تازہ ترین خبریں
آپ کو مجلس احرار کیسی لگی؟

مسئلہ کشمیر ،وزیر اعظم کا جنرل اسمبلی سے خطاب اور بھارتی جنگی جنون

سیدمحمد کفیل بخاری وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ:عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارت پر دباؤڈالے ،دنیا اپنے وعدے پورے کرے ،یہ تنازعہ طے کیے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں ،مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کے شواہد دیں گے۔اقوام متحدہ وادی کو غیر فوجی علاقہ قرار دے ،قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں بے گناہ کشمیر یوں کی شہادت ،پیلٹ گن سے زخمی کرنے اور مظالم کی تحقیقات کے لیے کمیشن بھیجا جائے ۔بڑی طاقتوں کی محاذ آرائی سے دنیا کو خطرات کا سامنا ہے بھارت کے ساتھ امن اور کشمیر سمیت ہر مسئلے کے لیے غیرمشروط مذکرات کے لیے تیار ہیں ۔پاکستان ذمہ دار

یومِ ختم نبوت کی غیر معمولی پذیرائی

عبد اللطیف خالد چیمہ تحریک ختم نبوت کو 42سال قبل 7؍ ستمبر 1974ء کو آئینی طور پر پارلیمنٹ کے فلور پر جو بڑی کامیابی نصیب ہوئی ،اس کی یاد میں ’’یوم ختم نبوت‘‘(یوم قرارداد اقلیت ) ہم نے مجلس احرار اسلام اور تحریک تحفظ ختم نبوت کے دیرینہ پلیٹ فارم سے کوئی 30 سال قبل مٹانا شروع کیا تھا، جس کا آغاز چھوٹی موٹی خبروں ،مضامین اور تقریبات سے ہوا تھا ، تحدیث نعمت کے طور پر عرض ہے بتدریج اسی کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا اور اس مرتبہ (7 ستمبر2016 ء) یوم ختم نبوت، مجلس احرار اسلام ،عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت،انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے علاوہ دیگر مکاتب ِ فکر نے نہایت جوش وخروش کے ساتھ منایا اور ایک

پیمرا چاہتا کیاہے؟

سیف اﷲ خالد معلوم ہے کہ حالات بہت دگرگوں ہیں، یہ بھی جانتے ہیں کہ مشرف سے صرف ذاتی رنجش ہے اس کی پالیسیوں سے کسی کو اختلاف نہیں، ورنہ جو اس نے 2001ء میں کیا نواز شریف اس کے لیے 1999ء میں تیار تھے،اور اس سے بھی بری اور ذلت آمیز شرائط پر۔ اس سے بھی انکار نہیں کہ،فرق صرف اتنا ہے کہ وہ جو چاہتا تھا کھل کر کہتا تھا، یہ جو چاہتے ہیں وہ زبان پر نہیں لاتے،ملک سے دینی اقدار کا جنازہ نکالنا اور لبرل اباحیت کو مسلط کرنا مشرف کا مشن تھا تو ان کا عقیدہ ہے۔ اس کی حکومت میں قادیانیوں کو اہمیت حاصل تھی تو ان کے دور اقتدار میں بھی وہ ایوان اقتدار کی مونچھ کا بال

قادیانی اقلیت کے حقوق اور اُن کی آبادی کا تناسب

مولانا زاہد الراشدی ’’عشرۂ ختم نبوت‘‘ کے اختتام پر 9 ستمبر کو گکھڑ اور 10 ستمبر کو چیچہ وطنی میں اس حوالہ سے چند اجتماعات میں حاضری و گفتگو کا موقع ملا۔ گکھڑ میں حضرت والد محترمؒ کی مسجد میں 9 ستمبر کو بعد نماز مغرب ’’ختم نبوت کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی جس میں جماعت اسلامی پنجاب کے سیکرٹری جنرل جناب بلال قدرت بٹ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے چودھری محمد اشرف وڑائچ، پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر میاں راشد طفیل، اور وزیرآباد بار ایسوسی ایشن کے صدر چودھری اعجاز احمد ایڈووکیٹ کے علاوہ مولانا قاری حماد الزہراوی، مولانا قاری منہاج الحق خان راشد، مولانا قاری محمود اختر ، حافظ بشیر احمد چیمہ اور دیگر حضرات نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ چیچہ وطنی

