تازہ ترین خبریں
آپ کو مجلس احرار کیسی لگی؟

’’ریاست مدینہ‘‘ …… فلاحی ریاست؟کچھ قابل غورفکری پہلو

مولانا محمداحمدحافظ
ہمارے دینی حلقوں میں ان دنوں ریاست مدینہ کی کافی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔مخالف وموافق دونوں طرح کی آراء سامنے آرہی ہیں ،موافقین کا موقف تو واضح ہے البتہ مخالفین کا اختلاف کچھ ایسا ہے کہ اگر ریاست مدینہ کے نام پر ایک فلاحی ریاست کی تشکیل کی جانے لگے تویہ اس کے ہمنوا ہوں گے ،اختلاف صرف یہ ہے کہ عمران خان جیسا انسان کیونکر ریاست مدینہ قائم کرسکتاہے؟!……اگرچہ یہ مخولیہ نعرہ عمران گورنمنٹ کے فہم و فراست سے عاری بے شمار اقدامات کے بوجھ تلے کا فی حد تک دَب چکا ہے مگرہمارے خیال میں اس موضوع پر ایک نظری گفتگو کی جاسکتی ہے۔
مسٹرعمران خان کے ذہن میں ’’ریاست مدینہ کاکیا تصور ہے؟ انہوں نے اسلام آباد میں اپنے ایک خطاب کے دوران واضح کیا تھا؛ان کا کہناتھا کہ :
’’ان کامنصوبہ پاکستان کو بالکل اسی طرز پر ایک اسلامی ویلفئیراسٹیٹ بنانے کاہے ،جس طرز پر پیغمبر اسلام صلی اﷲ علیہ وسلم نے مدینہ کو ایک اسلامی ویلفئیر اسٹیٹ بنایا تھا۔مجھے پیغمبرآخرالزماں صلی اﷲ علیہ وسلم سے انسپائریشن ملتی ہے؛جنہوں نے مدینہ کو ایک آئیڈیل ویلفئیر اسٹیٹ بنایا؛جوکہ’’ انتہاپسند‘‘ نہیں بلکہ ایک ’’انسانیت پسند‘‘ریاست تھی۔میں آپ کے سامنے وہ پاکستان رکھنا چاہوں گاجس کا خواب میں نے دیکھا ہے۔ایک ایسی ریاست جو مدینہ میں قائم کی گئی تھی ،جس میں بیواؤں اور غریبوں کا خصوصی خیال رکھاجاتا تھا۔‘‘
اسی طرح مسٹر خان حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو خاکم بدہن لبرل شخصیت بھی قرار دے چکے ہیں۔یہ مسٹرخان کی ریاست مدینہ کے مقدمات ہیں۔
بحیثیت مسلمان مدینہ ہمارے عشق و محبت کا مرکز ہے۔ چنانچہ جب کبھی کوئی بھی شخص ریاست مدینہ کی بات کرے توہمارے مذہبی ذہن میں ایک ایسی پاکیزہ بستی کا تصور اُبھرتا ہے جس کے باسی صحابہ وتابعین جیسے نیک سیرت افراد تھے؛ یہی وجہ ہے کہ جب عمران پسند علماء نے اس اصطلاح کو خاص پذیرائی دی ،اور بھرپور انداز میں مسٹر خان کی ’’ریاست مدینہ ‘‘ پر تنقید کرنے والوں کا جواب دیتے ہوئے مسٹر خان کا دفاع کیا، تو ان کے محرکات میں مذہبیت کا رنگ بھی شامل تھا۔
ایسا بھی نہیں کہ خان صاحب نے یہ باتیں بھولپن میں کہہ دی ہوں۔ا س کا ایک خاص پس منظرہے، اوراس کی پشت پر عرصہ دراز سے سرکاری اداروں اور ان سے وابستہ متجددین کی سرپرستی میں ہونے والا فکری ونظریاتی کام ہے۔ چنانچہ غلبۂ اسلام کی جد و جہد سے وابستہ کارکنان کے لیے لازمی ہے کہ انھیں اس نعرے کا پس منظرمعلوم ہو۔
پہلی بات یہ ہے کہ علی گڑھ فیم دانشوروں اورمتجددین نے مغربی افکارونظریات اور مغربی معیارات ِخیروشر کی اسلامائزیشن کے لیے ایک طویل جدوجہد کی ہے۔انہوں نے (۱)آزادی، (۲)مساوات، (۳)ترقی، (۴)رواداری اور (۵)فلاحی ریاست کے مغربی مفاہیم کو کچھ اس طرح اسلامی جامہ پہنایا ہے کہ اب یہ تصورات ’’اسلامی‘‘ ہی شمار کیے جانے لگے ہیں؛قطع نظر اس بات کے کہ یہ تصورات اپنی بنیاد و نہاد میں الحادکے درجے تک پہنچی ہوئی گمراہیوں پر مشتمل ہیں۔
