تازہ ترین خبریں
آپ کو مجلس احرار کیسی لگی؟

اخبارالاحرار

شہداءِ ختم نبوت نے تحفظ ختم نبوت کا حق اداکیا:عبداللطیف چیمہ
(لاہور،03؍مارچ)مجلس احراراسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل عبداللطیف خالد چیمہ نے کہاہے کہ تحریک ختم نبوت 1953 ء کے دس ہزار شہداء نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کا حق ادا کر دیا اور پاکستان کو قادیانی ریاست بننے سے بچا لیا ،جنابِ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے منصب ِ رسالت و ختم نبوت کا تحفظ ملت اسلامیہ کے ایمان کی بنیاد ہے ،وہ گزشتہ روز جامع مسجد مدینہ مسلم کالونی (کچا شیخوپورہ روڈ)گجرانوالہ میں نماز جمعتہ المبارک سے قبل تحریک ختم نبوت مارچ 1953 ء کے شہداء کی یاد میں منعقد ہ اجتماع سے خطاب کررہے تھے، انہوں نے کہاکہ قادیانی اکھنڈ بھارت کا مذہبی عقیدہ رکھتے ہیں ،پاکستان کے ایٹمی راز امریکہ کو قادیانی ڈاکٹر عبدالسلام نے فراہم کیے اور وطن دشمن کارروائیوں میں قادیانیوں کاشریک ہوناتاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہے،انہوں نے کہاکہ تمام مکاتب فکر نے تحریک ناموس رسالت کے پلیٹ فارم سے جو مطالبات پیش کیے ہیں ،اُن کو تسلیم کیا جائے ،انہوں نے کہاکہ دینی جماعتیں ، دینی مدارس اور مساجد امن اور محبت کا پیغام دیتی ہیں ، انہوں نے کہاکہ ایمان ،تنظیم اور جہاد کا ماٹو رکھنے والی ہماری بہادر فوج کے ہوتے ہوئے انڈیا سمیت کوئی قوت جارحیت نہیں کر سکتی ، انہوں نے کہاکہ پاکستان کو اَمن کا گہوارہ بنانے کے لیے قائداعظم کے وژن کے مطابق وطن عزیز کو اسلامی فلاحی ریاست بنایاجائے اور قرآن وسنت کا نظام نافذ کیا جائے ، بعد ازاں انہوں نے اپنی جماعت کے کارکنوں کی تربیت گاہ سے بھی خطاب کیا۔ جبکہ بعد نماز مغرب مسجد القمر کالج روڈ گوجرانوالہ میں اصلاحی بیان کی ایک نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں اﷲ کے قوانین کی تابعداری اور قرآنِ پاک پر مکمل عمل کرنے کی طرف آجانا چاہیے ، انہوں نے کہاکہ سود جیسی لعنت ختم کرکے اسلامی معیشت پر انحصار کرنے کی ضرورت ہے اور مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ رزق حلال تلاش کرے اور حرام سے مکمل اجتناب کرے۔
شہداءِ ختم نبوت کی قربانیوں کا مقصدنفاذِشریعت تھا:قائداَحرار
(لاہور،05؍مارچ) مجلس احرار اسلام پاکستان کے امیر مرکزیہ سید عطاء المہیمن بخاری نے کہا ہے کہ مارچ 1953ء کی تحریک مقد س تحفظ ختم نبوت کے دس ہزار شہداء کی قربانیوں کا اصل مقصد یہ تھا کہ ملک اسلام اور امن کا گہوارہ بن جائے، شریعت اسلامیہ کا نفاذ ہوجائے اور عقیدہ ختم نبوت کے منکرین کی ریشہ دوانیاں دم توڑ جائیں اور قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار پائیں ۔وہ گزشتہ روز مرکزی دفتر احرار نیومسلم ٹاؤن لاہور میں در س قرآن کریم اور شہدا ئے ختم نبوت مارچ 1953ء کی یاد میں منعقد ہ نشست سے خطاب کر رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ جب تک ہم قیام ملک کے اصل مقصد ’’نفاذاسلام‘‘کا وعدہ پورانہیں کرتے ،ہماری انفرادی اور اجتماعی مشکلات میں کوئی سی کمی واقع نہیں ہو سکتی ۔ انہوں نے کہا کہ ایک مسلمان کے لیے قانون کے اصل مآخذ قرآن و سنت ہیں اور افسوس کا مقام ہے کہ ستر سال سے ہماری حکومتیں اس سے انحراف کی مرتکب ہو رہی ہیں۔مجلس احرار اسلام پاکستان کے سیکرٹر ی اطلاعات میاں محمد اویس نے کہا ہے کہ تحریک ختم نبوت 1953ء میں سب سے زیادہ گولی 6-5مارچ کو چلی تھی اس مناسبت سے ہم پورے مارچ کے مہینے میں شہد اء ختم نبوت کانفرنسز منعقد کرکے شہدا ء 1953 کو خراج عقید ت پیش کرتے ہیں جو لہو گرم رکھنے کا ایک بہانہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ قوم 295 -سی میں کسی قسم کی ترمیم کو برادشت نہیں کرے گی ۔
انسانوں کو اِنسانوں کی غلامی سے چھڑایاجائے:کفیل بخاری
(لاہور،06 ؍مارچ ) مجلس احرار اسلام پاکستان کے نائب امیر سید محمد کفیل بخاری نے کہا ہے کہ ہماری جد و جہد کا مقصد انسانوں کواِنسانوں کی غلامی سے نکال کر ایک اﷲ کی بندگی میں لانا ہے اور دنیا کو امن وسلامتی کا گہوارہ بناناہے ۔ یہ سب کچھ قرآنی و آسمانی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر ہی ہو سکتاہے۔ و ہ گزشتہ روز سیالکوٹ میں در س قرآن کریم کے حلقے سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ قرآنی تعلیمات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہم ذلت و رسوائی کا شکارہیں۔ اِس پستی سے نکلنے کے لیے حکمران امریکی و عالمی ایجنڈے کو مستر د کرتے ہوئے سچے توحیدی جذبے سے عالم کفر اور انڈیا کے سامنے کھڑے ہو جائیں ۔پوری قوم اُن کی پشت پر ہو گی ۔ سید محمد کفیل بخاری نے جو تحریک تحفظ ناموس رسالت کی آل پارٹیز رابطہ کمیٹی کے رکن بھی ہیں ،کہا کہ حکومت قانون توہین رسالت کو چھیڑنے کا خیال دل سے نکال دے اور اگر حکمران دنیا وآخرت کی کامیابی چاہتے ہیں تو جناب ِنبی کریم ﷺ کے گستاخوں اور بلا گرز کوقانون کے شکنجے میں لے آئیں اور دین دشمنوں سے یارانہ تو ڑلیں ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چناب نگر کے تعلیمی دارے قادیانیوں کو نہ دیے جائیں اور چناب نگر میں ریاست کے اندر ریاست کا تأثر ختم کیا جائے اور ٓآئین کی اسلامی دفعات پر عمل درآمد کو یقنی بنایا جائے۔
