تازہ ترین خبریں
آپ کو مجلس احرار کیسی لگی؟

ابن امیرشریعت ،حضرت پیرجی سید عطاء المہیمن بخاری رحمۃ اﷲ علیہ

سید محمد کفیل بخاری

مختصر احوال و تعارف

ابن امیرشریعت ،حضرت پیرجی سید عطاء المہیمن بخاری رحمۃ اﷲ علیہ

سابق امیرمجلس احراراسلام پاکستان

ولادت:16؍رجب1363ھ ،یکم جولائی 1944ء امرتسر(انڈیا)
ابتدائی تعلیم:1948ء (والدہ ماجدہ سے دوپارے پڑھے)
مدرسہ قاسم العلوم ملتان:1953ء کی تحریک تحفظ ختم نبوت کے اختتام تک حضرت قاری محمداجمل رحمہ اﷲ کے پاس 15پارے حفظ کیے۔تحریک ختم نبوت میں قید سے رہائی کے بعد والد ماجد گھرآئے توحضرت مولانا خیرمحمد جالندھری رحمتہ اﷲ علیہ کے مدرسہ خیرا لمدارس ملتان میں داخل کرادیا۔یہاں استاذ القراء حضرت مولانا قاری رحیم بخش (پانی پتی)نوراﷲ مرقدہ‘ کے پاس1954ء میں حفظ قرآن کی تکمیل کی اور سند ِ حفظ مدرسہ خیرالمدارس کے سالانہ جلسہ1958ء میں ملی۔
حفظ ِ قرآن کے اساتذہ:
(1) والدہ ماجدہ رحمتہ اﷲ علیہا
(2) حضرت قاری محمداجمل رحمتہ اﷲ علیہ (مدرسہ قاسم العلوم ملتان)
(3) حضرت قاری رحیم بخش پانی پتی رحمتہ اﷲ علیہ(جامعہ خیرالمدارس ملتان)
وہ اساتدہ جن سے جزوی استفادہ کیا اور وقتاً فوقتاً منزل سنائی:
(1) حافظ عبدالغفار رحمہ اﷲ ،مسجد عائشہ ملتان
(2) حافظ نذیراحمد رحمہ اﷲ ،مسجد عائشہ ملتان
(3) مولانا حافظ احمددین رحمہ اﷲ ،مدرسہ دعوۃ الحق ملتان
(4) حافظ سلامت اﷲ رحمہ اﷲ ،ملتان
جامعہ خیرالمدارس ملتان:
درسِ نظامی کی ابتدائی کتب کی تعلیم :
(1) استاذالعلماء حضرت مولانا خیرمحمدجالندھری نوراﷲ مرقدہ‘
(2) شیخ الحدیث حضرت مولانا فیض احمد رحمتہ اﷲ علیہ
جامعہ رشیدیہ ساہی وال:
درس نظامی ،عالمیہ کی تکمیل کے لیے 1958ء میں جامعہ رشیدیہ ساہی وال میں داخل ہوئے۔
اساتذہ کرام: جامعہ رشیدیہ
(1) شیخ الحدیث حضرت مولانا محمدعبداﷲ رحمتہ اﷲ علیہ
(2) حضرت علامہ غلام رسول رحمتہ اﷲ علیہ
(3) حضرت حافظ محمدصدیق رحمہ اﷲ
(4) حضرت مولانا عبدالمجید انوررحمہ اﷲ
(5) حضرت مولانا مختار احمد رحمتہ اﷲ علیہ
(6) حضرت مولانا منظور الحق رحمتہ اﷲ علیہ
تجوید وقرأت:
شیخ القراء حضرت قاری عبدالوہاب مکی نوراﷲ مرقدہ‘(مسلم مسجد لاہور۔1961ء)
زمانۂ قیامِ لاہور میں کبار مشائخ بطورِ خاص حضرت مولانا رسول خان رحمہ اﷲ اور حضرت مولانا ادریس کاندھلوی رحمہ اﷲ کے دروسِ تفسیر و حدیث میں اہتمام سے شرکت کرتے رہے۔
والد ماجد کاانتقال:
21؍ا گست 1961ء والد ماجد حضرت امیرشریعت سید عطاء اﷲ شاہ بخاری انتقال کرگئے۔
بیعت:
حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری قدس سرہ‘ ۔1962ء ، کوٹھی حاجی عبدالمتین صاحب مرحوم لاہور
چھے ماہ حضرت رائے پوری قدس سرہ‘ کے ہاں خانقاہ میں قیام کیا اور تربیت وسلوک کی منازل طے کیں، حضرت کے انتقال کے وقت آپ کے پاس تھے۔
تجوید وقرأت کی تدریس:1964ء
مدرسہ خیرالمدارس ملتان میں حضرت مولانا خیر محمدجالندھری قدس سرہ‘ کے حکم پر چند ماہ تجوید وقرأت کی تدریس کی اور طلباء کو مشق کرائی۔
