکزیہ سید محمد کفیل بخاری نے ایوان احرار نیو مسلم ٹاؤں لاہور میں درس قرآن دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ حضرت عثمان غنیؓ نے زندگی بھر کسی کا احسان نہیں اٹھایا بلکہ مکۃ المکرمہ میں بھی اور مدینۃ المنورہ میں بھی آپ کا شمار مالدار صحابہ میں ہوتا تھا۔ آپؓ نے مسجد نبوی کے لیے اپنے مال سے جگہ خرید کر توسیع کی اور مدینہ والو ں کے لیے میٹھے کنویں کو خریدا اس سب کے باوجود بلوائیوں نے حضرت عثمان غنیؓ پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے ہوئے 18ذی الحج کو انہیں بے دردی کے ساتھ شہید کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ گھریلوتشدد کی روک تھام کے نام پر صوبائی اسمبلیوں

مسافران آخرت

٭ اسلام آباد: ادارہ علوم اسلامیہ کے بانی مہتمم مولانا فیض الرحمن عثمانی رحمہ اﷲ، 24اگست 2021ء کو انتقال کرگئے ٭متبحر عالم دین، جامعہ خیرالمدارس، جامعہ قاسم العلوم اور جامعہ عمربن خطاب ملتان کے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یاسین صابر رحمہ اﷲ 25اگست 2021ء کو مختصر علالت کے بعد ملتان میں انتقال کرگئے۔ ٭مجلس احرار اسلام پاکستان کے امیر سید محمد کفیل بخاری کی چچی، سید عطاء المنان بخاری کی ممانی، سید محمد امجد شاہ صاحب کی اہلیہ، سید محمد اسجد شاہ، سید عبدالقیوم شاہ کی والدہ، 28اگست کو انتقال کر گئیں۔ ٭ مجلس احرار اسلام ملتان کے کارکنان محمد معاویہ اور محمد زبیر کی والدہ، بھائی نثار احمد مرحوم کی اہلیہ 6اگست کو انتقال کرگئیں۔ ٭ مدبر احرار ماسٹر تاج الدین انصاری رحمہ

نقیب

گزشتہ شمارے

2021 September

فتح طالبان اور افغانستان کی نئی صورت حال

یوم تحفظ ختم نبوت (یوم قرارداد اقلیت)

رفیق افغان: ایک صحافتی مزاحمتی کردار

شہدائے ختم نبوت چوک چیچہ وطنی کی تعمیر نو

عورت مارچ ایجنڈا قانون بن گیا، والدین ہونا جرم

سیدنا حمزہ رضی اﷲ عنہ

سیدنا علی رضی اﷲ عنہ کی مزعومہ خلافت بلا فصل کے دلائل کا جائزہ

رَیحانۃ النبی المصطفیٰ،سوار دوش رسول، جگر گوشۂ بتول سیدنا حسین ابن علی رضی اﷲ عنہما

امیرالمؤمنین، خلیفۃ المسلمین سیدنا معاویہ رضی اﷲ عنہ

منقبت سیدنا عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ

جنگِ یمامہ

فراق کیا ہے

امیر شریعت حضرت سید عطاء اﷲ شاہ بخاری رحمۃ اﷲ علیہ

ذرا سی احتیاط ………… فوائد بے شمار

میرا یار مجھ سے بچھڑ گیا

ایک نومسلم کی سرگزشت

تاریخ احرار

محرم الحرام اور مجالس ذکر حسین رضی اﷲ عنہ

تبصرہ کتب

اخبارالاحرار

مسافران آخرت