جسٹس صدیقی کے ریمارکس امت کے ترجمان ہیں:میاں اویس
(لاہور،08؍مارچ)مجلس احرا راسلام پاکستان کے سیکرٹری اطلاعات میاں محمد اویس نے کہا ہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے حقائق پر مبنی ریماکس پوری امت مسلمہ کی ترجمانی ہے ۔حکمرانو ں کو چاہیے کہ تما م مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر سوشل میڈیا پر مقد س ہستیوں کی شان میں گستاخی کے مرتکب افراد کو کیفر کردار تک پہنچائے ۔تاکہ امت میں اشتعال نہ پھیلے۔ انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کبھی بھی مقد س ہستیوں کی شان گستاخی برداشت نہیں کرے گی ۔ ناموس رسالت کے لیے بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کیاجائے گا ۔انہوں نے کہا کہ ہم جسٹس شوکت عزیزکو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور انہیں یقین دلاتے ہیں کہ پوری قوم آپ کے ساتھ ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے شہدائے ختم نبوت سیمینار کے انتظامی حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کاگستاخانہ مواد کانوٹس لینا مذہب اسلام و آئین پاکستان کی پاسداری ہے جس پر انہیں جتنا بھی خراج تحسین پیش کیا کم ہے۔ اجلاس میں قاری محمد یوسف احرار ، ڈاکٹر ضیاء الحق قمر، قاری محمد قاسم ، ثاقب افتخار چودھری ، قاضی حارث علی ، قاری شہزاد رسول ،حافظ طاہر عباس ،فرمان علی بھٹی اور دیگر نے شرکت کی۔
دنیابھر کے مسلمان ناموسِ رسالت پر ایک آوازہیں :احراررہنما
(لاہور،10؍مارچ) مجلس احرارا سلام پاکستان اور تحریک تحفظ ختم نبوت نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی اشاعت کو حکومت کی کمزور پالیسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عدم توجہی قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ کلمۂ طیبہ کے نام پر معرض وجود میں آنے والے خطے میں توہین رسالت کے مرتکب عناصر کو گرفت میں نہ لانا، وطن عزیز کی اسلامی شناخت کو منہدم کردینے کے مترادف ہے ،قائد احرار سید عطاء المہیمن بخاری ،پروفیسر خالد شبیر احمد ،سید محمد کفیل بخاری ،عبداللطیف خالدچیمہ ،مولانا محمد مغیرہ ، قاری محمد یوسف احرار ، میاں محمد اویس ، ڈاکٹرعمرفاروق احرار،مفتی عطاء الرحمن قریشی ، مولانا تنویر الحسن اور حافظ محمد ضیاء اﷲ ہاشمی سمیت دیگر رہنماؤں اور مبلغین ختم نبوت نے اپنے اپنے خطبا ت و بیانات میں کہاہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس جناب شوکت عزیز صدیقی نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران جو تاریخی ریمارکس دئیے ہیں، وہ قیام پاکستان کے اصل مقصد کی نشان دہی کرتے ہیں اور قرآن وسنت و اِجماع اُمت کے آئینہ دار ہیں،سید عطاء المہیمن بخاری نے نماز جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ یہ ملک جنابِ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی شریعت کے نفاذ کے نام پر حاصل کیا گیا تھا،مگرآج اس مملکت ِخداداد میں ناموس رسالت محفوظ نہیں ہے ،انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کو اپنے آپ پر تنقید تو برداشت نہیں لیکن توہین رسالت کرنے والوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے ،جس کی وجہ سے وبال و نحوست نے اپنا گھیرا تنگ کیا ہوا ہے ،عبداللطیف خالد چیمہ نے کہاکہ کتنے بد بخت ہیں، وہ لوگ کہ جو توہین رسالت کا حق مانگتے ہیں اور محسن انسانیت صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذات ِاقدس پرحملے کرتے ہیں، انہوں نے کہاکہ قانون توہین رسالت کو ختم یا غیر مؤثر کرنے والی قوتیں خود ختم ہو جائیں گی ،لیکن یہ قانون ہمیشہ ہمیشہ کے لیے باقی رہے گا ،اس لیے کہ کمزور سے کمزور مسلمان بھی ناموس رسالت پر مر مٹنے کو اپنے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی سمجھتاہے ،دیگر رہنماؤں و مقررین و مبلغین نے کہاکہ جناب جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خیالات و عدالتی ریمارکس نے پوری اُمت ِمسلمہ کو نامساعد حالات میں حوصلہ بخشا ہے ، انہوں نے کہاکہ پوری دنیا کے مسلمان تحفظ ناموس رسالت پر ایک ہی رائے رکھتے ہیں ،جبکہ قادیانی یہود و نصاریٰ کے مہرے بن کر ملت اسلامیہ خصوصاً پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں ، انہوں نے کہاکہ ہم آپریشن ردُ الفساد کی مکمل تائید کرتے ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ رد الفساد آپریشن میں چناب نگر ربوہ کے قادیانی ہیڈ کوارٹر کو شامل کیا جائے۔ تاکہ وطن عزیز سے دہشت گردی کا مکمل استیصال ہو سکے ۔ اُن رہنماں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ حکومت عالم کفر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اُن کے ایجنڈے کو مسترد کردے اور عالمی اسلامی بلاک کی طرف پیش رفت کی جائے۔ علماء کرام نے پاک چائینہ اقتصادی راہ داری کو ملک کے لیے نیک فعال قرار دیا اور کہاکہ بڑی طاقتوں کو یہ منصوبہ ہضم نہیں ہو رہا۔
