تازہ ترین خبریں
آپ کو مجلس احرار کیسی لگی؟

علم

مولانا ڈاکٹر حبیب اﷲ مختار رحمۃ اﷲ علیہ

علم اور علم دین سے فائدہ اٹھانے والوں کی قسمیں :
حضرت ابو موسیٰ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اﷲ جل شانہ نے مجھے ہدایت اورعلم دے کر بھیجا ہے اس کی مثال اس بارش کی سی ہے جو کسی سر زمین پر برسے، اس زمین کا بعض حصہ ایسا عمدہ و پاکیزہ ہو جو اس پانی کو جذب کرلے اور بہت سا سبزہ اور گھاس اگائے۔ اس میں سے بعض حصے ایسے ہوں جو سخت زمین والے ہوں، پانی روک کر محفوظ رکھیں اور اﷲ تعالیٰ اس کے ذریعے لوگوں کو فائدہ پہنچائیں، وہ اس سے خود پئیں اور اپنے جانوروں کو پلائیں اور کاشتکاری کریں۔ اس کا ایک حصہ ایسا ہو جو چٹیل بیابان ہو جو نہ پانی روک کر محفوظ رکھے نہ گھاس چارہ اگائے۔ اسی طرح مثال ہے اس کی جو اﷲ تعالیٰ کے دین کی سمجھ رکھے اور اﷲ جل شانہ نے جس دین کے ساتھ مجھے بھیجا ہے اس کے ذریعہ سے فائدہ پہنچائے، وہ اسے خود سیکھے اور دوسروں کو سکھائے اور اس کی مثال جو اس شریعت و دین کی طرف توجہ ہی نہ کرے اور جس ہدایت کو اﷲ جل شانہ نے مجھے دے کر مبعوث فرمایا ہے اسے قبول نہ کرے۔ (متفق علیہ)
یعنی جس طرح بارش سے فائدہ اٹھانے میں زمینوں کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں اسی طرح علوم الٰہیہ اور تعلیمات نبویہ سے استفادہ کرنے والوں کی بھی قسمیں ہوتی ہیں، بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ان علوم کو حاصل کرتے ہیں خود بھی ان پر عمل کرتے اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور دوسروں کوبھی سکھاتے ہیں اور ان کی دنیا وآخرت بناتے ہیں۔ بعض ایسے ہوتے ہیں کہ علم سیکھا، دوسروں کو دعوت دی، سکھایا اور خود عمل نہ کیا جیسے زمین پانی رو کے۔ خود نہ پیے دوسروں کو سیراب کرے۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ نہ خود سیکھتے اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں نہ دوسروں کے لیے فائدہ کا ذریعہ بنتے ہیں۔ لہٰذا جس طرح وہ زمین سب سے عمدہ ہوتی ہے جو بارش سے خود بھی سیراب ہو اور دوسروں کو غلہ، سبزی اور پھلوں کی شکل میں فائدہ پہنچائے اسی طرح وہ شخص بڑا خوش نصیب اور ارفع واعلیٰ ہے جو خود علم سیکھے اس پر عمل کرے اپنی آخرت بنائے اور دوسروں کو تعلیم دے انہیں سکھائے اور ان کی دنیا وآخرت بنائے۔
سرخ اونٹوں سے بہترـ :
حضرت سہیل بن سعد رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: بخدا اگر اﷲ تعالیٰ تمہارے ذریعہ سے ایک شخص کو بھی ہدایت دے دے تو وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ (متفق علیہ)
اہل عرب میں سرخ اونٹ بہت قیمتی شمار ہوتے ہیں جیسے دنیاوی لحاظ سے سرخ اونٹ کا مالک بڑا خوش نصیب شمار ہوتا ہے اسی طرح اخروی لحاظ سے ایسا شخص بڑا خوش نصیب ہے جو لوگوں کو راہ راست پر لگانے کی جدوجہد کرے، انہیں صحیح راستہ بتلائے اور ان کی دنیاو آخرت دونوں بنا دے۔ اس لیے کہ اﷲ تعالیٰ نے ہرا مت میں راہ سے بھٹکے ہوئے لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لیے انبیاء علیہم السلام کو بھیجا۔ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم خاتم الانبیاء والرسل ہیں آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ شیطان لوگوں کو گمراہ کرتا رہتا ہے، نفس امارہ تباہی کی طرف لے جانے کی کوشش کرتا ہے ،دنیاوی لذتیں حیوانیت کی طرف راغب کرتی ہے، شہوات اپنا غلام بنانے کے درپے ہوتی ہیں، کمزور ترین انسان کس کس کا مقابلہ کرے؟ اس کے لیے امت کے ذمہ یہ فریضہ رکھا گیا ہے کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرے، لوگوں کو راہ راست پر لانے کی جدوجہد کرے۔ اس پر بڑے سے بڑے اجر کا وعدہ کیا گیا ہے اور اسے چھوڑنے پر سخت وعیدیں وار د ہوئی ہیں۔ آپ کی جدوجہد سے اگر ایک آدمی بھی راہ راست پر لگ گیا تو آپ کا بیڑا پار ہے۔ دنیاوی دولت آنکھ بند ہونے پر یہیں رہ جائے گی لیکن یہ دعوت وتبلیغ، تعلیم وتربیت آخرت بنائے گی، لہٰذا ظاہر ہے اس سے بڑھ کر اور کیا چیز ہوسکتی ہے۔
