تازہ ترین خبریں
آپ کو مجلس احرار کیسی لگی؟

حضرت عثمان ابن عفان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ

(آخری قسط)

امام اہل سنت حضرت مولانا سید ابومعاویہ ابوذر بخاریؒ 

ہمارے زمانہ کے َسبائی
ہمارے زمانہ کے سبائیوں کا بھی یہی وطیرہ ہے کہ اندر سے تو وہ پکے سبائی ہوتے ہیں مگر بظاہر سُنی حنفی بن کر سبائیوں کے عقائدوخیالات سُنی مسلمانوں میں پھیلانے کی مذموم حرکت کرتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ ان کے شر سے بھی ہمیں بچائے۔ آمین ۔
حضرت عثمانؓ کے خلاف سبائی محاذ
ہاں تو جب بصرہ، کوفہ اور مصر کے ان سازشیوں نے اندر اندر جڑیں کچھ مضبوط کرلیں تو اب انہوں نے میدان میں نکل کر کھل کھیلنے کا فیصلہ کیا ۔پس یہودی ابن سباء اور ان لوگوں نے خط کتابت کرکے تاریخ مقرر کی اور سب مجتمع ہوکر شوال ۳۵ھ میں حاجیوں کی شکل میں مدینہ منورہ آپہنچے آپس کی خط کتابت میں انہوں نے حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عائشہ صدیقہ اور دوسرے مشہور اور جلیل القدر صحابہ کرام کی طرف سے دوسرے مقامات کے لوگوں کے نام فرضی(۱) خط لکھ لکھ کر ان حضرات کی جعلی مہریں بھی لگالیں کہ یہ حضرات حکم دیتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ خراب ہوگئے ہیں۔ بار خلافت اٹھانے کے اہل نہیں رہے۔ اس لیے ان کو معزول کیا جائے۔
پھر جو صحابہ کوفہ میں تھے ان کے ناموں کے جعلی خطوط مصر اور بصرہ کے لوگوں کے نام اور جو صحابہ مصر میں رہتے تھے ان کے ناموں کے جعلی خطوط کوفہ اور بصرہ کے لوگوں کے نام۔اور جو صحابہ مدینہ منورہ میں مقیم تھے ان کے ناموں کے خطوط مصر اور کوفہ بصرہ کے لوگوں کے نام لکھے۔ چنانچہ یہ لوگ حاجیوں کی شکل (۲) میں اڑھائی ہزار کی تعداد میں مدینہ پہنچ گئے (۳) سوئے اتفاق سے ایک آدھ صحابی اور ایک دو نو عمرابناء صحابہ مثلاً حضرت محمد بن ابوبکر اور حضرت محمد بن ابوحذیفہ وغیرہ جو حضرت عثمانؓ سے بوجوہ غیر معتبرہ ناراض تھے ان کو بھی یہ لوگ ورغلا کر اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہوگئے۔ مدینہ منورہ کے عام صحابہ کرام نے جب یہ حالات دیکھے تو سب حضرات نے ان سبائیوں سے نفرت اور لاتعلقی کا اظہار کیا۔ حضرت امیر المومنین علیؓ، حضرت طلحہ، حضرت زبیر رضی اﷲ عنہم نے اور دوسرے صحابہ کرام نے ان کو سختی سے روکا اور مجبور کرکے مدینہ منورہ سے نکال دیا۔ چنانچہ یہ لوگ مدینہ منورہ سے واپس چلے گئے مگر راستہ میں جاکر رک گئے۔ ادھر ذی القعدہ میں مدینہ منورہ کے عام لوگ جب حج پر تشریف لے گئے اور مدینہ منورہ تقریباً مردوں سے خالی ہوگیا تو ان لوگوں نے موقع کو پھر غنیمت جان کر راستہ سے واپس ہوکر ذی الحجہ میں مدینہ منورہ پر دوبارہ حملہ کردیا۔ اور بہانہ یہ بنایا کہ حضرت عثمان نے حاکم مصر کو یہ خط لکھا ہے کہ جب یہ لوگ مصر پہنچیں تو ان کو قتل کردو۔ حافظ ابن کثیر یہ واقعات تفصیل سے بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہـ :
کَتَبُوْا مِنْ جِھَۃِ عَلِیٍّ وَّ طَلْحَۃَ وَ الزُّبِیْرِ اِلیَ الْخَوَارِجِ کُتُبًا مُّزَوَّرَۃً اَنْکَرُوْھَا وَ ھٰکَذَا زُوِّرَ ھٰذَا الْکِتَابِ عَلٰی عُثْمَانَ (۴)
ترجمہ: ان سبائیوں نے حضرت علی، طلحہ اور زبیر کی طرف سے خوارج کے نام جعلی خطوط لکھ لیے جن کا ان سب حضرات نے انکار کیا۔ ایسے ہی حضرت عثمان کے نام سے جعلی خط لکھا گیا جس کا حضرت عثمان کے فرشتوں کو بھی علم نہ تھا۔
چنانچہ ان لوگوں نے حضرت عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے مکان کا محاصرہ کرلیا۔ حضرت عثمان کے مکان کے صدر دروازے پر تو چونکہ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حضرت حسن وحسین وعبداﷲ بن زبیر وغیرہ نوجوان صحابہ رضی اﷲ عنہم کا مضبوط پہرہ لگادیا۔ بلکہ ایک جھڑپ میں حضرت حسن زخمی بھی ہوگئے۔ اس بنا پر ان سبائیوں کو فکر ہوئی کہ کہیں بنو ہاشم مشتعل نہ ہوجائیں۔ دوسری ان کو یہ فکر بھی تھی کہ چند دن بعد جب دوسرے صحابہ کرام حج سے واپس آگئے تو پھرکچھ بس نہ چل سکے گا۔ نیزان کو یہ بھی پتہ چل گیا کہ شام اور بصرہ وکوفہ سے حضرت عثمان کی نصرت اور مدینہ منورہ کی حفاظت کے لیے فوجیں روانہ ہوچکی ہیں تو ان کو خوف لاحق ہوا۔ کہ اگر اسلامی فوجیں اور حجاج کرام مدینہ منورہ پہنچ گئے تو ان کی خیر نہیں۔ اس لیے انہوں نے جلد سے جلد ترحضرت عثمان کو شہید کرنے میں ہی اپنی عافیت دیکھی۔ چنانچہ زیادہ حصہ نے تو صدر دروازے پر حملہ کیا جن کی مدافعت میں حضرات حسنین اور دوسرے نوجوان صحابہ کرام مصروف ہوگئے۔ لیکن چند سبائی نہایت ہوشیاری اور پھرتی کے ساتھ مکان کی پچھلی طرف سے حضرت عمر وبن حزم انصاری رضی اﷲ عنہ کے گھر گھس کر حویلی کی دیوار پھاند کر اندر پہنچ گئے۔ حضرت عثمان تلاوت فرمارہے تھے کہ ان کو جمعہ ۲۷ ذی الحجہ ۳۵ھ بوقت عصر انتہائی ظلم سے شہید کردیا۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون (۵)
جب حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو اس حادثہ فاجعہ کا علم ہوا تو آپ بے ساختہ دوڑتے ہوئے آئے اور حضرات حسنین کوبُرا بھلا کہا حضرت حسن کو تھپڑ بھی مارا۔ حضرت حسین کو بھی دھکا دیا۔ مگر انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے ان کو دروازے سے نہیں گھسنے دیا۔ ان کے چند آدمی اچانک پچھلے ہمسائے کے مکان سے اندر گھس گئے اور ہم اس طرف کے باغیوں کو روکنے میں مصروف تھے۔ تو پھر حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے بھی انا ﷲ وانا الیہ راجعون پڑھا۔
حواشی
(۱) تفصیل کے لیے ابن کثیر جلد ہفتم کے صفحات ۱۷۳،۱۷۵،۱۸۶،۱۹۵دیکھیں۔ (۲) ابن کثیر ص ۱۷۰ج۷
(۳)ابن کثیر ص ۲۳۸ ج ۷ (۴)ابن کثیر ص ۱۷۵ ج۷ (۵)ابن کثیر ص ۱۸۸ ج ۷

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.