ان دانشوروں کے خیال میں ایک ماڈرن ریاست بھی’ اسلامی‘ ہوسکتی ہے۔ان متجددین کے نزدیک اسلام تو محض ایک رویہ ہے ،وہ عبادات کے علاوہ زندگی کے اجتماعی امور میں کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کرسکتا۔چناں چہ یہ طبقہ مغربی طرز زندگی ؛بالفاظ دیگر سرمایہ دارانہ نظام زندگی کا ایک اسلامی جواز پیش کرتا ہے۔ متجددین کایہ طبقہ نصوص صحیحہ کی ایسی تشریح پیش کرتاہے جو ہماری تاریخ میں بالکل اجنبی ہے اور جس تعبیر کو قبول کرنے کا مقصد اسلام کو ماڈرن نظام زندگی میں اسی طرح سمو دینا ہے جیسے یورپ میں سترھویں صدی عیسوی کی تحریک تنویر (Enlightenment Movement)نے عیسائی طرز اور نظام زندگی کو ماڈرن طرز اور نظام زندگی میں سمو دیاتھا۔ سترھویں صدی کے روشن خیالوں کی طرح متجددین کابھی بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ اسلام کوئی مکمل اور خود کفیل نظام زندگی نہیں، اسلام محض ایک رویہ اور ایک طرز زندگی ہے اور یہ طرز زندگی ماڈرن نظام زندگی میں سمویا جا سکتا ہے۔
پاکستانی معاشرے کی کایا کلپ پرویز مشرف کے دور میں شروع ہوئی ،اقدار اور نظریات کو تیرفتاری سے تبدیل کیا جانے لگا۔نظریات کی تبدیلی کے لیے آپ اس دور سے آج تلک کی’’ قومی سیرت کانفرنس‘‘ کے موضوعات دیکھ لیجیے؛ وہ’’ پرامن بقائے باہمی‘‘ ،’’مذہبی ہم آہنگی ‘‘،’’بین المذاہب مکالمہ‘‘،’’برداشت‘‘ ،’’رواداری‘‘ ……جیسے عنوانات کے گرد گھومتے ہیں۔ان موضوعات پرتکرار اور تسلسل کے ساتھ پروگرامزمنعقد کرانے کا مقصد سوائے اس کے اور کیا ہوسکتا ہے کہ مغرب کی فکروتہذیب کوپاکستانی معاشرے میں قابلِ برداشت قرار دے کر اگلے مرحلے میں قبول عام دلایاجائے۔ اس سلسلے میں یونیورسٹیز کی سطح پربھی خاصا کام ہوا، یونیورسٹیوں میں ایم فل یا پی ایچ ڈی کے لیے داخلہ لینے والے مدارس عربیہ کے فضلاء خاص ہدف ہیں؛اورانہیں خاص انہی موضوعات پرایم فل یا پی ایچ ڈی کے لیے رہنمائی کی جاتی ہے ۔اسی سلسلے میں ایک نصابی کتاب مرتب کرکے مدارس کے نظام تعلیم میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی جو دینی عقائدونظریات کو منہدم کرتی ہے۔
یادکیجیے کہ پرویزمشرف نے۲۰۰۵ء میں ’’امریکن جیوش کانگریس‘‘ کے پروگرام میں خطاب کیا تھا اور اسے یہودی حلقوں میں کافی سراہاگیا تھا۔اس خطاب کے مندرجات آج بھی اہل فکر کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہیں۔
اسی عرصے میں ایک صاحب نے بیت المقدس پر یہود کے حق تولیت پرمقالہ لکھ کر ہمارے دینی حلقوں میں ارتعاش پیدا کیا تھا۔اسی دور میں مدینہ منورہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے یہود کے ساتھ معاہدے ؛جسے’’ میثاق مدینہ‘‘ کہا جاتا ہے؛ کی بازگشت بھی سنائی دیتی رہی ۔اگرچہ اس وقت ’’ریاست مدینہ‘‘(۶) جیسا کوئی نعرہ سامنے نہیں آیا تھا لیکن سیکولرحلقوں کے فکری کام کا ایک رخ معلوم ہوگیا تھا۔پرویزی دور میں بوجوہ اس پراجیکٹ پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوسکا؛ البتہ دِھیرے دِھیرے اس پر کام چلتا رہا۔اب اس کام کی تکمیل کا بیڑامسٹر خان اور ان کی ٹیم (جواَسّی فی صدپرویزمشرف کے حوالی موالیوں پرمشتمل ہے )نے اٹھایا ہے۔ خیال رہے کہ جب ہم مسٹر خان کاذکرکرتے ہیں تو صرف ان کی ذات مراد نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک ذہنیت ہے جو اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے کہیں بھی سرایت کرسکتی ہے۔
مسٹرخان کی گفتگومیں دوباتیں اہم ہیں،جوہمارے مذہبی نوجوانوں کے لیے مغالطہ آمیز ہیں اور جن کا جانناضروری ہے:
(۱)ان کا ریاست مدینہ کاتصورکیا ہے،وہ کون سی بات ہے جس سے مسٹرخان انسپائر ہوتے ہیں