عرب دنیامیں ترکِ قادیانیت کی تازہ لہر

ڈاکٹر عمر فاروق احرار قادیانیت ہندوستان میں انگریز استعمار کا پیدا کردہ فتنہ تھا۔ جس نے امت مسلمہ کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت پر حملہ زن ہو کر مسلمانوں کے ایمان کو لُوٹنے کی پوری کوشش کی۔ بیرونی قوتوں نے اپنے مفادات کے حصول کے لیے قادیانیت کو پروان چڑھا کر مسلمانوں کی اجتماعیت ومرکزیت پر کاری ضرب لگائی۔ 1928 میں حیفہ (اسرائیل) کے مقام پر قادیانی مشن قائم کیا گیا۔ اسرائیل جہاں مسلمانوں کو جان وایمان کی آزمائشوں کا سامنا ہے۔ یہ قادیانی مشن وہاں آج بھی پوری آزادی سے کام کررہا ہے اورعرب دنیامیں اسرائیل کو قادیانیوں کے ہیڈ آفس کا درجہ حاصل ہے۔ دیگر ممالک بالخصوص اسرائیل سے مسلمانوں کو قادیانی بنانے کا جو مذموم دھندہ شروع ہوا تھا۔ اُس کے نتیجے

دینی مدارس کے خلاف ایک نئے راؤنڈ کی تیاریاں

مولا نا زاہدالراشدی یوں لگتا ہے کہ دینی مدارس کے خلاف کاروائیوں کا ایک نیا راؤنڈ شروع ہونے والا ہے اور اس بار اس کا دائرہ و ہدف پنجاب نظر آرہا ہے۔ سندھ میں یہ سلسلہ اس وقت جاری ہے جبکہ پنجاب میں اس کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ گزشتہ ہفتہ کے دوران دو مختلف اخباروں میں شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق اس حوالہ سے پنجاب حکومت کی سرگرمیوں کا جو نقشہ سامنے آرہا ہے وہ کچھ اس طرح کا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے صوبائی اپیکس کمیٹی کے ممبران جن میں کور کمانڈر لاہور، صوبائی وزیر داخلہ، چیف سیکرٹری پنجاب، ڈی جی رینجرز پنجاب، جنرل آفیسر کمانڈنگ ۱۰ ڈویژن، انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب، سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری اوقاف و

مودی حکومت نے قادیانیوں کو مسلم فرقہ قراردے دیا

منیر احمد شاہ بھارتی حکومت نے اسلام اور مسلم دشمنی میں قادیانیوں کو مسلمان فرقہ کے طور پر تسلیم کر لیا مودی حکومت نے قادیانیوں کو اسلام کے ایک فرقے کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ گزشتہ دنوں ۲۰۱۱ء کی مردم شماری کے اعداد و شمارسرکاری طور پر ظاہر کیے گئے جس میں یہ بات سامنے آئی کہ قادیانی اسلام کا ایک فرقہ ہے اس سے قبل بھارتی حکومت کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں اسلامی فرقوں کے طور پر سنی، شیعہ، بوہرہ او رآغا خانیوں کے ناموں کا اندراج تھا۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی حکومت گزشتہ برس تک قادیانیوں کو اسلام کا ایک فرقہ تسلیم کرنے سے گریزکرتی رہی جبکہ اس سے قبل ہائی کورٹ نے بھی اپنے ایک فیصلے میں

امیر المؤمنین خلیفہ راشد سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اﷲ عنہ

محمد عرفان الحق ایڈووکیٹ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اﷲ عنہ تیسرے خلیفہ راشد تھے۔ آپ ؓ کے پر نور چہرہ پر چیچک کے نشانات تھے جبکہ آں موصوفؓ کی رنگت سفید مائل زردی تھی اور زلفیں کندھوں تک آئی ہوتی تھیں۔ آپؓ خاندان بنو امیہ سے تھے۔ ذہن میں رہے کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے خواہش کے مطابق مشرقی و مغربی پاکستان میں سب سے پہلے پاکستان کا جھنڈا لہرانے والے عثمانی برادران (مولانا شبیر احمد عثمانی و مولانا ظفر احمد عثمانی) بھی سیدنا عثمانؓ کے خاندان سے تھے۔ اور قائداعظم محمد علی جناح کی وصیت کے مطابق ان کا جنازہ بھی مولانا شبیر احمد عثمانی ہی نے پڑھایا تھا۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ کاتب وحی بھی تھے