عالم اور متعلم :
حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: دنیا ملعون ہے اور معلون ہے وہ جو اس میں ہے۔ سوائے اﷲ تعالیٰ کے ذکر کے اور جس کو اﷲ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور عالم یا متعلم۔ (ترمذی)
دنیا ملعون ہے یعنی اﷲ جل شانہ کی رحمت سے دور ہے اس لیے کہ آخرت سے غافل کرتی ہے، لہو ولعب میں لگاتی ہے۔ انسان اس میں دل لگا کر آخرت کی فکر نہیں کرتا، اسے سب کچھ سمجھنے لگتا ہے۔ عورتوں بچوں کی محبت، مال و دولت کی کثرت، دنیا کی زیب وزینت انسان کو مست کردیتی ہے، سرکش بنا دیتی ہے۔ اس لیے دنیا اور اس کی چیزیں اﷲ جل شانہ کی رحمت سے دور ہیں البتہ اﷲ جل شانہ کی اطاعت وفرمانبرداری، ذکر الٰہی ، تعلیم وتعلم، عالم و متعلم اس سے مستثنیٰ ہیں۔ ان کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ کی رحمت برستی ہے، حیوانوں کو رزق ملتا ہے، عذاب ٹلتا ہے۔ ان کو یہ مرتبہ اس لیے حاصل ہوا کہ یہ دنیا کے چکر میں نہیں پھنسے، انہوں نے دنیا سے دل نہیں لگایا، انہوں نے آخرت کی تیاری کی، دوسروں کو آخرت بنانے کی دعوت دی۔ اس لیے اﷲ تعالیٰ کی عنایت خاصہ ان کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ یہ قربِ خداوندی سے محفوظ اور رضاء ور ضوان سے سرشار ہوں گے۔
طلبِ علم کا ثواب:
حضرت انس رضی اﷲ عنہ نے فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص علم کے طلب کرنے کے لیے نکلا وہ جب تک واپس نہ آئے اﷲ تعالیٰ کے راستے میں ہے۔ (رواہ الترمذی)
علم سے علمِ دین مراد ہے۔ طلبہ کے لیے بڑی خوشخبری ہے، وہ طلبہ جن کا مقصد رضاء خداوندی ہو، جن کا مقصد تحصیل علم لرضاء اﷲ ہو، جن کامقصد دنیاوی وجاہت، ڈگری اور ملازمت نہ ہو جو روپیہ پیسہ کے حصول یا دنیاوی مناصب کے لیے علم حاصل نہ کریں۔ اﷲ تعالیٰ کے بند و اپنی نیت درست کر لو! اس اجر وثواب کے مستحق بن جاؤ گے۔ باقی رہیں دنیاوی چیزیں تو وہ تو ہرصورت میں ملیں گی ہی، نیت کیوں خراب کرتے ہو، اخلاص پیدا کرو، صرف اور صرف رضاء الٰہی کے لیے علم حاصل کروتا کہ اﷲ جل شانہ کی رضا حاصل ہو اور حقیقی معنوں میں اﷲ کے راستے میں نکلنے والے شمار ہو۔
علم کا شوقین:
حضرت ابوسعید خدری رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مؤمن کا خیر (علم) سے پیٹ نہیں بھر تا یہاں تک کہ اس کا منتہیٰ جنت ہوجائے۔ (رواہ الترمذی)
ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ دو پیٹو ایسے ہیں جن کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا ایک وہ جسے مال ودولت کاشوق ہو اور دوسرا وہ جسے علم کا شوق ہو، مال کا شوقین نناوے کے پھیر میں لگا رہتا ہے ھل من مزید کا طالب رہتا ہے اور علم کا شوقین ’’وفوق کل ذی علم علیم‘‘ اور ’’وما اوتیتم من العلم الا قلیلا‘‘ کے مطابق ربی زدنی علما پڑھتا جاتا ہے اور اور مزید علم حاصل کرتا جاتا ہے۔ علم ایک ایسا سمندر ہے۔ جس کا کوئی ساحل نہیں انسان جتنا آگے بڑھتا ہے اسے اندازہ ہوتا ہے کہ مجھے کچھ نہیں آتا۔ واقعی خیر، نیکی، عبادت اور علم ایسی چیزیں ہیں جن سے انسان کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا، عالم وطالب علم پڑھتا جاتا ہے علم میں منہمک رہتا ہے بالآخر اسی میں اس کاانتقال ہوجاتا ہے اور منزل مقصود جنت تک پہنچ جاتا ہے۔
عالم وعابد میں تفاوت:
حضرت ابوامامہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عالم کو عابد پر ایسی فضیلت حاصل ہے جیسی مجھے تم میں سے ادنیٰ اور معمولی سے آدمی پر پھر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اﷲ جل شانہ اور اس کے فرشتے اور تمام آسمانوں اور زمین والے حتیٰ کہ چیونٹی اپنے سوراخ میں اور مچھلیاں سمندر میں لوگوں کو خیر (علم) کی تعلیم دینے والے کے لیے دعاکرتی ہیں۔ (رواہ الترمذی)

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.