(’میثاق مدینہ‘‘ اور اس کی خودساختہ تشریح:
نبی صلی اﷲ علیہ وسلم جب ہجرت فرماکر مدینہ طیبہ تشریف لائے تواولین طور پر مسلمانوں کے درمیان محبت واخوت کا انمٹ رشتہ قائم فرمایا۔ایک باہمی عہدوپیمان کرایا جس نے مسلمانوں کو آپس میں لازوال رشتے میں بانددھ دیا۔ اس کے علاوہ آپ نے مدینہ طیبہ میں بسنے والی دیگراقوام خصوصاً یہود کے ساتھ ایک معاہدے فرمایا؛تاکہ مدینہ طیبہ کے باشندے ایک تو یہود کی شرارتوں سے محفوظ رہ سکیں دوسرا یہ کہ غیرمسلم اقوام بھی اسلام کی برکات اور سعادتوں سے بہرہ ور ہوسکیں۔اسے بعض سیرت نگار ’’میثاق مدینہ ‘‘ کے نام سے جانتے ہیں۔یہ معاہدہ بہت دیر نہیں چل سکا ؛کیوں کہ یہود اپنی سرشت کے مطابق شرارتوں سے باز نہیں رہ سکے ۔انہوں نے مسلمانوں کے خلاف خفیہ وعلانیہ سازشیں کرکے خود ہی اس معاہدے کوتوڑا،اسی باعث غزوہ بنوقریظہ برپاہوا، اورانہیں پہلے مدینہ منورہ سے پھر خیبر سے بھی جلاوطن کردیا گیا۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی کہ یہود کو جزیرۃ العرب سے بھی نکال باہر کیاجائے۔ (۷)
متجددین قرآن وسنت اوراجماع امت کو یکسر نظراندازکرتے ہوئے مبینہ ’’میثاق مدینہ ‘‘کوریاست مدینہ کاپہلا’’دَستوری معاہدہ‘‘ اور’’ حقوق انسانی‘‘ کی ایک اہم دستاویز قراردیتے ہیں ۔یہ ۷۳۰؍الفاظ پرمشتمل ایک معاہدہ ہے جس کی بعض محققین کے نزدیک ۵۳ دفعات تھیں۔ڈاکٹر حمیداﷲ مرحوم کی اس موضوع پرخاص تحقیق ملتی ہے ۔
متجددین کے بقول چوں کہ یہودیوں کے ساتھ معاہدہ یہ تھاکہ
مدینہ میں رہتے ہوئے یہودیوں کو مذہبی آزادی ہوگی ۔
بیرونی حملے کے وقت مسلمانوں کے ساتھ متحد ہوکر مدینہ کے دفاع میں حصہ لیں گے۔
شہرمدینہ میں ایک دوسرے کے خلاف جنگ کرناحرام ہے۔
ان(یہودیوں) کے اندرونی معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی۔
مسلمانوں پر جارحانہ حملے کی صورت میں یہودی مسلمانو ں کا ساتھ دیں گے اور یہودیوں پرحملے کی صورت میں مسلمان ان کاساتھ دیں گے۔
یہودی اور مسلمان ایک دوسرے کے حلیف ہوں گے ، کسی سے لڑائی اور صلح کی صورت میں دونوں ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے ،وٖغیرہ۔
جوکوئی بھی اس(میثاق) کی خلاف ورزی کرے گا وہ اس آئین (میثاق مدینہ)کی عطاکردہ مراعات سے محروم ہوجائے گا۔

متجددین اس معاہدے کی مذکورہ شقوں سے’’ جمہوریت‘‘،’’انسان حقوق‘‘ ،’’ترقی‘‘،’’مساوات‘‘ اورحق وباطل کی ’’پرامن بقائے باہمی‘‘ کشید کرتے ہیں ۔ان کے خیال میں یہ معاہدہ ایک ایسی’’ امت واحدہ‘‘ کا تصور پیش کرتا ہے جس میں مسلمان، یہودی، عیسائی، مشرک، کافر، امیر، غریب، سب کے مساوی حقوق تھے۔ ان کے خیال میں ……
= چونکہ اس معاہدے کے مطابق مسلمانوں اور غیر مسلموں کو ایک دوسرے کا دفاع کرنالازم تھا،اوریہ مساویانہ حقوق کے بغیر ممکن نہیں۔
= چونکہ اصول وقوانین شہریوں اور مدینہ کے مختلف طبقات کے نمائندوں کے باہمی مشوروں سے ہی بنائے جاتے تھے؛ اس لیے قانون سازی میں مسلم غیرمسلم بلاتفریق شامل تھے۔
= چونکہ مدینہ کثیرثقافتی شہرتھا(مسلمان،مہاجر،غیرمہاجر،یہودی،عیسائی ،قبائلی وغیرہ)اس لیے اس تکثیری معاشرے کے تمام اجزاء کے درمیان پائے جانے والے خصوصی،مذہبی،روایتی اور ثقافتی پہلوؤں کو ریاستی سطح پر تسلیم کیا گیا۔
