تازہ ترین خبریں
آپ کو مجلس احرار کیسی لگی؟

عشق کے قیدی

(قسط:۱۳)

ظفر جی

سینٹ بار تھیلومیو ڈے
موسمِ بہار کی آمد آمد تھی اور موسم کافی خوشگوار تھا۔شہر کے حالات جاننے کے لئے ہم موتی بازار سے مستی گیٹ بازار کی طرف باپیادہ جا رہے تھے ۔ بازار بالکل سنسان پڑے تھے ۔دُور سنہری مسجد کی طرف سے کچھ نعروں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ شاید کوئی جلوس آ رہا تھا۔اس دوران اچانک فائرنگ کی تڑتڑاہٹ سے فضاء گونج اُٹھی۔ بے شمار پرندے جھاڑیوں سے اُڑ کر فضاء میں چکّر لگانے لگے ۔ اس کے ساتھ ہی ایک عجیب بے ہنگم شور سنائی دیا۔ہم صورتحال جاننے کے لئے ہٹہ بازار کی طرف دوڑے تو سامنے سے ایک سول وین مستی گیٹ بازار طرف مڑی۔
“سائیڈ پکڑو ․․․․․ سائیڈ ․․․ ” چاند پُوری چلائے ۔
ہم نے جلدی سے ایک دیوار کی اوٹ لی اور ایک چھید سے باہر دیکھنے لگے ۔ وین ہم سے کوئی دو سو قدم کے فاصلے پر آ کر رُکی ۔ اس میں لمبے بالوں والے تین چار جوان نکلے۔ جنہوں نے فوجی وردیاں پہن رکھی تھیں۔ انہوں نے دیوار کی سمت دو تین اندھا دھند بلٹ فائر کئے اور گاڑی میں بیٹھ کر رفوچکّر ہو گئے ۔ دونوں گولیاں قریبی دوکان کے فرنٹ پر لگیں اور کچھ فرش اکھڑ کر ہمارے اوپر آ گرا۔
“کیا ہو رہا ہے یہ ؟ ” میں نے پھولی سانس سے کہا۔ ” فوجی ہمیں کیوں مار رہے ہیں ؟ ”
“فوجی نہیں،’’ خلیفہ ٔ قادیان‘‘کے رضاکار ہیں۔ وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔”
“کیا ہوا؟ ”
“شہر میں قتل و غارت کا ٹھیکہ مرزائیوں کو مل گیا۔ چلو اب نکلو یہاں سے ۔”
ہٹّہ بازار میں ہمیں صرف ایک ہی ذی روح نظر آیا۔پینٹ کوٹ والا ایک بوڑھا کرسچیئن جو کُچھّا گراں کی طرف بھاگ رہا تھا۔ اس کے گلے میں پڑی صلیب بری طرح جھول رہی تھی۔
” مسٹر گین ․․․․ مسٹر گین؟ ” چاند پوری نے آواز دی۔
“مسٹر گین ؟ ”
“لاہور بلدیہ کا انچارج ہے ․․․․ ایک منٹ ․․․․ مسٹر گین ․․․․ مسٹر گین ․․․ ” انہوں نے دوبارہ آواز لگائی۔
مسٹر گین یکایک رُکے ۔گلے میں پڑی صلیب کو چوما اور چلائے ۔ ” اِٹس سینٹ بار تھیلومیو ڈے ․․․․ رن اَوَے ”
اس بعد وہ ہولی جوسس ․․․ ہولی جوسس کرتے ایک گلی میں گھس گئے ۔
“سینٹ بار تھیلومیو ڈے ؟ ”
“ریاست اور مذہب کے بیچ ہونے والی سب سے بڑی جنگ ،جس میں ہزاروں پادریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا ․․․․ اﷲ پاکستان پر رحم فرمائے! ”
ہم موتی مسجد کے قریب پہنچے تو سڑک پر خون ہی خون پڑا تھا۔ وہ دن لاہور کی تاریخ میں سینٹ بار تھیلومیو ڈے ہی تھا۔ پولیس نے بھی اس روز دل کھول کر فائرنگ کی اور پراسرار جیپ پر سوار قادیانی دہشت گرد بھی شرح صدر سے گولیاں چلاتے رہے ۔ سارا دن پولیس گولیوں اور سنگینوں سے تحریک کے جوش کو ٹھنڈا کرتی رہی اور مسلمان خونِ جگر دے کرعقیدۂ ختم نبوت کی آبیاری کرتے رہے ۔ صبح صبح بھاٹی دروازے کے قریب سے گزرنے والے ایک جلوس کو پولیس نے کرفیو کی خلاف ورزی قرار دے کر بھون ڈالا۔ نولکھا بازار میں بھی ایک جلوس پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی گئی۔ سرکلر روڈ بیرون دہلی دروازہ سے گزرنے والے ایک جلوس پر بھی گولیاں برسائی گئیں۔ چودھری محمد حسین ایس پی نے میکلوڈ روڈ کے ایک جلوس پر اندھا دھند فائرنگ کر کے اپنے خبثِ باطن کا مظاہرہ کیا۔ نسبت روڈ پر آغا سلطان احمد نے فائرنگ کی اور جلوس پر گولیاں برسائیں۔ اسسٹنٹ سب انسپکٹر موچی دروازہ نے بھی ایک جلوس پر گولیاں برسا کر شرکاء کے جسم وجان ہی نہیں، قلب و جگر کو چھید ڈالا۔چائنیز لنچ روم مال روڈ پر پندرہ سے بائیس سالہ نوجوانوں کا ایک مختصر سا گروہ کلمہ طیّبہ کا وِرد کرتے ہوئے برآمد ہوا۔ ایک بے ضمیر ڈی آئی جی ملک حبیب اﷲ نے اُسے بلا اشتعال فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ شہید ہونے والے آٹھ دس نوجوانوں کی لاشوں کو ملک نے ٹرکوں میں اس طرح پھینکوایا ، جیسے شکار کئے جانے والے جانور پھینکے جاتے ہیں۔
دہلی دروازہ کے قریب سے ایک بارات گزر رہی تھی۔ اچانک سامنے سے فائرنگ کی آواز آئی اور پولیس کے کچھ جوانوں نے بارات کو معذرت کر کے واپس جانے کا حکم سنایا۔ حقیقتِ حال معلوم ہونے پر دُولہا کی بوڑھی ماں نے اپنے بیٹے کو بلا کر کہا :
“بیٹا ․․․․ آج کے دن کے لئے میں نے تمہیں جنا تھا ۔میں تمہاری شادی اس دنیا میں نہیں، اب آخرت میں کروں گی۔ تمہاری بارات میں سرکارِ دوعالم صلّی اﷲ علیہ والہ وسلّم کو مدعو کروں گی ۔ جاؤ اور ناموسِ رسالت صلی اﷲ علیہ والہ وسلّم پر پروانہ وار نثار ہو جاؤ ۔”
سعادت مند بیٹا ختم نبوت،زندہ باد کے نعرے لگاتا ہوا آگے بڑھا اور سینے پر گولی کھا کر ناموسِ رسالت صلّی اﷲ علیہ والہ وسلم پر اپنی جان وار گیا۔
پورا لاہور فائرنگ کی تڑتڑاہٹ سے گونج رہا تھا۔ پولیس باؤلے کُتّے کی طرح تاک تاک کر نشانے باندھ رہی تھی۔ جگہ جگہ ختمِ نبوت کے پروانوں کے لاشے تڑپ رہے تھے ۔ دہلی دروازہ سے باہر صبح سے عصر تک جلوس نکلتے رہے اور لوگ دیوانہ وار سینوں پر گولیاں کھا کر آقائے نامدار صلی اﷲ علیہ والہ وسلم کی عزت وناموس پر جانیں نچھاور کرتے رہے ۔ عصر کے بعد جب کچھ سکون ہوا تو ایک بوڑھا اپنے پانچ سالہ معصوم بچّے کو کندھے پر اٹھائے نکلا۔ باپ نے ختمِ نبوت کا نعرہ لگایا تو معصوم نے توتلی زبان میں جواباً زندہ باد کہا۔ اسی اثناء میں دو گولیاں فائر ہوئیں اور دونوں کو چھلنی کر گئیں۔
رات دیر گئے تک حق و باطل کا یہ معرکہ جاری رہا اور اہلِ حق اپنے سینوں پر گولیاں کھا کھا کر شہادت کے جام پیتے رہے ۔ پولیس لاشیں اٹھا اٹھا کر چھانگامانگا کے جنگلوں میں گڑھے کھودکردفن کرتی رہی۔مسجدِ وزیر خان سے بعد نمازِ مغرب 25 عاشقانِ صادق کے جنازے اٹھائے گئے ۔
تا ابد چمکیں گے یہ نور کے ہالے تیرے