گستاخانہ موادکی موجودگی ناقص پالیسی کا نتیجہ ہے:احراررہنما
(لاہور،10؍مارچ) مجلس احرارا سلام پاکستان اور تحریک تحفظ ختم نبوت نے سوشل میڈیا پر گُستاخانہ مواد کی اشاعت کو حکومت کی کمزور پالیسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عدم توجہی قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ کلمۂ طیبہ کے نام پر معرض وجود میں آنے والے خطے میں توہین رسالت کے مرتکبین عناصر کو گرفت میں نہ لانا وطن عزیز کی اسلامی شناخت کو منہدم کردینے کے مترادف ہے ،قائد احرار سید عطاء المہیمن بخاری ،پروفیسر خالد شبیر احمد ،سید محمد کفیل بخاری ،عبداللطیف خالدچیمہ ،مولانا محمد مغیرہ ، قاری محمد یوسف احرار ، میاں محمد اویس ، مفتی عطاء الرحمن قریشی ، مولانا تنویر الحسن نقوی اور حافظ محمد ضیاء اﷲ ہاشمی سمیت دیگر رہنماؤں اور مبلغین ختم نبوت نے اپنے اپنے خطبا ت و بیانات میں کہاہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس جناب شوکت عزیز صدیقی نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران جو تاریخی ریمارکس دئیے ہیں وہ قیام پاکستان کے اصل مقصد کی نشان دہی کرتے ہیں اور قرآن وسنت و اجماع اُمت کے آئینہ دار ہیں،سید عطاء المہیمن بخاری نے نماز جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ یہ ملک جناب نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی شریعت کے نفاذ کے نام پر حاصل کیا گیا تھااور آج اس مملکت ِخداداد میں ناموس رسالت محفوظ نہیں ہے ،انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کو اپنے آپ پر تنقید تو برداشت نہیں لیکن توہین رسالت کرنے والوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے ،جس کی وجہ سے وبال و نحوست نے اپنا گھیرا تنگ کیا ہوا ہے ،عبداللطیف خالد چیمہ نے کہاکہ کتنے بد بخت ہیں وہ لوگ جو توہین رسالت کا حق مانگتے ہیں اور محسن انسانیت صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذات ِاقدس پر رقیق حملے کرتے ہیں،انہوں نے کہاکہ قانون توہین رسالت کو ختم یا غیر مؤثر کرنے والی قوتیں خود ختم ہو جائیں گی ،لیکن یہ قانون ہمیشہ ہمیشہ کے لیے باقی رہے گا ،اس لیے کہ کمزور سے کمزور مسلمان بھی ناموس رسالت پر مر مٹنے کو اپنے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی سمجھتاہے ،دیگر رہنماؤں و مقررین و مبلغین نے کہاکہ عزت مآب جناب شوکت عزیز صدیقی کے خیالات و عدالتی ریمارکس نے پوری اُمت ِمسلمہ کو نامساعد حالات میں حوصلہ بخشا ہے ، انہوں نے کہاکہ پوری دنیا کے مسلمان تحفظ ناموس رسالت پر ایک ہی رائے رکھتے ہیں ،جبکہ قادیانی یہود و نصاریٰ کے مہرے بن کر ملت اسلامیہ خصوصاََ پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں ، انہوں نے کہاکہ ہم آپریشن رد الفساد کی مکمل تائید کرتے ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ رد الفساد آپریشن میں چناب نگر ربوہ کے قادیانی ہیڈ کوارٹر کو شامل کیا جائے تاکہ وطن عزیز سے دہشت گردی کا مکمل استیصال ہو سکے ۔ اُن رہنماں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ حکومت عالم کفر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کے ایجنڈے کو مسترد کردے اور عالمی اسلامی بلاگ کی طرف پیش رفت کی جائے۔ علماء کرام نے پاک چائینہ اقتصادی راہ داری ملک کے لیے نیک فعال قرار دیا اور کہاکہ بڑی طاقتوں کو یہ منصوبہ ہضم نہیں ہو رہا۔
توہین رسالت فکری دہشت گردی ہے :سیدمحمدکفیل بخاری
(تلہ گنگ،10؍مارچ)مجلس احراراسلام پاکستان کے مرکزی نائب امیر سیدمحمدکفیل بخاری نے کہا ہے کہ توہین رسالت فکری دہشت گردی ہے ۔جس کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔چیف جسٹس شوکت صدیقی کے ریمارکس توہین رسالت سے متاثرہ امت مسلمہ کے ترجمان ہیں۔وہ گزشتہ روزمسجدتریڑاں والی تلہ گنگ میں شہدائے ختم نبوت 1953 کے حوالے سے جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔سیدکفیل بخاری نے کہا کہ عقیدۂ ختم نبوت دین کی اساس ہے۔شہدائے ختم نبوت نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ختم نبوت کی حفاظت کی اورہمیشہ کے لیے تاریخ میں امرہوگئے۔انہوں نے کہا کہ ہم شہدائے ختم نبوت کے مشن کے وارث ہیں اورجب تک زندہ ہیں ،باطل فتنوں کا تعاقب کرتے رہیں گے۔انہوں نے کہاکہ توہین رسالت کے مرتکب بلاگرزکی رہائی اوران کی حکومتی سرپرستی میں بحفاظت بیرون ملک روانگی سراسراسلام اورپاکستان سے بے وفائی کی عکاس ہے۔جبکہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ شوکت صدیقی نے اپنی دینی غیرت کا مظاہرہ کرکے مسلمانوں کے زخمی دلوں پر پھاہارکھاہے۔انہوں نے کہا کہ آل پارٹیزتحفظ ناموس رسالت کانفرنس اسلام آباد کے مطالبات منظورنہ کرکے حکمرانوں نے عوامی نمائندگی کا مینڈیٹ کھودیاہے۔امریکہ اوربرطانیہ کے دباؤمیں آکراپنے عوام کے دینی جذبات اورجائزمطالبات کا احترام نہ کرنا ،عوام اورآئین کا مذا ق اڑانے کے مترادف ہے۔سیدکفیل بخاری نے کہاکہ مسلمانوں کے ملک میں مسلمان حکمرانوں کے ہاتھوں دُوالمیال ضلع چکوال میں مسلمانوں کی بلاجوازگرفتاریاں اورنعیم شفیق شہیدکے قادیانی قاتلوں کی ایف آئی آردرج نہ ہوناتشویشناک امرہے۔اڑہائی ماہ سے دُوالمیال کے ایک سوسے زائدمسلمان جیلوں میں تشدد کا نشانہ بنے ہوئے ہیں اورقادیانی قاتل کھلے عام دندنارہے ہیں۔حکومتی قادیانیت نوازی نے مسلمانوں کے سر شرم سے جھکادئیے ہیں۔سیدمحمدکفیل بخاری نے بعداَزاں مولانا محمدشعیب کے ظہرانہ میں شرکت کی ۔جس میں ڈاکٹرعمرفاروق احرار،مولانا تنویرالحسن،حافظ محمدبلال،حافظ حذیفہ افتخار،محمدسعید،ملک عبداﷲ علوی،امتیازاحمد،عبدالخالق زرگرسمیت متعدد معززین بھی شریک تھے۔
مولاناپیر ابوذرؒاِنتقال کرگئے‘احراررہنماؤں کااظہارافسوس
(تلہ گنگ،12؍مارچ)نامورعالم دین اورمجلس احراراسلام راولپنڈی کے ناظم مولاناپیر محمدابوذرخطیب جامع مسجدسیدنا صدیق اکبر،جھنگی سیداں، راولپنڈی 11؍مارچ کو طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔اُن کی نماز جنازہ آبائی گاؤں کچھیاں(تلہ گنگ)میں 12مارچ صبح 9بجے اداکی گئی۔مرحوم کی وصیت کے مطابق مجلس احراراسلام پاکستان کے مرکزی نائب امیرسیدمحمدکفیل بخاری نے جنازہ پڑھایااورانہیں احرارکے سرخ پرچم میں سپردخاک کیاگیا۔سیّدمحمدکفیل بخاری نے مرحوم کی دینی خدمات اورمجلس احراراسلام سے وابستگی اورگہرے تعلقات کے حوالے نمازجنازہ سے قبل خصوصی خطاب کیا۔یادرہے کہ مرحوم کا پہلا جنازہ راولپنڈی میں مولانا پیرعزیزالرحمن ہزاروی کی امامت میں اداکیاگیاتھا۔مولانامحمدابوذرکی اچانک رحلت پر تمام دینی طبقوں بالخصوص مجلس احراراسلام پاکستان کے مرکزی امیرمولانا سیدعطاء المہیمن بخاری ،ناظم اعلیٰ عبداللطیف خالد چیمہ، نائب ناظم اعلیٰ ڈاکٹرعمرفاروق احرار،سیکرٹری اطلاعات میاں محمداویس ،ناظم تبلیغ مولانا محمدمغیرہ،قاری محمد قاسم، ڈاکٹر ضیاء الحق قمر، ڈاکٹرمحمد آصف ، مولانا تنویرالحسن ،مولانا سرفراز معاویہ ،قاری شہزاد رسول نے گہرے افسوس کا اظہارکیاہے اور کہاہے کہ مولانا محمد ابوذر نے شاندار دینی خدمات سرانجام دیں۔ بالخصوص عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے اُن کا کردار بے مثال تھاجو یقینا اُن کے لیے توشۂ آخرت ہے۔سیدمحمدکفیل بخاری نے بعدازاں مولانا پیرابوذرؒکے فرزندابوہریرہ شاہ اورمرحوم کے بھائی قاری محمدزبیرسے اظہار تعزیت کیا۔مولانا ابوذرکے جنازہ میں مجلس احراراسلام راولپنڈی/اسلام آبادکے امیرشیخ خادم حسین اورناصرصاحب کی قیادت میں ایک وفدنے بھی شرکت کی۔
لوکل گورنمنٹ اصلاح احوال میں ناکام ہے:مجلس احرارملتان
(ملتان،13؍مارچ ) مجلس احرار اسلام ملتان کے امیر مولانا محمد اکمل، ناظم مولانا عبدالقیوم، سید عطاء المنان بخاری، شیخ حسین اختر لدھیانوی، عدنان ملک، عثمان یوسف اور فرحان الحق نے کہا ہے کہ لوکل گورنمنٹ، بلدیاتی الیکشن کے بعد بھی ملتان کی حالت زار تبدیل نہیں کرسکی، نہ ہی عوام کو محسوس ہوا ہے کہ ملتان میں کوئی تبدیلی آئی ہے،بلکہ حالات پہلے سے بھی ابتر ہو رہے ہیں۔ احرار رہنماؤں نے مزید کہا ہے کہ حکومت پنجاب نے مفلوج بلدیاتی نظام نافذ کر کے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے اور منتخب بلدیاتی ارکان بھی خود کو اس نظام کا حصہ نہیں سمجھتے۔ موجودہ بلدیاتی نظام بیوروکریسی کی مضبوطی کا باعث بنا ہے، یہی وجہ ہے کہ میونسپل کارپوریشن کے ارباب اختیار ابھی تک عوام کوکچھ ریلیف نہیں دے سکے۔ صحت و صفائی کے انتظامات ابتر ہو چکے ہیں۔ تجاوزات میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے۔ سٹریٹ لائٹس کی عدم دستیابی ہے اور دیگر ترقیاتی کام رُکے ہوئے ہیں۔ احرار رہنماؤں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے صوبہ بھر خصوصاً ملتان میں اپنے من پسند افراد کو بلدیاتی اداروں میں ایڈجسٹ کیا ہے۔ جن کے پاس سوائے حکومتی خوشامد کے او رکوئی معیار نہیں۔تخت لاہورنے ہمیشہ جنوبی پنجاب کے ساتھ سوتیلا سلوک روا رکھا ہے اور ملتان شہر کی ساٹھ فیصد آبادی کو میونسپل کارپوریشن میں نمائندگی نہیں دی گئی۔ محض اپنے وفاداروں کو عہدے دیے ہیں اور روایتی ارکانِ اسمبلی کی طرح اُنھی کے رشتہ داروں کو نوازا گیا۔ بلدیاتی الیکشن سے قبل ملتان میں تجاوزات کے خلاف مؤثر آپریشن چل رہا تھا لیکن اب وہ سیاسی وجوہات کی بنا پر نہ صرف ختم کردیا گیا ہے بلکہ ناجائز تجاوزات کی بھرپور سرپرستی ہو رہی ہے۔