متجددین کے خیال میں میثاق مدینہ کی روشنی میں امت واحدہ کا تصور یہ واضح کرتا ہے کہ مسلم اور غیرمسلم خواہ مکہ سے تعلق رکھتے ہوں یا مدینہ سے؛ایک ہی امت تھے۔اس طرح میثاق مدینہ میں پیش کیے گئے اصول وقوانین نے تاریخ میں پہلی بار ایک وحدت کی صورت میں ’امت‘کوتسلیم کیا؛اور انفرادی اور قبائلی زندگی کی جگہ ایک واحد امت کا تصور پیش کیا۔اس ’امت‘ کی پہچان نہ توکوئی مذہب ہے،نہ کوئی نسل ہے،اور نہ ہی کوئی قبیلہ ہے؛بلکہ امت واحدہ کے اس تصور نے نسل پرستی،اورمذہب کی بنیاد پرامتیازی سلوک کارجحان ختم کیا۔
متجددین حق اور باطل ،مسلمان ،کافر،فاسق ، متقی،منافق اور مخلص کی بنیادپرکوئی تقسیم قبول نہیں کرتے۔ان کی رائے میں یہ کسی کے شخصی اوصاف تو ہوسکتے ہیں،لیکن اجتماعی دائرے میں سب برابرہیں،جدیدریاست میں تمام لوگ ’’سٹیزن‘‘ ) (citizenہوتے ہیں۔سٹیزن رعایا کی ضد ہے،’رعایا‘ اَفرادکاوہ مجموعہ ہے جو خلافت وامارت میں بیعت کے عہد وپیمان میں بندھا ہوتاہے ،سٹیزن وہ فرد ہے جو سرمایہ دارانہ لبرل آدرشوں ؛فریڈم(Freedom) ،ایکویلٹی (Equailty)،پراگریس(Progress )کوحق تسلیم کرتاہو۔سٹیزنز کے مجموعے کو سول سوسائٹی کہتے ہیں۔
آپ غور کریں گے کہ مسٹرخان نے اسلام کے نفاذ اور شریعت کی بالاستی کی بات نہیں کی۔وہ ایسی’’ ریاست مدینہ‘‘ کی بات کررہے ہیں جس میں مغربی آدرشیں اورسرمایہ دارانہ استعماری ادارے پورے طورفٹ آسکیں۔آج جب سرکاری کارپرداز قادیانیوں،عیسائیوں اور ہندووں کوبرابر کے حقوق حاصل ہونے بات کررہے ہیں تو ان کے تصور میں ’’میثاق مدینہ ‘‘کی یہی خود ساختہ تشریح ہے۔
ویلفئیراسٹیٹ کیاہے؟
دوسری بات ویلفئیراسٹیٹ کی ہے۔اس کااردوترجمہ ’’فلاحی ریاست‘‘ کیاجاتاہے(۸)۔ہماری پوری اسلامی تاریخ میں ’’ویلفئیراسٹیٹ ‘‘کا نہ تصور ملتا ہے اور نہ یہ اصطلاح۔ اسلام کاتصورفلاح جدا ہے ؛اور وہ آخرت سے وابستہ ہے،اس کا ویلفئیراسٹیٹ سے کوئی تعلق نہیں۔ہمارے ہاں جولوگ ویلفئیر اسٹیٹ کی بات کرتے ہیں وہ ۱۹۸۰ء سے پہلے کی سرمایہ دارریاستوں کے رومان میں مبتلا ہیں(۹) ……لیکن یہ بات سمجھنے سے قبل ویلفئیراسٹیٹ کامعنیٰ ومفہوم اور اس کامصداق جانناضروری ہے۔
ویلفئیراسٹیٹ ……اصلاً سرمایہ دارانہ راسٹیٹ ہوتی ہے ،غیرسرمایہ دارانہ اسٹیٹ ویلفئیراسٹیٹ نہیں ہوسکتی۔ سرمایہ دارانہ ویلفئیراسٹیٹ ایسی مملکت کو کہاجاتاہے جس میں ہیومن رائٹس……آزادی ،مساوات ،ترقی،معاشی خوش حالی،مساوی شہری حقوق،طبقاتی فرق کاخاتمہ، اور سماجی ذمہ داریوں کی تقسیم کسی صنفی تفریق کے بغیر یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔معروف سوشیالوجسٹ ’ٹی ایچ مارشل‘ کے مطابق ماڈرن ویلفئیراسٹیٹ کابنیادی ڈھانچہ تین ستونوں…… جمہوریت، آزاد معیشت اور عوامی فلاح وبہبودکے پروگراموں پراستوارہوتاہے۔ایک اور سوشیالوجسٹ ’اسپنگ اینڈرسن‘ نے ویلفئیر اسٹیٹ کومزید تین درجوں یعنی ڈیموکریٹک ،کنزرویٹو،اور لبرل میں تقسیم کیا ہے۔ ویلفئیراسٹیٹ کی تشکیل میں سیکولر ازم، لبرل ازم، مارکس ازم اور سوشل ڈیموکریسی جیسے نظریات کا بنیادی عمل دخل ہوتا ہے۔
مذکورہ بالا سرمایہ دارانہ نظریات کی پریکٹس کے نتیجے میں فطری اجتماعیتیں شکست وریخت کا شکار ہوتی ہیں۔ مذہب، خاندان، قبیلہ اور محلے کی سطح پروجود میں آنے والا معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتاہے،حتیٰ کہ ماں باپ کا مقدس رشتہ بھی خستہ وشکستہ ہوجاتاہے۔ان کی جگہ سول سوسائٹی، مارکیٹ اورکارپوریشنز لے لیتی ہیں۔
