خطیبِ اعظم سیدعطاء اللہ شاہ بخاری

مجاہد احرار آغا شورش کاشمیری

"شاہ جی کے چہرے مہرے سے عنانِ خیال معاان یونانی فلسفیوں کی طرف مڑجاتی، جن کے فکرونظرکی بہت سی راہیں صدیوں کی شب کاری کے باوجودروشن چلی آتی ہیں اورجن کے تصویری پیراہن ان شہہ دماغوں کی یاددلاتے ہیں، جن کی صورتوں سے ایک ساحرانہ شکوہ کااظہارہوتاہے، شاہ جی کانک سک قرونِ وسطی کے ان حکما وفقہا اور علما و خطباسے مشابہ تھے، جوطلوعِ تاریخ سے پہلے یونان ورومامیں اورطلوعِ تاریخ کے بعد بغدادودہلی میں پائے جاتے تھےـ اتفاق کہیے کہ بعض داعی شخصیتیں آپس میں ایک گونہ مماثلت ضروررکھتی ہیں، مثلا: فیثاغورث، کارل مارکس، رابندرناتھ ٹیگور اورشاہ جی میں فکرونظر، عقیدہ وایمان اورعلم وعمل کی کوئی راہ مشترک نہ تھی؛ لیکن کچھ ایسا بانکپن ضرورتھاکہ ان کاچہرہ مہرہ صفاتی بُعدکے باوجودایک ساتھا، بہرحال یہ ایک شاعرانہ چیزہے، ان بڑوں کی زندگی ایک خاص طرزرکھتی ہے، جس سانچے میں بھی ڈھلیں، ہمیشہ ابھرے ہوئے ملیں گے، یہ کسی کے نقشِ پانہیں ڈھونڈتے؛ بلکہ لوگ ان کے نقشِ پاکے متلاشی رہتے ہیں "ـ

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.