ناموسِ رسالت کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہ کرینگے:مجلس احرارلاہور
(لاہور،14؍مارچ) مجلس احرار اسلام کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات میاں محمد اویس ،قاری محمد یوسف احرار ، قاری محمد قاسم، ڈاکٹر ضیاء الحق قمر، قاری محمدآصف،مولانا سرفرا ز معاویہ ،قاری شہزاد رسول،ثاقب افتخار چودھری نے کہا کہ ناموس رسالت کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ مقدس ہستیوں کی شان میں گستا خی کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ تاکہ آئند ہ کسی کو گستاخی کی جرأت نہ ہوسکے ۔ انہوں نے کہا کہ دشمن ہمارے ملک کے اندرہیجان کی کیفیت پیدا کرکے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتاہے۔ قوم اپنی صفو ں میں اتحاد واتفاق پیدا کرکے دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دے ۔
بیرونی قوتیں پاکستان کی اسلامی شناخت کے درپے ہیں:ناظم اعلیٰ
(لاہور،15؍مارچ)مجلس احرارا سلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل عبداللطیف خالد چیمہ نے کہاہے کہ سانحۂ دوالمیال میں ملوث قادیانیوں کے پاس سرکاری حکام کی حفاظت میں دُوالمیال میں غیر ملکی سفارت کاروں کی آمد سے ہمارا مؤقف مضبوط ہوا ہے کہ قادیانی فتنے کی امریکہ و مغرب اور عالم کفر برابر آبیاری کررہاہے۔ جس سے یہ بھی واضح ہوا کہ بیرونی قوتیں پاکستان کی اسلامی شناخت اور دستور کی اسلامی دفعات کے درپے ہیں۔ مرکزی دفتر سے جار ی اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ ایک طبقہ جو متفقہ آئینی ترمیم اور دستور کی بالادستی کو ہی تسلیم نہیں کرتا۔ اُن کو غیر ملکی طاقتیں سپورٹ بلکہ پرموٹ کررہی ہیں،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ تحفظ ناموس رسالت کی اے پی سی کے 6 مطالبات بدستور سٹینڈ کرتے ہیں اور ہم ان مطالبات کو لے کر چل رہے ہیں ،انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نواز شریف کا توہین رسالت کے مرتکبین کے حوالے سے بیان اور اسمبلیوں کی قرار دادیں خوش آئند ہیں لیکن عملی اقدامات اصل بات ہے جو ہونا ضروری ہیں، انہوں نے مزید کہاکہ وطن عزیز کا بیانیہ اس کے قیام سے پہلے ہی طے ہو گیا تھا جو قرآن وسنت پر مبنی ہے اور بانیٔ پاکستان قائد اعظم نے بھی یہی فرمایا تھاکہ پاکستان ایک اسلامی فلاحی ریاست ہو گی۔ جس کی بنیاد قرآن پاک اور جناب نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی تعلیمات پر رکھی جائے گی ۔انہوں نے کہاکہ دینی جماعتیں اور دینی مدارس حکمرانوں کی نسبت پاکستان سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔
دُوالمیال:غیرملکی وفدکا دورہ ‘قادیانیوں سے ملاقات تشویشناک ہے
(لاہور،16؍مارچ) مجلس احرار اسلام پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات میاں محمد اویس نے کہا کہ ناموس رسالت کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ مسلمان کبھی بھی آقا دو جہاں ﷺ کی گستاخی کو برادشت نہیں کرے گا حکومت گستاخان رسول ﷺ کو گرفتار کرکے اسلام کے مطابق سز اد ے ۔انہوں نے کہا کہ اس بارے وزیر اعظم کا بیان خوش آئند ہے ۔اس معاملے میں دیر نہیں کرنی چاہیے بلکہ فوراًمجرموں کو کیفر دار کردار تک پہنچانا چاہیے یہ باتیں انہوں نے 19مارچ بروز اتوار 1بجے دوپہر پریس کلب میں ہونے والاختم نبوت سیمینار کے انتظامی حوالے سے اجلا س میں کہیں ۔انہوں نے کہا سیمینار اتحاد امت کا باعث بنے گا ۔اس میں تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین،وکلاء،دانشورحضرات خطاب وشرکت کریں گے ۔ اجلاس میں قاری یوسف احرار ،قاری محمد قاسم ، ڈاکٹر ضیاء الحق قمر،قاری محمد آصف ،ثاقب افتخار چودھری ،قاری شہزاد رسول ،حافظ طاہر عباس اور دیگر نے شرکت کی ۔
شہداءِ ختم نبوت نے قادیانی اقتدارکا خواب چکناچُورکیا:ختم نبوت سیمینار
(لاہور،19؍مارچ ) تحریک ختم نبوت مارچ 1953ء کے دس ہزار شہداء کی یادمیں مجلس احرار اسلام پاکستان کے زیر اہتمام لاہور پریس کلب میں منعقدہ ’’ختم نبوت سیمینار‘‘کے مقررین نے کہا کہ شہداء ِختم نبوت کی پیروی میں تحفظ نامو س رسالت کی پُراَ من جد و جہد ہر حال میں جاری رہے گی جو قوتیں -295سی کو ختم کرنا چاہتی ہیں ،وہ اس کا خیال دل سے نکال دیں اور مذہبی و سیاسی انتہا پسندی کا روگ ختم کردیں ۔ مجلس احرار اسلام پاکستان کے مرکزی نائب امیر سید محمد کفیل بخاری کی صدارت میں منعقدہ سیمینار سے پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی ، مجلس احرار اسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل عبداللطیف خالدچیمہ ،جمعیت علماء اسلام پاکستان (س )کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف فاروقی، انٹر نیشنل ختم نبوت موومنٹ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر احمد علی سراج، جمعیت علماء اسلام (ف)کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا محمد امجد خان، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے رہنما ڈاکٹر عبدالغفور راشد ،مولانا راؤ عبدالنعیم نعمانی ،قاری محمد قاسم،مولانا تنویر الحسن ، علامہ محمد ممتاز اعوان ، مولانا محمد اکمل ، حسن افضال صدیقی، ظہیر فاضل کشمیری نے خطا ب کیا ۔ مہمان خصوصی مولانا زاہد الراشدی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس جناب شوکت عزیز صدیقی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد پر جو ریمارکس دیے ہیں۔ وہ وزیر اعظم ، صدر پاکستان اور سیاستدانوں کو دینے چاہئیں تھے ۔انہوں نے کہا کہ جنابِ نبی کریم ﷺ کی توہین کرنا بھی عالمی کفر یہ ایجنڈے میں حقوق میں شامل ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی توہین رسالت کو حقوق میں شامل کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ توہین انسانیت ہے۔مولانا عبدالرؤف فاروقی نے کہا کہ شہداء ختم نبوت کے مقدس خون سے کھینچی ہوئی یہ فیصلہ کن لکیر کہ ’’قادیانی مسلمان نہیں ‘‘کبھی نہیں مٹ سکتی، ہم مجلس احرار اسلام کی تحفظ ختم نبوت کی جد و جہد کو سلام پیش کرتے ہیں ۔ سید محمد کفیل بخاری نے کہا کہ عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ امت مسلمہ کے ایمان کی بنیاد ہے اور اس جد وجہد کو دس ہزار شہدا نے اپنے خون سے سینچا تھا ۔اُن شہدا کی یاد منانے کے لیے ہمیں تحریک تحفظ نامو س رسالت کو آگے بڑھانا ہوگا۔ ڈاکٹر احمد علی سراج نے کہا کہ مجلس احرار اسلام،دینی جماعتوں کی ماں کی حیثیت رکھتی ہے ۔ سید عطاء اﷲ شاہ بخاری ؒمرحوم اور اکابر احرار کے قافلۂ سخت جاں نے انگریزی استبداداور انگریزی نبی کی جعلی نبوت کے خلاف جو نبر د آزمائی کی، وہ ہماری دینی و قومی تاریخ کا جھومر ہے۔ مولانا محمد امجد خان نے کہا کہ مجلس احرار اسلام اور امیر شریعت سید عطاء اﷲ شاہ بخاری ؒ کی تاریخ ساز جد و جہد اور شہداء ختم نبوت کے مقدس خون کے صدقے 1974ء میں قادیانی پارلیمنٹ میں غیر مسلم اقلیت قرار پائے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک تحفظ نامو س رسالت کے پرانے پلیٹ فارم کو متفقہ طورپر بحال کردیا گیاہے۔ جس کی سر براہی مولانا فضل الرحمن کر رہے ہیں۔ یہ تحریک ’’تحفظ نامو س رسالت ‘‘کے مشن کومنظم طور پر آگے بڑھائے گی اور کوئی مائی کا لال دستو رکی اسلامی دفعات کو ختم نہیں کرسکتا۔مولانا عبدالغفور راشد نے کہا کہ اہلحدیث مکتب فکر تحریک ختم نبوت کی اپنی ایک تاریخ رکھتا ہے، لیکن یہ سب کچھ مولانا ثناء اﷲ امر تسری ؒاور سید عطاء اﷲ شاہ بخاری ؒکا فیض ہے ۔ انہون نے کہا تمام مکاتب فکر تحریک ختم نبوت کے پلیٹ فارم پر ایک ہیں ،بزرگ صحافی جناب اسرار بخاری نے کہا کہ جنابِ نبی کریم ﷺکی توہین کرنے والے بلا گرز کو قانون کے کہٹر ے میں لایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ صحافی برادری ان مسائل پر وہی مؤقف رکھتی ہے جو قرآن و سنت پر مبنی ہے۔ کانفرنس کے آخر میں مولانا تنویر الحسن نے درج ذیل قرار دادیں پیش کیں ۔جن کی شرکاء سیمینار نے نعروں کی گونج میں ہاتھ اٹھا کر تائید کی ۔٭ سو شل میڈیا پر ہونے والی گستاخیوں کا نوٹس لیا جائے اور گستاخی کرنے والوں اور ان کے سہولت کاروں کوفی الفور گرفتار کر کے قرار واقعی سزادی جائے ۔٭ مدعی نبوت ناصر سلطانی کذاب جو (ربوہ ) چناب نگر میں روپوش ہے اس کو فی الفور گرفتار کیا جائے اور تھانہ رمنا اسلام آباد میں اس کے خلاف دی جانے والی درخواست پر عمل کرتے ہوئے فوری FIRکاٹ کر اس ملعون کو گرفتار کیا جائے ۔(الحمدﷲ کہ اب یہ ملعون گرفتارہوچکاہے۔) ٭یہ اجتماع پاکستان کے اسلامی تشخص اور قومی خود مختاری کے خلاف بڑھتے ہوئے مسلسل عالمی دباؤ اور بین الاقوامی اداروں کی یلغار پر تشویش و اضطراب کا اظہار کرتاہے اور دینی حلقوں کوتوجہ دلانا چاہتا ہے کہ پاکستان کی اسلامی شناخت اور قومی خود مختاری کے معاملات کو سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی بجائے دینی قوتوں کو خود کردار ادا کرنا ہوگا۔ ٭ یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتاہے کہ : 295-cکے قانون کے خلاف سرگرمیوں کا نوٹس لیا جائے اور اس قانون کے ہر حال میں تحفظ کا دوٹوک اعلان کیا جائے ۔ ٭قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے سنٹر فار فزکس کوڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے نام پر رکھنے کا فیصلہ واپس لیا جائے ۔٭چناب نگر میں ’’ریاست در ریاست ‘‘کا ماحول ختم کیا جائے ۔ حکومت کی دستوری اور قانونی رٹ بحال کرنے کے ٹھوس اقدامات کئے جائیں اور متوازی عدالتیں ختم کرکے ملک کے قانونی نظام کی بالادستی بحال کی جائے ۔ ٭قادیانی چینلز کی نشریات کا نوٹس لیا جائے اور ملک کے دستور اور قانون کے تقاضوں کے منافی نشریات پر پابندی لگائی جائے ٭قادیانی تعلیمی اداروں کو واپس کرنے کی پالیسی عوامی جذبات اور ملک کی نظریاتی اسا س کے منافی ہے ۔ حکومت اس طرز عمل پر نظر ثانی کر ے اور قوم کو اعتماد میں لے۔ ٭دوالمیال چکوال میں قادیانیوں کی فائرنگ سے شہید اور زخمی ہونے والے مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ علاقہ کے مسلمانوں کے مطالبات کو فوری طور پر پورا کیا جائے ۔