سول سوسائٹی…… افرادکے باہمی تعلقات صلہ رحمی ، محبت اور ایثاروقربانی کی بجائے حرص،حسد،رقابت،کی بنیاد پر قائم ہونے کانام ہے۔سول سوسائٹی جودراصل سرمایہ دارانہ معاشرت کانام ہے؛میں سرمائے کاحصول ہی زندگی کااہم عامل ہوتاہے۔سول سوسائٹی میں افراد باہمی تعلق کنٹریکٹ کی بنیاد پرکرتے ہیں۔کنٹریکٹ کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے خاص مقاصد کو؛جوکچھ بھی ہوسکتے ہیں کے حصول کے لیے دوسرے کے ساتھ معاہدہ کریں،جس کے نتیجے میں وہ آپ کوان مقاصد کے حصول میں مدددے۔آپ جس شخص کے ساتھ معاہدہ کرتے ہیں اسے کچھ متعین رقم دیتے ہیں۔چناں چہ آپ اس سے محبت نہیں کرتے بلکہ دونوں طرف کی باہمی غرض آپس میں ملاتی ہے ……ایک غرض آپ کی ایک غرض اُس کی،آپ کی غرض یہ کہ آپ کاکام ہوجائے ،اور مدددینے والے کی غرض یہ کہ کام کے عوض اُسے کچھ رقم مل جائے۔جوں ہی دونوں افراد کی غرض پوری ہوتی ہے دونوں الگ ہوجاتے ہیں؛کیوں کہ اب باہمی تعلق کا کوئی ایسا داعیہ نہیں رہا۔
مارکیٹ ……وہ مقام ہے جہاں فرد اپنے سرمائے کی بڑھوتری کے لیے تگ ودوکرتا ہے۔مثلاًاسٹاک ایکسچینج، بینک اور دیگرفائنینشل ادارے وغیرہ۔
کارپوریشن……وہ’ شخص قانونی ‘ہے جس کااکیلاوظیفہ یہ ہے کہ سرمائے کی بڑھوتری کے پیمانے پراپنے اعمال مرتب کرے،کارپوریشن کوچلانے والے مینیجرہوتے ہیں؛جوعملاًسرمائے کی بڑھوتری کی مشین ہوتے ہیں۔وہ اپنے ماتحت ملازمین کوبھی اسی پیمانے پرپرکھتے ہیں کہ وہ سرمائے کی بڑھوتری میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں یا نہیں؟!
ہرفرد کامنتہا اپنے سرمائے میں بڑھوتری اور اضافہ دَراضافہ ہوجاتاہے۔سول سوسائٹی میں سرمایہ میں اضافے کی دوڑ میں پیچھے رہ جانا بے وقوفی اور ہلاکت گردانی جاتی ہے،بلکہ ایسے ’’بے وقوف ‘‘ کو سوسائیٹی جلدیا بدیر خود ہی اپنے سے الگ کردیتی ہے۔
چوں کہ فطری اجتماعیتیں ختم ہوجاتی ہیں،فردتنہاہوتاہے،وہ ماں باپ ،بھائی بہن ،خاندان اور قبیلہ سے اور کٹ چکاہوتا ہے۔ وہ انسانی جبلت کے مطابق مختلف احوال کاشکار بھی ہوتا ہے،کبھی بیمار ہوگیا، بے روزگارہوگیا،ریٹائر ہوگیا،بوڑھاہوگیا،یاخاتون ہے توبچے کی پرورش کرنی ہے وغیرہ توان امور میں مدد کے لیے ویلفئیراسٹیٹ چائلڈ کئیر،بے روزگاری الاؤنس،معذوری الاؤنس،سوشل سیکورٹی ،اولڈایج بینیفٹ،ریٹائرمنٹ پینشن جیسی مراعات مہیاکرتی ہے۔ ویلفئیر اسٹیٹ بچوں کے لیے ڈے کئیر سینٹر قائم کرتی ہے کیوں کہ ماں باپ ،دونوں سرمائے میں اضافے کی جدوجہدمیں مصروف ہوتے ہیں،بے سہارالوگوں کے لیے شیلٹرہوم بناتی ہے اس لیے کہ ان کے ارد گرد کے لوگ، ان کے اپنے خاندان اور قبیلے سرمائے کے اضافے کی دوڑ میں مصروف ہونے کی وجہ سے ان کی خدمت نہیں کر سکتے۔ ویلفئیراسٹیٹ اولڈ ہوم قائم کرتی ہے جہاں بوڑھوں اور بوڑھیوں کو رکھاجاتاہے؛ اس لیے کہ ان کے بچے سرمائے کی بڑھوتری میں اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ وہ بوڑھے والدین کی خبرگیری نہیں کرسکتے۔ہرشخص اپنے لیے جیتا ہے؛ کیوں کہ خاندان ،معاشرہ ؛اجتماعیت وجود ہی نہیں رکھتے۔
ویلفئیراسٹیٹ یہ مراعات دینے کے لیے اپنے شہریوں کی بچتوں سے ہی کٹوتی کرتی ہے ، مثلاً ملازم ہے تو اس کی تنخواہ سے سوشل سیکورٹی کے نام پر یاکسی اور طریقے سے کٹوتی کی جاتی ہے ۔ مالی نظام میں حکومتی آمدنی کازیادہ انحصارپبلک فنڈزیعنی کٹوتیوں اورٹیکسوں پر ہوتاہے۔یہی وجہ ہے کہ جوں جوں حکومتی اخراجات بڑھتے ہیں ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ ہوتاچلاجاتاہے۔مطلب یہ کہ ویلفئیر اسٹیٹ عوامی فلاح کے لیے جوخدمات مہیا کرتی ہے وہ اپنی جیب سے نہیں بلکہ اپنے شہریوں کی جیبوں سے پہلے ہی وصول کرچکی ہوتی ہے۔