دو عظیم بھائی ……سیدناعثمان و سیدنا علی رضی اﷲ عنہما

محمد یوسف شیخوپوری ایک معاشرتی اصول ہے کہ جب ایک آدمی دوسرے آدمی کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کرتا ہے اور اس حیاتِ مستعار میں صرف خالی تعلق ہی نہیں بلکہ رشتہ داری، صلہ رحمی اور نسبی مراسم کو ہمیشہ استوار و قائم رکھتا ہے اور اخوت و ایثار، محبت ومودّت کے سلسلہ کو زندگی کے کسی موڑ پر بکھرنے نہیں دیتا تو یہ ان کی خویشگی کا پختہ مظاہرہ تصور کیا جاتا ہے اور باہم یگانگت کا منہ بولتا ثبوت ہوتا ہے ۔ چنانچہ جب معاشرے کے اس فطری اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے غور و فکر کریں تو دو بھائیوں میں الفت و پیار کی ایک مضبوط اور لازوال داستان نظر آتی ہے۔ یہ دو بھائی کون ہیں؟ ان کا تعارف کیا ہے؟

تو بھی ان کو معاف کر دے

پروفیسر حمزہ نعیم اصحابِ رسول کی زندگی دین ہے اور دین کو پرکھنے کا معیار تاریخ نہیں، قرآن اور حدیث ہے۔ جب قرآن کہتا ہے کہ کُلّلا وَعَدَ اللّٰہُ الحُسْنیٰ سب کے ساتھ اﷲ نے جنت کا وعدہ کر لیا تو اب چاہے سند متصل کے ساتھ بھی روایات موجود ہوں تو بھی ہم ان کو رد کریں گے کیونکہ وہ خالق کائنات جس نے جزا و سزا کا نظام بنایا اور چلایا ہے وہی کہہ رہا ہے ’’میں نے جنت کا وعدہ ان کے ساتھ کر لیا ہے‘‘ صحابہ پر جرح حرام ہے ارشاد نبوی ہے اللّٰہَ اللّٰہَ فی اَصحابی! لا تتخذوھم غرضاًمِنْ بعدی۔ میرے صحابہ کے بارے میں اﷲ سے ڈرو، اﷲ سے ڈرو۔انھیں میرے بعد تنقید کا نشانہ نہ بناؤ۔ فَمَنْ أحَبَّہُم

احادیثِ نزولِ عیسیٰ بن مریم علیہماالسلام اور منکرین حدیث کے اعتراضات کا علمی جائزہ

حافظ عبیداﷲ (قسط:۶) حدیث نمبر1 ’’(امام بخاریؒ فرماتے ہیں) ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث (بن سعد) نے بیان کیا ، اُن سے ابن شہاب (زہری) نے ، اُن سے (سعید) ابن المسیب نے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کو یہ فرماتے سنا کہ اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، وہ زمانہ آنے والا ہے جب ابن مریم (عیسیٰ علیہ السلام) تم میں ایک عادل اور منصف حاکم کی حیثیت سے اتریں گے، وہ صلیب کو توڑ ڈالیں گے ، خنزیر کو مار ڈالیں گے اور جزیہ کو ختم کردیں گے۔ اس وقت مال کی اتنی فراوانی ہوگی کہ کوئی لینے والا

پیروڈی کیا ہے؟

طارق کلیم پیروڈی ادب کی معروف اصطلاح ہے او ریہ مغرب سے اردو میں آئی ہے۔ اس کا تعلق مزاح سے ہے اور اس کے دائرہ کار میں نثر اور نظم دونوں آجاتے ہیں۔ ڈکشنری آف لٹریری ٹرمز میں پیروڈی کے متعلق درج ہے: An imitation of a specific work of literature (Prose or verses) or style devised so as to ridicule its characteristic feature, exaggeration, or the application of a serious tone to an absurd subject are typical method.[1] اردو دان طبقے نے پیروڈی کا تصور مغرب ہی سے لیا اور اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہی اردو میں پیروڈی کی شعریات کو متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ انگریزی کی تعریفوں سے یہ بات پوری طرح عیاں ہے کہ پیروڈی کا مقصد