سانحۂ دُوالمیال: غازیوں کیلئے نصرت الہٰی پہنچ چکی ہے:کفیل بخاری
(ملتان)مجلس احراراسلام پاکستان کے مرکزی نائب امیرسیدمحمدکفیل بخاری نے دوالمیال کے 9؍اسیروں کی رہائی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ غازیو ! ان شاء اﷲ آپ کی قربانیاں رائگاں نہیں جائیں گی ، اﷲ تعالی کی مدد اور نصرت آپہنچی ہے ، باقی اسیران بھی جلد آپ کے پاس ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ حوصلے اور صبر کی ضرورت ہے ، بے شک اﷲ صبر کر نے والوں کے ساتھ ہے ، مجلس احرار اسلام روزِ اوّل ہی سے آپ کے ساتھ ہے ، کیس کی پیروی میں احرار رہنما مولانا تنویرالحسن،ڈاکٹرعمرفاروق ،محمدسعید اورخصوصاً مسلم لیگ ق کے رہنما حافظ عمار یاسر نے انتھک محنت کی اور یہ محنت باقی اسیروں کی رہائی تک جاری رہے گی ،انہوں نے کہاکہ دوالمیال کے غازی تنہا نہیں ہیں،بلکہ تمام مسلمان اُن کے ساتھ ہیں ، جن کے لیے دعا اور دوا دونوں جاری ہیں اور جاری رہیں گی ،انہوں نے کہاکہ غازیانِ دوالمیال کی رہنمائی پر مجلس احرار اسلام رہائی انہیں مبارک باپیش کر تی ہے ، اُن کے ساتھ ہی مقامی احراررہنما اور حافظ عمار یاسر بھی مبارک باد کے مستحق ہیں کہ جن کی انتھک اور مخلصانہ کوششیں رنگ لائیں اوراسیرانِ ختم نبوت کو باعزت رہائی نصیب ہوئی۔
پاکستان کااَساسی بیانیہ تبدیل نہیں کرنے دیاجائے گا:احراررہنما
(ملتان ،25؍مارچ) مجلس احرار اسلام ملتان کے امیر مولانا محمد اکمل، ناظم مولانا عبدالقیوم، سید عطاء المنان بخاری، شیخ حسین اختر لدھیانوی، سعید احمد، عدنان ملک، عثمان یوسف اور فرحان الحق نے یو م پاکستان کے حوالہ سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کی نظریاتی اساس ’’قرار داد مقاصد‘‘ ہے، جس سے انحراف کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ شریعت کا نفاذ ریاست کے مقاصد اور فرائض میں سے ہے لیکن اس کے لیے جدوجہد مسلح نہیں بلکہ آئین وقانون کے دائرے میں رہ کر ہونی چاہیے۔ دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کے لیے تمام دینی و سیاسی حلقے ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں جبکہ ملک کے نظریاتی تشخص، سیاسی استحکام، قومی و حدت اور امن کے قیام کے لیے بیرونی مداخلت کی روک تھام بھی ناگزیر ہے۔ احراررہنماؤں نے کہا کہ بیرونی قوتیں ایک طویل عرصہ سے آئین پاکستان کی اسلامی دفعات خصوصاً امتناع قادیانیت آرڈیننس میں ترمیم کے لیے سازشیں کر رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکمران، نظریہ پاکستان کے تحت ملک میں ’’قرآن و سنت‘‘ کا نظام نافذ کریں۔ دفاع وطن کی خاطر ہر محب وطن اپنا مثبت اور مؤثر کردار ادا کرے۔ عوام اور حکمران، پاکستان میں اسلام کے نفاذکے لیے حقیقی معنوں میں کوشش کریں۔ احرار رہنماؤں نے مزید کہا کہ پاکستان کی شناخت اسلام ہے اسے لبرل ملک نہیں بننے دیں گے انھوں نے کہا کہ مٹھی بھر ’’گمراہ عناصر‘‘ آج قومی بیانیہ میں تبدیلی کا اظہار کر رہے ہیں مگر پوری قوم کا بیانیہ ’’نفاذ شریعت‘‘ ہے۔ احرار رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام و نعرے پر معرض وجود میں آیا تھا اور اسلامی نظام ہی اس کا مقدر ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو بانی پاکستان جناب محمد علی جناح کے فرمودات کے مطابق ’’سیکولر اور لبرل‘‘ نہیں بننے دیں گے۔
مسجدختم نبوت چکڑالہ کا افتتاح،سیّدمحمدکفیل بخاری کا خطاب
(چکڑالہ،ضلع میانوالی،25؍مارچ) مجلس احرار اسلام پاکستان کے نائب امیر سید محمد کفیل شاہ بخاری مدظلہ نے کہا ہے کہ مسجداﷲ کا گھرہے۔اسے مسلکی تعصبات سے پاک ہوکرصرف اﷲ کی عبادت کے لیے مخصوص ہونا چاہیے۔ تاکہ دلوں کی کدورت اترے اوراﷲ کی رحمتوں کا نزول ہو۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے مجلس احراراسلام چکڑالہ کے زیرانتظام دوسرے مرکزمسجد ختم نبوت کے سنگ بنیادکی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں مجلس احراراسلام کے رہنماؤں اورکارکنوں کے علاوہ معروف سیاسی شخصیت ڈاکٹر سرفرازاعوان،یونین کونسل چکڑالہ کے چیئرمین،وائس چیئرمین سمیت ہر شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے حضرا ت نے بڑی تعدادمیں شرکت کی۔سیدکفیل بخاری نے اس موقع پر چکڑالہ کی معروف شخصیات مولانا عنایت اﷲ چشتیؒ(خطیب ومنتظمِ اوّل جامع مسجدختم نبوت قادیان) اورمجاہداحرارکپتان غلام محمدمرحوم کا خصوصی تذکرہ کیااوراُن کی تحفظ ختم نبوت کے لیے جدوجہدکو خراج عقیدت پیش کیا۔سیدمحمدکفیل بخاری نے اپنے خطاب میں داعیانِ اسلام کو خصوصی طور پہ متوجہ کرتے ہوئے کہاکہ اسلام کے داعیان کو تین کاموں کا خاص خیال رکھناچاہیے ۔