| |

"عمر بھر کی بےقراری کو قرار آہی گیا” | اورنگ زیب اعوان

اورنگ زیب اعوان

پیر جی سید عطاء المہیمن بخاری بھی ۔۔۔!

"دل درد میں ڈوبا ہے زباں نوحہ کناں ہے”

دن 3:30بجے مولانا محمد نثار اعوان نے اطلاع دی کہ پیر جی اب ہم میں نہیں رہے۔

میں نے فیس بک آن کی تو سید عطاءالمنان بخاری اور سید محمد کفیل بخاری کی پوسٹیں نظر پڑیں جن سے اس افسوس ناک خبر کی تصدیق ہو گئی۔ہائے افسوس !آج ہم حضرت امیر شریعت عطاء اللہ شاہ بخاری کی آخری نشانی سے بھی محروم ہو گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون

شاہ جی کے چاروں صاحبزادے ان کے مشن کے وارث اور جرات و بہادری کا پیکر تھے۔سید ابو معاویہ ابو ذر بخاری ،سید عطاء المحسن بخاری،سید عطاء المومن بخاری ہم میں نہ رہے۔ پیر جی کو دیکھ کر دل خوش ہو جاتا تھاکہ یہ اپنے والد محترم کی نشانی بھی تھے اور بھائیوں کی تصویر بھی۔آج پیر جی بھی ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔

پیر جی مجلس احرار اسلام کے امیر تھے،عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ اور فتنہ قادیانیت کا تعاقب انھیں ورثے میں ملا تھا۔خطابت ان کے گھر کی لونڈی اور ہاتھ کی چھڑی تھی۔قرآن مجید کی تلاوت کرتے تو سماں باندھ دیتے ،سید عطاءاللہ شاہ بخاری کی خطابت اور تلاوت قرآن کریم کے امین تھے۔

شاہ جی نے قادیان جا کر قادیانیت کو للکارا تو پیر جی نے دارلکفر ربوہ(چناب نگر) میں ڈیرے ڈال کر قادیانیت کو پٹخنیاں دیں اور تگنی کا ناچ نچایا۔پیر جی میں اللہ تعالیٰ نے حضرت امیر شریعت اور ان کے تین بڑے بھائیوں کی خوبیاں یکجاں کر دیں تھیں۔پیر جی مرشد احرار شاہ عبد القادر رائے پوری کے مرید اور مولانا شاہ عبد العزیز رائے پوری کے خلیفہ مجاز تھے۔ برسوں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قیام رہا،جہاں کے مبارک ماحول نے آپ کی صلاحیتوں کو جلا بخشی اور کندن بنا دیا۔

پیر جی جلال و جمال کا حسین امتزاج تھے،
اشداء علی الکفار اور رحماء بینھم کی عملی تصویر تھے۔وہ اپنوں کے لیےاخلاق نبویؐ کا نمونہ تھے تو دشمنوں کے لیے ضرب حیدری،وہ دین دشمنوں کے لیے شمشیر بے نیام تھے۔

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

پیر جی اس شعر کی عملی تصویر تھے۔۔۔وہ احرار کارکنوں کو اپنے بچوں کی طرح عزیز جانتے تھےجبکہ کار کن انھیں اپنا روحانی والد سمجھتے تھے،وہ اپنے کارکنوں پر شفقتوں کی انتہا کر دیتے تھے اور کارکن بھی ان کے اشارہ ابرو پر جان دینے کو تیار ہوتے تھے۔ان کے کارکن ان سے محبت کرتے تھےکہ وہ تھے ہی محبت کے لائق۔کارکنوں کو ان کی صورت میں سید عطاءاللہ شاہ بخاری نظر آتے تھے۔رحمتہ اللہ علیہ