منقبت امیر المؤمنین سیدنا عثمان رضی اﷲ عنہ

حکیم سید محمود احمد سرور سہارن پوری سلام اس پر جو دربارِ رسالت میں غنی ٹھہرا                                                      خدا کی راہ میں ایثار جس کا گفتنی ٹھہرا وہ عثمانِ غنی، حبِ نبی جس کا وظیفہ ہے                                                   رسول اﷲ ﷺ کا جو تیسرا سچا خلیفہ ہے جو حسنِ صبح ہے، نور ِ شبینہ ہے، سلام اس پر                                          

تیسرے امام کی منقبت

احمد جاوید تیری آواز قرآن کی ہم لحن ہے مولا! تیرا ہاتھ رسول اﷲ کا ہاتھ ہے ید اﷲ کے سرمدی لمس کا وارث! غیب و شہود کی منتہا در منتہا یکجائی کے نورانی سمٹاؤ میں تو قائم کیا گیا الوہی تھام کے ساتھ احمد مختار کی دست گیر سہار کے ساتھ مالک الاشتر کی خبیث تلوار قرآن کے حلقوم پر گری تھی اس شیطان کی ضرب نے ابوالقاسم کے دستِ مبارک کو گزند پہنچائی تیرے دشمنوں نے اسلام کے شاداب شجر پر زہراب چھڑکا اور مدینے کی پاک مٹی میں خباثت کاشت کرنے کی ٹھانی دوزخ کے کتوں کی مکروہ غراہٹوں نے حیا اور سخاوت کے ملکوتی آفاق سے طلوع ہونے والے سورج کی مقدس پیشانی کو پر خراش کردیا نجس نیتوں کے تعفن

ِؒغزل

پروفیسر خالد شبیر احمد ظلمتوں میں چاند ڈھلتا رہ گیا میں کفِ افسوس ملتا رہ گیا نکہتوں کو کھا گئی بادِ خزاں پھول خاروں پر تڑپتا رہ گیا منزلوں کے مٹ گئے نام و نشاں میں فقط راہوں پہ چلتا رہ گیا جان و دل کو کھا گئی ہے بے رخی اشک آنکھوں سے ٹپکتا رہ گیا کون آیا پردۂ افلاک سے آسمانوں کو میں تکتا رہ گیا ہر طرف بکھری ہوئی ہے تیرگی چاندنی کو جی ترستا رہ گیا بے نیازِ تشنگی صحرا ہوئے بحر میں دریا اترتا رہ گیا میں فراتِ وقت پر تشنہ رہا ابر سر پر ہی گرجتا رہ گیا کس نے پکڑا ہاتھ میرا تو بتا ہاتھ پہ میں ہاتھ دھرتا رہ گیا خالدؔ اندر کا تھا جو انساں میرا

عشق کے قیدی (ناول) (قسط نمبر ۲)

ظفرجی کچھ ہی دیر میں ہال کچھا کھچ بھر چکا تھا۔چاندپوری مجھے ایک کونے میں دھکیل کر ایک بار پھر کہیں گم ہو چکے تھے ۔ " اختر علی خان ․․․ روزنامہ’’ زمیندار‘‘ ․․․․ کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں ؟؟ " ایک ادھیڑ عمر شخص میرے سر پر آن کھڑا ہوا۔ " جج ․․․․ جی جی ․․․․ ضرور ․․․․ " میں اپنی کرسی پر بیٹھا بیٹھا سکڑ گیا۔ " نوازش ․․․ کس روزنامچے سے ہیں آپ ․․․․ ؟ " انہوں نے بیٹھتے ہی پوچھا۔ " جی میں وہ ․․․ دراصل ․․․․ چچ ․․․ چاند پوری ․․․ " میں ہکلایا۔ " چاند پوری ؟؟ ماشاء اﷲ کہاں سے چھُپتا ہے ؟ " "ہر پانچ منٹ بعد چُھپ جاتا ہے ․․․․ وہ رہے ․․․․ وہ تیسری