اب تک سرمایہ دارانہ ریاستوں کی تاریخ میں چند ممالک ہی ویلفئیر اسٹیٹ کی تعریف پرپورے اترسکے ہیں۔مثلاًکینیڈا،جرمنی،سوئیڈن ،ڈنمارک،فن لینڈ،آئس لینڈ، نیدرلینڈ،ناروے وغیرہ۔ان ممالک میں ہیومن رائٹس کی پریکٹس سوفیصد گردانی جاتی ہے،یہاں آبادی بہت کم اور ٹیکسز کی شرح اونچی ہے ،یہاں فرد جو سرمایہ حاصل کرتا ہے اس کا بہت بڑاحصہ مختلف ٹیکسز کی مد میں حکومت کو دیتا ہے ،چناں چہ یہ ریاستیں اپنے ہی عوام کے محصولات سے وہ سہولیات فراہم کرتی ہے جوسرمایہ دارانہ ویلفئیر اسٹیٹ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
سرمایہ دارانہ ویلفئیراسٹیٹ اخراجات پورے کرنے کے لیے ایک طرف آبادی کوکنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہے تاکہ اخراجات کوکنٹرول میں رکھاجاسکے۔دوسراوہ ٹیکس نیٹ کوبڑھانے کی کوشش کرتی ہے۔اس کی کوشش ہوتی ہے کہ اسٹیٹ کے تمام شہری ٹیکس نیٹ میں سمولیے جائیں۔ایسے افراد یاطبقات جوٹیکس نیٹ میں نہ سموئے جاسکیں انہیں بازار سے نکال باہرکیاجاتاہے۔اس کی ایک مثال پاکستان میں حالیہ تجاوزات کے نام پر چھوٹی دکانوں اور بازاروں کاانہدامی عمل ہے جس سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہوئے ہیں۔ شہریوں کوٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے انہیں بینکوں کے ساتھ معاملات پرمجبورکردیاجاتاہے۔تاکہ ہرفرد کی آمدنی معلوم ہواور اس پر ٹیکس لگایاجاسکے۔ہمارے ہاں ایف بی آر کی جانب سے ہرشہری کے لیے ٹیکس گوشوارے بھرنے کے اعلانات اسی تناظر میں ہوتے ہیں۔
ویلفئیراسٹیٹ کا قیام عملاً ناممکن ہے ،اس لیے کہ اسٹیٹ اس کے لیے غیرفطری اقدامات بروئے کارلاتی ہے۔ اس پر بے انتہااخراجات کادباؤہوتاہے۔ایک محدودمدت تک تو سرمایہ دارانہ ریاست اِخراجات کا یہ بوجھ اٹھاتی ہے لیکن جلد ہی اس سے دست بردار ہونے کی کوشش کرتی ہے۔حالیہ عرصے میں فرانس،اٹلی ،یونان وغیرہ میں عوامی مظاہرے اسی بے چینی کا مظہرتھے کہ ریاست عوام کو دی گئی مراعات سے بتدریج دست بردار ہورہی تھی۔
مغرب کے کلاسیکل ناقدین کا کہنا ہے کہ ویلفئیراسٹیٹ کاقیام اس لیے بھی ناممکن ہے کہ سرمایہ کسی جگہ جامد نہیں رہتا،وہ معمولی سی بری خبر پر ہی آمادہ پرواز رہتا ہے۔وہ افواہ کو یقین کا درجہ دیتاہے اورفوراً ایک سرمایہ دار ریاست سے دوسری سرمایہ دار ریاست منتقل ہوجاتاہے۔اسٹاک مارکیٹوں میں یہ منظرآئے روز دیکھنے کو ملتا رہتاہے کہ ایک ذراسی خبر پر مارکیٹ کریش ہوجاتی ہے،چناں چہ فکرمغرب کے معروف ناقد ڈاکٹر جاویداکبرانصاری کا کہنا ہے کہ:
’’ سرمایہ دارانہ ریاست ویلفئیرریاست نہیں ہوتی۔وہ کمزورریاست ہوتی ہے ان معنوں میں کہ وہ سرمائے کواپنے ارادے کے ماتحت کرسکے۔سرمایہ دارانہ ریاست کی یہ قوت کم ہوتی چلی جاتی ہے کہ سیاسی عمل کومعاشی عمل پرمسلط کرسکے۔اس کے وسائل کم ہوتے چلے جاتے ہیں ؛اور وہ مراعات جو اس نے مزدور طبقے کو دی تھیں وہ دینے کے قابل نہیں رہتی۔چناں چہ عموماًموجودہ دور کی سرمایہ دارانہ ریاستیں ویلفئیر ریاستیں نہیں ہوتیں۔‘‘
