تعارف و اغراض و مقاصد
مجلس احرار اسلام، حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیری اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمھما اللہ کی قائم کردہ جماعت ہے۔ ۲۹ / دسمبر ۱۹۲۹ء کواحرار کا قیام عمل میں آیا۔ اس جماعت نے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، مفکر احرار چودھری افضل حق، مولانا مظہر علی اظہر، خواجہ عبد الرحمن غازی، مولانا سید محمد داؤد غزنوی، ماسٹر تاج الدین انصاری، شیخ حسام الدین، مولانا محمد گل شیر شهید، نواب زادہ نصر اللہ خاں، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا غلام غوث ہزاروی، آغا شورش کا شمیری رحمہم اللہ کی قیادت میں تحریک آزادی کے ہنگامہ خیز دور میں سرگرم کردار ادا کیا۔ ۱۹۳۰ء میں محدثِ عصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کاشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے انجمن خدام الدین لاہور کے سالانہ جلسے میں پانچ سو علما کی معیت میں سید عطاءاللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو ” امیر شریعت ” منتخب کر کے بیعت کی اور فتنۂ قادیانیت کے تعاقب کا مشن آپ کے سپرد فرمایا۔ حضرت امیر شریعت رحمۃ اللہ علیہ نے اکتوبر ۱۹۳۴ء میں قادیان میں شعبہ تبلیغ تحفظ ختم نبوت قائم کیا اور دفاتر ختم نبوت کے ذریعے برصغیر میں فتنۂ ارتداد مرزائیہ کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ قیام پاکستان کے بعد ۱۹۵۳ء میں احرار نے تمام مکاتب فکر کو کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے تحریک ختم نبوت برپا کی اور قادیانی سازشیں نا کام ہوئیں، دس ہزار فرزندانِ توحید کو شہید کردیا گیا اور احرار پر پابندی لگادی گئی، ۱۹۵۸ء میں چند روز کے لیے حکومت نے پابندی ختم کی تو حضرت امیر شریعت نے سرخ قمیص پہن کر ملتان میں احرار کی بحالی کا اعلان فرمایا اور پرچم کشائی کی ۔ ۱۹۶۲ء میں دوبارہ پابندی ختم ہوئی تو جانشین امیر شریعت حضرت مولانا سید ابو معاویہ ابوذر بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے قافلۂ احرار کی شیرازہ بندی کر کے مجلس احرار اسلام کا احیاء کیا۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک تحفظ ختم نبوت میں بھر پور حصہ لیا نتیجتاً لاہوری و قادیانی مرزائیوں کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ ۱۹۷۶ء میں چناب نگر (ربوہ) میں مسلمانوں کے با ضابطہ پہلے اسلامی مرکز ” جامع مسجد احرار” اور ” مدرسہ ختم نبوت” کا سنگ بنیاد رکھا۔ ۱۹۷۹ء میں حضرت مولانا سید عطاء المحسن بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے جماعت کے مرکز ملتان میں ” مدرسہ معمورہ ” کی تشکیل نو کی، ملک بھر میں مدارس اور مراکز احرار و ختم نبوت کا ایک مہم کے طور پر آغاز کیا۔ ۱۹۸۴ء میں امتناع قادیانیت آرڈنینس کا اجراء ہوا۔ شعبہ تبلیغ تحفظ ختم نبوت کی محنت سے اب تک سیکڑوں قادیانی مسلمان ہو چکے ہیں جبکہ شعبۂ خدمت خلق کے تحت سیکڑوں مستحق مریضوں کا مفت علاج اور نو مسلمین کی کفالت کی جارہی ہے۔ الحمدلله ! آج مختلف شہروں میں بیس سے زائد دینی مدارس و مساجد اور مراکز و دفاتر سرگرم عمل ہیں۔ ملتان میں سالانہ ختم نبوت کورس اور ملک بھر میں فہم ختم نبوت خط کتابت و آن لائن کورس جاری ہے۔ ماہنامہ ” نقیب ختم نبوت ملتان” گزشتہ چار دہائیوں سے شائع ہو رہا ہے جو علمی اور فکری محاذ پر بہترین کردار ادا کر رہا ہے۔
ماہنامہ نقیب ختم نبوت
عقائد اسلامیہ اور فرق باطلہ
عقائدِ اسلامیہ قرآن و سنت کی روشنی میں وہ بنیادی ایمان ہیں جن پر ایک مسلمان کا دین قائم ہوتا ہے، جیسے توحید، رسالت، آخرت، فرشتوں اور الہامی کتابوں پر ایمان۔ یہ عقائد انسان کے کردار، عبادات اور طرزِ زندگی کو درست سمت دیتے ہیں۔ اس کے برعکس فرقِ باطلہ وہ گروہ ہیں جو ان بنیادی عقائد سے انحراف کرتے ہوئے اپنی من گھڑت تشریحات اور نظریات پیش کرتے ہیں۔ ایسے فرقے اکثر عقل یا خواہشات کو وحی پر فوقیت دیتے ہیں۔ اس سے امتِ مسلمہ میں انتشار اور گمراہی پیدا ہوتی ہے۔
اسلام نے ہمیں اعتدال اور حق کی پیروی کا حکم دیا ہے۔ صحیح عقائد کی پہچان کے لیے علمِ دین حاصل کرنا بے حد ضروری ہے۔ قرآن و سنت کو معیار بنائے بغیر حق و باطل میں تمیز ممکن نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امت نے اصل عقائد کو چھوڑا، زوال کا شکار ہوئی۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ عقائدِ اسلامیہ کو مضبوطی سے تھامے اور فرقِ باطلہ سے خود کو محفوظ رکھے۔