مدرسہ تجوید القرآن چیچہ وطنی(ضلع ساہی وال) میں تدریس حفظ القرآن۔1964ء
حضرت پیرجی عبداللطیف رحمہ اﷲ (خلیفہ مجاز حضرت رائے پوری قدس سرہ‘)کے حکم پر مدرسہ تجویدالقرآن چیچہ وطنی میں2سال تدریس کی۔ پھرحافظ عبدالرشید صاحب رحمہ اﷲ کے ہاں چک 12/42۔ایل چیچہ وطنی میں 1968ء تک گاؤں کے بچوں کو قرآن کریم پڑھاتے رہے ۔
1968ء میں تدریس چھوڑ کر مجلس احراراسلام کے نظام سے وابستہ ہوگئے او رچیچہ وطنی میں احرار کادفتر قائم کرکے تنظیم سازی کی ۔ایوب خان کے خلاف تحریک میں بھرپور حصہ لیا۔1969ء میں چیچہ وطنی میں قادیانیت کے خلاف تحریک کی قیادت کی ،گرفتارہوئے پھر ضمانت پر رہاہوگئے۔1970ء میں اسی مقدمہ میں یحییٰ خان کے مارشل لاء کے تحت ملٹری کورٹ سے چھے ماہ قید سخت بامشقت پانچ کوڑے اور پانچ ہزار روپے جرمانہ کی سزا ہوئی۔پورے ملک میں اس سزا پر احتجاج ہوا توگورنر پنجاب جنرل عتیق الرحمن نے کوڑوں کی سزا معاف کردی۔ آپ تقریباً دس ماہ سنٹرل جیل ساہی وال میں رہے۔
1974ء تک آپ نے چیچہ وطنی میں ہی قیام کیا۔ جس کی وجہ سے آپ کے شاگرد اور عقیدت مند احرار سے وابستہ ہوئے اور حلقہ ٔ احرار بہت مضبوط ہوا۔
حرمین شریفین میں عمرہ کے لیے پہلی حاضری 1974ء
1974ء کی تحریک تحفظ ختم نبوت میں بھرپور حصہ لیا او رتحریک کاتمام عرصہ مرکزی دفتر مجلس احراراسلام لاہور میں قیام کیا،گرفتار ہوئے۔7ستمبر 1974ء کو پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا، اسی روز شام کو رہا ہوگئے۔
27فروری1976ء میں (ربوہ)چناب نگر میں مسلمانوں کی پہلی جامع مسجد احرار کے سنگ ِ بنیاد کی تقریب کااہتمام کیا ، نماز جمعہ پڑھی اور ابتدائی تعمیر اپنے ہاتھوں سے کی۔
1976ء :حرمین شریفین میں دوسری حاضری، حج کیا اور وہیں سکونت اختیار کرلی
مدینہ منورہ میں مستقل قیام :1976ء تا 1990ء (اس دوران تین (3) مرتبہ پاکستان آئے)
اجازتِ بیعت:
(1) حضرت مولانا عبدالعزیز نوراﷲ مرقدہ‘ (جانشین حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری قدس سرہ‘)
(رمضان 1405ھ۔ مئی1958ء۔ بھوربن ،مری)
(2) حضرت مولانا محمدحسین ﷲٰی رحمتہ اﷲ علیہ (خلیفۂ مجاز حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری قدس سرہ‘)
(4؍ربیع الثانی 1422ھ ۔26؍جون 2001ء ۔پنڈدادن خان ضلع جہلم)
(3) حضرت مولانا عبد الجلیل رائے پوری رحمۃ اﷲ علیہ (خلیفۂ مجاز حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری قدس سرہ‘)
علماء ومشائخ سے استفادہ اور ملاقاتیں:
مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے طویل قیام (1976ء تا 1990ء) کے دوران آپ نے جن شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور اُن سے استفادہ کیا اُن کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں:
(1) حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمتہ اﷲ علیہ