۱: مسلمانوں کے تمام مسالک کے درمیان اتفاق و اتحاد کی فضاء کو پروان چڑھانے کی کوشش کرتے رھنا چاہیے،کیونکہ غیر مسلموں کے اسلام کی طرف متوجہ نہ ہونے کی بنیادی وجہ ہمارے آپس کے اختلاف ہیں۔۲:غیر مسلموں کے ساتھ ہمدردی کی بنیاد پرتعلق استوار رکھتے ہوئے، انھیں خلوص کے ساتھ اسلام کی دعوت دی جائے۔۳: صاحب ثروت مسلمانوں کو چاہیے کہ معاشی طور پہ کمزور مسلمانوں کی عموماً اور غیر مسلموں کی خصوصاً مدد کرتے رہیں۔ تاکہ مسلمان اسلام پہ قائم و دائم رہیں اور غیر مسلم اسلام کی طرف متوجہ ہو سکیں۔اس موقع پر احراررہنماڈاکٹر محمد آصف اورمسجدختم نبوت کے منتظم اورنگران جناب ملک محمدعبداﷲ علوی نے بھی خطاب کیا۔تقاریرکے اختتا م پر سیدمحمدکفیل بخاری نے مسجدکا سنگ بنیادرکھااورخصوصی دعافرمائی،جبکہ تمام شرکا کے لیے ضیافت کا بھی اہتمام تھا۔بعدازاں سیدکفیل بخاری نے سفیدمسجدمیں احراررہنما محمدامتیازکی بیٹی کا نکاح پڑھایا اورمختصرخطاب بھی کیا۔اس موقع پر مجلس احراراسلام کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر عمر فاروق احرار،عبدالخالق احرار،جناب فرخ اقبال سمیت تمام کارکنان احراربھی موجودتھے۔
تحریک تحفظ ناموس رسالت کے مطالبات منظورکیے جائیں:عبداللطیف
(ملتان ،26؍مارچ)مجلس احرار اسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل عبداللطیف خالد چیمہ نے کہا ہے کہ دینی حلقے طویل عرصے سے توہین رسالت کے بڑھتے ہوئے رجحان اور واقعات کے سد باب کے لیے مسلسل احتجاج بھی کر رہے تھے اور صورت حال کا نوٹس لینے کے لیے مطالبات کرتے چلے آرہے تھے۔ اگر توہین رسالت کے خلاف بروقت اقدام کر لیے جاتے تو آج یہ صورت حال پیدا نہ ہوتی، وہ کراچی کے تین روزہ تنظیمی دورے سے واپسی پر دارِ بنی ہاشم ملتان میں احرار کارکنوں سے خطاب کر رہے تھے۔اس موقع پر مجلس احرار اسلام ملتان کے امیر ،مولانا محمد اکمل،مولانا سید عطاء المنان بخاری اور فرحان الحق بھی موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ کراچی سے توہین رسالت کے ملزمان کی گرفتاری اور گستاخانہ مواد پھیلانے والوں کے خلاف ملکی اور بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کا دائرہ وسیع کرنے کے فیصلے کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سوشل میڈیا پر توہینِ رسالت اور مقدس ہستیوں کی تضحیک کو روکنے کے لیے ایسے دُوررس اقدامات کرے کہ جن کے نتائج بھی سامنے آئیں۔ انھوں نے کہا کہ قادیانی کائنات کے بدترین گستاخانِ رسالت ہیں جو پاکستان میں رہتے ہوئے حقوق تو حاصل کر رہے ہیں لیکن ملکی آئین اور دستور کو ماننے سے نہ صرف انکاری ہیں،بلکہ دنیا بھر میں پاکستان اور آئین پاکستان کے خلاف مسلسل لابنگ کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تحریک تحفظ ناموس رسالت کی اسلام آباد میں ہونے والی اے پی سی کے چھے مطالبات حکومت منظور کرے۔ جمعیت علماء اسلام کے صد سالہ اجتماع کے بعد مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں تحریک تحفظ ناموس رسالت کی تازہ کمپین دنیا کو پوری طرح نظر آنا شروع ہو جائے گی۔
دُوالمیال:قادیانیوں کو بیرون ملک فرارکرنے کی کوششیں قابل مذمت
(لاہور،29؍مارچ ) متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی پاکستان کے کنوینر اور مجلس احرار اسلام پاکستا ن کے سیکرٹری جنرل عبداللطیف خالد چیمہ نے کہا ہے کہ 3ماہ کی قانونی جد وجہد کے بعد سانحہ دوالمیال میں شہید ہونے والے شفیق نعیم کے قتل کی ایف آئی آر 35قادیانیوں کے خلاف درج تو ہو گئی ہے، لیکن اب پولیس اور سرکاری انتظامیہ قادیانی ملزمان کو گرفتاری سے بچا کر بیرون ملک فرار کرنے کی کو شش کر رہی ہے ۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پہلے تو ایف آئی آر کے اندراج کے لیے 3ما ہ لگے جبکہ حکمران لیگ قادیانیوں کی سر پرستی کر رہی تھی۔ اب ملزمان کو بچایا جا رہا ہے اور عاشقان مصطفیﷺ کو ستایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ربوہ ٹائمز اور بعض حلقے یہ پرو پیگنڈا کر رہے ہیں کہ جھوٹامدعی نبوت ناصر سلطانی ملعون ربوہ سے گرفتار نہیں ہوا۔ اس لیے ہم کہتے ہیں کہ سرکاری طور پر واضح کیا جائے کہ وہ ملعون کہاں سے پکڑا گیا۔ عبداللطیف خالد چیمہ نے کہا کہ ربوہ سے جھوٹے مدعی نبوت ناصر سلطانی ملعون کی گرفتاری کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ ر بوہ میں چھپے ہوئے اس قسم کے دہشت گرد پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ان کے خلاف بڑے اپریشن کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے گستاخانہ مواد اپ لوڈ ہونے کے حوالے سے امریکہ کا ذکر کیا ہے جو حقیقت حال کے عین مطابق ہے ۔ حکومت کو مسلمانوں کے ایمان و عقیدے کو بچانے کے لیے اور توہین رسالت روکنے کے لیے جرأت کے ساتھ امریکہ کے سامنے کھڑا ہونا ہو گا یہ بیس کروڑ مسلمانوں کے دل کی آواز ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.