Iہاتھ باندھے ہیں کھڑے چاہنے والے تیرے
Gمعرکۂ بدر و احد اور کبھی کرب و بلا

?کیسے اندازِ محبت ہیں نرالے تیرے
º رات ہوئی تو لوگ گھروں کی چھتّوں پر چڑھ کر اذانیں دینے لگے ۔ لاہور میں کوئی گھر ایسا نہ تھا، جہاں شہداء کا تذکرہ نہ تھا۔ پورا شہر ہنگامہ زار بنا ہوا تھا۔ رات بھر دُور دُور تک مہیب اورہولناک شور کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔
……………………
رات ایک بجے ہوم سیکرٹری ، آئی جی ، ڈی آئی جی ، جنرل اعظم خان اور بعض دوسرے فوجی افسران وزیرِ اعلیٰ کی کوٹھی پر پہنچ گئے ۔ وزیِر اعلیٰ انتہائی بے تابی سے ان سب کا انتظار کر رہے تھے ۔ ادھر یہ لوگ پہنچے ، ادھر اجلاس شروع ہو گیا۔
” ٹُوننٹس سائلنس اِن دی گریف آف مارٹائر ․․․ ڈی ایس پی سیّد فردوس شاہ ! ” وزیرِ اعلیٰ نے کہا اور سب لوگ سوکھی توری کی طرح منہ لٹکا کر بیٹھ گئے ۔
دو منٹ کی مہیب خاموشی کے بعد وزیراعلیٰ نے سکوت توڑا۔
” آج کا دِن پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا ۔شرپسندوں نے دِن دیہاڑے ایک بہادر ڈی ایس پی کو نہ صرف موت کے گھاٹ اتارا،بلکہ اس کی لاش بھی مسخ کر دی۔ ثابت ہوا کہ اس تحریک کا مقصد ملک میں قتل و غارت گری کے سوا کچھ نہیں، لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ پولیس اور فوج مل کر بھی ، شہر کو اِن شرپسندوں سے خالی نہیں کرا سکے۔ میں پوچھتا ہوں کہ آخر کیوں ؟ ویئر اِز دی پرابلم ؟”
” سر! دوپہر سے لے کر اب تک پولیس مسلسل گولیاں چلا رہی ہے۔” آئی جی نے بتایا۔
” ہم دس کو مارتے ہیں۔ اُن کی جگہ بیس اور آن کھڑے ہوتے ہیں۔ دِس اِز ریڈیکولس ۔آئی تِھنک ناؤ ملٹری شُڈ کمپلیٹ لی ٹیک اووَر دِی چارج ! ”
” کیوں جنرل صاحب! آر یُو رَیڈی ٹُو کم اَپ اِن دی فرنٹ ؟” وزیرِ اعلیٰ نے پوچھا۔
جنرل اعظم نے جیب سے کچھ کاغذات نکالے ، اور نظر کا چشمہ درست کرتے ہوئے گویا ہوئے :
” سر! پہلے میں آپ کو مِلٹری ایڈ ٹو سِول پاور کی وضاحت کر دوں۔ ”
“دیکھئے جنرل صاحب !یہ قانونی وضاحتوں کا وقت نہیں ․․․ اِٹس وار ! اب فوج کو توپ وتفنگ سمیت میدان میں اترنا چاہیے اور اگر ایسا نہ ہوا تو ہر گلی ، ہر چوک میں ایک پولیس افسر کی لاش پڑی ہو گی۔”
” سر! توپ خانہ وہاں استعمال ہوتا ہے، جہاں دشمن بھاری ہتھیار لئے سامنے کھڑا ہو۔ کراؤڈ کے ہاتھ میں بوتلیں اور ڈنڈے ہیں ۔طاقت کے بے جا استعمال سے مسائل پیدا ہوں گے۔ ” جنرل نے کہا۔
” ٹھیک ہے، لیکن سم وَن ہیو ٹو ڈُو سم تِھنگ فار دِس بُل شٹ ! اس تحریک کو سختی سے کچلنا ہماری مجبوری ہے۔ ورنہ کل کوئی اور تحریک اُٹھ کھڑی ہو گی۔ برٹش راج کو بھی اِن ملاؤں نے پریشان کئے رکھا اور اب پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجانے پر تُل گئے ہیں ۔ ”
” سر! آئین کے مطابق فوج جو کردار ادا کر سکتی ہے ، کر رہی ہے۔ امن و امان کی بنیادی ذمّہ داری پولیس کی ہی ہے ۔بارڈر پولیس بھی اس کے ساتھ ہے ۔ اگر کسی ایریا میں حالات پولیس کی دسترس سے باہر ہو گئے تو فوج آٹومیٹیکلی وہاں ٹیک اوور کر لے گی۔! ”
“حیرت ہے ! یعنی آپ کے خیال میں اب تک کے حالات بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں ؟ ” آئی جی نے کہا۔
” آف کورس! سوائے ایک پرتشدد واقعہ کے اور کچھ نہیں ہوا۔ کہیں کوئی پراپرٹی ، کوئی گاڑی نہیں جلی۔کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہوئی ۔ان حالات میں طاقت کا اتنا ہی استعمال کیا جائے جتنا مناسب ہے ۔”
مسجدِ وزیرخان سے اذانِ فجر بلند ہوئی تو یہ اجلاس ختم ہوا۔
(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.