غلام ابوبکر صدیق بن حضرت مولانا محمد نافع رحمتہ اﷲ علیہ

غلام ابوبکر صدیق رُحَمَآءُ بَیْنَہُمْ ویلفیئرٹرسٹ محترم و مکرم جناب حضرت مولانا سید محمد کفیل شاہ صاحب السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ! امید ہے کہ آپ بخیر و عافیت سے ہوں گے آپ کے مؤقر جریدے کے ذریعہ اظہار براء ت چھپانا چاہتا ہوں جو کہ لف ہذا ہے۔ اس اجمال کی مختصر تفصیل یہ ہے کہ حافظ عبدالجبار سلفی نے حضرت والد گرامی القدر کا تذکرہ لکھنے کے لیے ہم سے تمام مواد ڈائیریاں و خطوط اور تمام معلومات لے کر تذکرہ حضرت مولانا محمد نافع رحمتہ اﷲ علیہ تالیف کیا جس میں بہت سی فضول وغیر متعلقہ اور تنقیدانہ مباحث شامل کردیں ہم دونوں بھائیوں کو جب اس نے مسودہ کی ایک کاپی ارسال کی تو ہم نے تصحیحات اور ترامیم کیں تو

مسافران آخرت

٭مجلس احرار اسلام ملتان کے نائب امیر شیخ نیاز احمد (سٹینڈرڈ بیکری) کی پھوپھی مرحومہ ٭مجلس احرار اسلام کراچی کے سرپرست بھائی شفیع الرحمن کی والدہ ماجدہ انتقال:۱۷؍ ستمبر ۲۰۱۶ء ٭مجلس احرار اسلام الٰہ آباد ضلع رحیم یار خان کے رکن عبدالمنان معاویہ کی خالہ مرحومہ ٭مجلس احرار اسلام چکڑالہ ضلع میانوالی کے رکن جناب خالد صاحب کے بھائی ملک محمد فاروق مرحوم (یوسف میڈیکل سٹور) انتقال:۷؍ستمبر ۲۰۱۶ء ٭ بخاری اکیڈمی دارِ بنی ہاشم ملتان کے ناظم جام ریاض احمد کا نومولود بیٹا انتقال کر گیا ٭ مجلس احرار اسلام چشتیاں کے امیر علی اصغر کے والد ماجد فقیر محمد انتقال کر گئے ٭ مجلس احرار اسلام ماہڑہ مظفر گڑھ کے کارکن اور مدرسہ معمورہ کے سابق طالب علم حافظ محمد عمران کی معصوم بیٹی

نقیب

گزشتہ شمارے

2016 October

مسئلہ کشمیر ،وزیر اعظم کا جنرل اسمبلی سے خطاب اور بھارتی جنگی جنون

یومِ ختم نبوت کی غیر معمولی پذیرائی

پیمرا چاہتا کیاہے؟

قادیانی اقلیت کے حقوق اور اُن کی آبادی کا تناسب

عرب دنیامیں ترکِ قادیانیت کی تازہ لہر

دینی مدارس کے خلاف ایک نئے راؤنڈ کی تیاریاں

مودی حکومت نے قادیانیوں کو مسلم فرقہ قراردے دیا

امیر المؤمنین خلیفہ راشد سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اﷲ عنہ

دو عظیم بھائی ……سیدناعثمان و سیدنا علی رضی اﷲ عنہما

تو بھی ان کو معاف کر دے

احادیثِ نزولِ عیسیٰ بن مریم علیہماالسلام اور منکرین حدیث کے اعتراضات کا علمی جائزہ

پیروڈی کیا ہے؟

منقبت امیر المؤمنین سیدنا عثمان رضی اﷲ عنہ

تیسرے امام کی منقبت

ِؒغزل

عشق کے قیدی (ناول) (قسط نمبر ۲)

غلام ابوبکر صدیق بن حضرت مولانا محمد نافع رحمتہ اﷲ علیہ

مسافران آخرت