خیریہ ایک پیچیدہ بحث ہے اور الگ مضمون کی متقاضی ہے،اس لیے ہم فی الحال اسے یہیں روکتے ہیں ۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ……ہماری پوری اسلامی تاریخ میں’’ ویلفئیراسٹیٹ‘‘ کانہ کبھی تصور رہانہ وجود۔اس لیے کہ اسلامی مملکت الٰہی تعلیمات کے مطابق خلافت وامارت پراستوار ہوتی ہے۔اسلامی معاشرے کی بنیادعبدیت، تقویٰ، انفاق فی سبیل اﷲ(زکوٰۃ ،عشر،صدقات،خیرات،کفارات،عطیات ،قربانی وغیرہ) اخوت ومحبت ،صلہ رحمی،ایثار،حسن سلوک جیسے اعلیٰ اخلاق پرہوتی ہے۔اسلامی تاریخ میں خاندان ،قبیلہ،عاقلہ ،معاشرہ،جاگیرداریاں ہمیشہ مضبوط رہے فرد کبھی تنہانہیں ہوا۔وہ ضرورت مند ہوتا تو خاندان،قبیلہ ،اہل محلہ آگے بڑھ کر اس کاہاتھ تھامتے اور اسے معاشی طور پر کمزور اوربے روزگار ہونے سے بچاتے۔ بوڑھوں،ضعیفوں اورمعذوروں کو افرادخاندان اپنی سعادت سمجھتے ہوئے سنبھالتے اور ان کی خدمت وخبرگیری کرتے۔یہی وجہ ہے کہ اسلامی تاریخ میں اولڈہومزکاکوئی تصور نہیں۔اسلامی معاشرے میں مارکیٹ نہیں تھی ، کارپوریشنزنہیں تھیں،وہاں اجتماعیتیں تھیں جوفلاح وبہبود کے کام مفت اور ایک دوسرے کے لیے محبت،خدمت،ایثارکے جذبے کے تحت انجام دیتی تھیں۔محصولات کی مدمیں زکوٰۃ،عشر،صدقات،جزیہ،خراج وغیرہ شرعی واجبات کے علاوہ کبھی ٹیکس نہیں لگائے گئے؛اگر کبھی ایسا ہوا بھی توشریعت کی نظر میں اسے ناجائزوحرام ہی تصور کیاگیا۔چناں چہ ہم بالیقین کہتے ہیں کہ عمران خان اور ان جیسوں کے ذہنوں میں جس ریاست مدینہ کاتصور ہے اس کا کوئی تعلق اسلام سے ،دین اور شریعت سے نہیں ہے۔
حواشی:
(۱)’آزادی‘……Freedomکااردوترجمہ ہے،اس کالغوی معنیٰ یہ ہے کہ آپ کچھ بھی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،اور اصطلاحی معنیٰ میں ہرانسان کوئی بھی فعل انجام دینے کے لیے کسی خارجی ہدایت کا پابند نہیں، وہ جوچاہناچاہے چاہ سکتاہے ،جوکرناچاہے کرسکتا ہے ۔اس معنیٰ میں آزادی لاالٰہ الاالانسان کامظہر ہے ،آزادی عبدیت کارد ہے۔
(۲)’مساوات ‘…… Equalityکااردوترجمہ ہے۔ایکویلٹی کی تشریح یہ ہے کہ’’ہرانسان آزاد ہے اور تمام انسان آزاد ہونے میں برابر ہیں……یعنی وہ خیروشرکی تعبیر متعین کرنے میں برابرہیں۔خدااور بندے،رسول اور اُمتی کی تقسیم عقیدہ مساوات کے منافی ہے۔علم ،بزرگی،استاذہونافضیلت کاکوئی درجہ نہیں رکھتا۔
(۳)’ترقی‘……Progress کااردوترجمہ ہے۔ سرمایہ دارانہ فکر میں ترقی کا مفہوم یہ ہے کہ سرمائے میں مسلسل اور لامتناہی بڑھوتری ہوتی رہے ۔خواہشات ولذات کافروغ،خواہشات ولذات کی تسکین اور حصول لذات کے لیے سرمائے میں زیادہ سے زیادہ اضافہ ……یہ ترقی ہے۔جوشخص آزادی کے عقیدے پر ایمان لاتاہے اس کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ اپنی خواہشات نفسانی کی تکمیل کے لیے سرمائے کے حصول کوعقل کے واحدلازمی تقاضے کے طورپرقبول کرے۔
(۴)……’برداشت‘……Tolarance کااردو ترجمہ ہے۔سرمایہ دارانہ فکر میں برداشت یہ ہے کہ خیرمطلق تو سرمائے کی بڑھوتری ہے،باقی ہرقدراور ہرتصورِخیرمہمل حیثیت کاحامل ہے۔انسان چاہے کوئی سی بھی اقدار کا حامل ہوان کوایک ساتھ Peacefull coexitence(پرامن بقائے باہمی)کاحق حاصل ہے۔تکثیری معاشرہ (ملٹی کلچرل سوسائٹی)اسی بات کا نام ہے جویہ بتاتاہے کہ اگر ایک شخص خداکی عبادت کرتاہے دوسراشخص خداکو گالی دیتاہے تودونوں برابر ہیں اور ایک دوسرے کوبرداشت کرناچاہیے۔
(۵)……’فلاحی ریاست‘……Welfare stateکااردوترجمہ ہے۔ welfare کا مجرد مطلب تو انسانی فلاح کے لیے فراہم کی جانے والی کسی بھی طرح کی امداد ہے،مگرسرمایہ دارانہ ڈسکورس میں اس کی ایک خاص تشریح ہے، اسی حوالے سے مضمون میں ہم نے کچھ تفصیل بہم پہنچانے کی کوشش کی ہے ۔