(2) حضرت مولانا محمدمنظور نعمانی رحمتہ اﷲ علیہ
(3) حضرت شیخ الحدیث مولانا محمدزکریا رحمتہ اﷲ علیہ:حضرت کے ہاں مستقل قیام رہا اور آپ کے خصوصی خدام میں شامل تھے۔آپ کے انتقال کے وقت بھی پاس ہی تھے۔ غسل، کفن، اور دفن میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔
(4) حضرت مولانا محمدعاشق الہٰی بلند شہری رحمتہ اﷲ علیہ (مدینہ طیبہ میں حضرت کے ساتھ مستقل ملاقاتیں رہیں، رمضان المبارک میں مسجد نبوی شریف میں نوافل میں اُن کاقرآن سنا اور خود انھیں سنایا)
(5) حضرت مولانا محمدسعید خان رحمتہ اﷲ علیہ(تبلیغی جماعت کے معروف بزرگ)
(امیرتبلیغ‘ مدینہ طیبہ میں تبلیغ کے کام میں حضرت کے ساتھ شریک رہے اورجماعتوں کے ساتھ نکل کر نصرت کی)
(6) حضرت میاں عبدالہادی دین پوری رحمۃ اﷲ علیہ: دین پور شریف ان کی خدمت میں اکثر حاضر ہوتے۔
(7) حضرت مولانا محمد عبداﷲ بہلوی رحمۃ اﷲ علیہ: شجاع آباد میں حضرت کے ہاں اکثر حاضری رہتی ۔
(8) حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اﷲ علیہ: کراچی کے سفر میں ہمیشہ حضرت بنوری رحمہ اﷲ کے ہاں حاضر ہوتے حضرت بنوری بہت شفقت فرماتے اور اپنا مہمان بناتے۔
(9) حضرت مولانا مفتی محمود رحمۃ اﷲ علیہ: جامعہ قاسم العلوم ملتان میں اکثر نمازیں پڑھتے اور حضرت مفتی محمود رحمۃ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ حضرت مفتی صاحب بہت شفقت فرماتے۔ کئی بار حضرت مفتی صاحب نے آپ کو نماز کی امامت کے لیے حکم فرمایا۔ نماز کے علاوہ بھی فرمائش کر کے تلاوتِ قرآن سنا کرتے۔
1990ء میں پاکستان آئے تو والدہ ماجدہ کی شدیدعلالت کے باعث یہیں قیام کافیصلہ کرلیا۔
والدہ ماجدہ کاانتقال:6؍جون 1991ء
1993ء میں مجلس احراراسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ کے فیصلے کے مطابق مدرسہ ختم نبوت مسجد احرار چناب نگر کانظام مستقل طورپرآپ نے سنبھال لیا ۔
برادرِ گرامی کاانتقال:23؍اکتوبر1995ء ۔سب سے بڑے بھائی جانشینِ امیرشریعت حضرت مولانا سید ابوذربخاری انتقال کرگئے۔
12؍نومبر 1999ء دوسرے بڑے بھائی حضرت مولانا سید عطاء المحسن بخاری انتقال کرگئے ۔دسمبر 1999ء میں آپ کو مجلس احراراسلام کاامیر منتخب کرلیاگیا۔
1993ء تا 2017ء تقریباً چوبیس سال تبلیغ و دعوت اسلام کے فریضہ کی ادائیگی کے لیے چناب نگر مسجد احرار میں مقیم رہے۔ 2017ء سے علالت کی وجہ سے ملتان اپنے گھر منتقل ہوگئے۔
انتقال: ہفتہ، 23 جمادی الثانی 1442ھ؍6، فروری 2021ء
نماز جنازہ:7فروری 2021ء ،اسٹیڈیم قلعہ کہنہ قاسم باغ ملتان
امامت: مولانا سید عطاء المنان بخاری (فرزندو جانشین )
تدفین: احاطۂ بنی ہاشم، قبرستان جلال باقری،ملتان
والدماجد حضرت امیر شریعت کے قدموں اور برادر گرامی مولانا سید عطاء المؤمن بخاری رحمہ اﷲ کے پہلو میں آسودۂ خاک ہوئے۔
رحمہ اللّٰہ رحمۃً وَّاسعۃ وادخلہ الجنت الفردوس

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.