(۶)ہمیں نہیں معلوم کہ ’’میثاق مدینہ ‘‘ اور ’’ریاست مدینہ‘‘ کی کوئی اصطلاح ہمارے حدیثی ،فقہی اور تاریخی ماخذات میں ملتی ہے،امام ماوردی ، ابن خلدون ،ابن حزم اور شاہ ولی اﷲ وغیرہم اسلامی سیاسیات کے متخصص علماء ہیں ،ان کے ہاں بھی ہمیں ایسی کسی اصطلاح کا سراغ نہیں ملتا۔ اس لیے کہ جس وقت یہود کے ساتھ یہ معاہدہ ہوا وہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ میں تشریف آوری کاابتدائی دور تھا،ابھی تواحکام نازل ہورہے تھے اور دینی مسلمات تشکیل پارہے تھے۔اسی طرح اسلامی مملکت کے اصول وفروع بھی لسان نبوت سے ابھی طے ہورہے تھے؛لہٰذا یہود کے ساتھ ایک ایسے معاہدے کو جسے خودیہود نے توڑ دیا تھاکسی مملکت کا دستور قراردے دینامحل نظرہے۔
(۷)……سیرت ومغازی کا معمولی طالب علم بھی جانتاہے کہ یہودِمدینہ معاہد ہونے کے باوجودشرائط معاہدہ کے خلاف کفار قریش سے سازبازکرتے رہتے؛اور چپکے چپکے ان کو مسلمانوں کے بارے خفیہ اطلاعات پہنچاتے رہتے۔ مشرکین مکہ کو مسلمانوں کے خلاف جنگ پر ابھارتے رہتے۔احد اور احزاب کی جنگیں بھڑکانے میں انہی یہود کی سرگرمیوں کاحصہ تھا۔سب سے بڑھ کر انہوں نے حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو معاذاﷲ شہید کرنے کی بھی کوشش کی۔یہود کا معاندانہ رویہ کبھی ماند نہیں پڑا ،ان کی فتنہ انگیزیوں،دسیسہ کاریوں، حریفانہ شرارتوں سے مسلمانوں کو کبھی اطمینان نصیب نہیں ہوا۔یہی وجہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے عین آخری علالت میں وصیت فرمائی :اخرجوا الیہود والنصاری من جزیرۃ العرب۔ ’’یہودونصاریٰ کو جزیرہ عرب سے نکال دینا‘‘۔(سنن ابوداوود)
(۸) state ’’ریاست‘‘ اپنی نہاد میں کیا ہے ؟……اور کیا ’’ریاست‘‘ اسلامی ہوسکتی ہے؟اس میں مختلف آراء ہیں اور یہ ایک پیچیدہ بحث بھی ہے ۔مغرب کے بعض ناقدین کے خیال میں ’ریاست ‘اسلامی ہوسکتی ہے ،البتہ کئی دیگر مفکرین کے خیال میں ایساہوناممکن نہیں۔خلافت ،امارت ،حاکم ،سلطان ……یہ تمام اسلامی اصطلاحات ہیں؛ ان کا خاص پس منظر ہے ،جبکہ اسٹیٹ جس کاترجمہ ہم ریاست کرتے ہیں جدیدیت کی پیداوار ہے،اور یہ استبدادی ریاست ہوتی ہے۔ یہاں ہم صرف ایک اقتباس پراکتفاء کریں گے جو شاید ریاست کو سمجھنے میں کفایت کرسکے:
’’جدید ریاست دراصل کچھ طاقت ور مقامی اور بین الاقوامی حلقوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے وجود میں آئی ہے۔ حکومتیں اس کاچہرہ ضرور ہیں، لیکن ان مفادات کے آگے بے بس ہیں۔ چناں چہ جمہوریت، انتخابات، ایوان کی بحث و تمحیص، قانون سازی،اور حکومتوں کا آناجانا……یہ سب ان کے مفادات کامرہون منت ہے۔یہ اہل ثروت کا گروہ ہے اور اس کے ساتھ وہ حلقے ہیں جن کے مفادات اس گروہ سے وابستہ ہیں۔‘‘(سہ ماہی ’جی‘ لاہور،جلدنمبر۱۲،۱۳)
(۹)……۱۹۸۰ء سے پہلے کی سرمایہ دارفلاحی ریاستیں دراصل استعماری ریاستیں بھی تھیں،ان ریاستوں کی ثروت اورصنعتی ترقی کے اسباب میں سے اہم ترین باعث وہ لوٹ مار تھی جو انہوں نے اپنے مقبوضات سے کی ۔مگر یہ دولت بہت عرصہ نہیں چل سکی ،اب اکثرسرمایہ دار ریاستوں کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے فرائض منصبی سے سبکدوش ہوتی جارہی ہیں اور بنیادی سہو لتوں تعلیم، صحت،انصاف تک کونجی تحویل میں دے رہی ہیں حتیٰ کہ دفاع اور عسکری شعبے بھی نجی سیکٹر میں منتقل کیے جا رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.