مجھ نا چیز پر ان کی بہت زیادہ شفقتیں تھیں۔بارہا غریب خانہ کو رونق بخشی،خدمت کے مواقع عطا کیے،ان کے ساتھ بارہا سفر کی سعادت نصیب ہوئی،ان کی صدارت میں تقریریں بھی کیں،چناب نگر اور لاہور کی ختم نبوت کانفرنسوں میں شرکت کے لیے خود فون کر کے دعوت دیتے، واپسی پہ سفر خرچ سے بھی نوازتے۔
میری اہلیہ کا اصلاحی تعلق ان سے تھا۔بارہا اپنے اصلاحی و تربیتی گرامی ناموں سے سرفرازکیا۔

میرے قیام پشاور کے موقع پر وہاں بھی تشریف لائے۔امیر شریعت سیمینار سے خطاب فرمایا،اسلامک ایجوکیشنل اکیڈمی کی سرپرستی قبول فرمائی اور افتتاحی پروگرام میں بھی رونق افروز ہوئےاور خطاب فرمایا،اکیڈمی کے ساتھ خود بھی مالی تعاون کیا اور شرکاء پروگرام کو بھی ترغیب دی۔ہمیشہ اپنی دعاؤں سے نوازتے۔
ایک دفعہ روزنامہ اوصاف اسلام آباد کے دفتر تشریف لائے،حاجی عبد الطیف خالد چیمہ ساتھ تھے۔انٹرویو کی گزارش کی تو شرف قبولیت بخشایوں میں نے اوصاف کے لیے ان کا یادگار انٹرویو کیاجو اخبار کی زینت بنا۔

جامعہ ابو ہریرہ خالق آباد نوشہرہ، مرکز علوم اسلامیہ راحت آباد پشاور، دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک اورشیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ المدنی،مولانا قاضی ارشد الحسینی(اٹک) سے ملاقات کے اسفار میں پیر جی کی معیت نصیب ہوئی۔
شنکیاری،مانسہرہ مولانا سید نواب حسین شاہ صاحب کے پروگراموں میں بھی ہری پور سے ساتھ لے کے جاتےاور واپسی رات کا قیام غریب خانہ پہ ہوتا۔

آج وہ کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے،آج سید عطاءالمنان بخاری ہی یتیم نہیں ہوئے، ہم سب ان کے رضا کار اور کارکن یتیم ہو گئے۔ ایک مشفق و محسن کی دعاؤں سے محروم ہو گئے۔شاہ جی کی آخری تصویر بھی آج نظروں سے اوجھل ہو گئی۔
میرے لیے دوہرا افسوس یہ بھی ہے کہ بیماری کے باعث ان کی نمازجنازہ میں شریک نہیں ہو سکتا،اتنا لمبا سفر اب میرے بس کی بات نہیں ،یہیں بیٹھ کر ان کی یاد میں آنسو بہا رہا ہوں اور ان کی یادوں سے گلستان دل کو مہکا رہا ہوں۔

گوجر خان،اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، ملتان، فیصل آباد اور چناب نگر کے اسفار ان کے ساتھ ہوتے رہے،طویل محفلیں رہیں، ساری ساری رات ان سے باتوں میں گزر جاتی۔۔۔یہ یادیں ان شاءاللہ تفصیل سے قلمبند کروں گا۔

ابھی مزید لکھنے کا حوصلہ اور ہمت نہیں ،اللہ تعالیٰ پیر جی کی قربانیوں کو قبول فرمائیں اور درجات کی بلندی نصیب فرمائیں۔
آمین

Similar Posts

  • | |

    یوم شہدائےکشمیر | محمد اسامہ قاسم

    تحریر: محمد اسامہ قاسم ترجمان اسلامک رائٹرز موومنٹ پاکستان خون میں لت پت سسکتی آہوں کے ساتھ ظلم و سفاکیت کی شکار وادی کشمیر، وہ کشمیرجو ہماری شہ رگ ہے لیکن آج کل اس شہ رگ کی کسی کو کوئی فکر نہیں، وہاں زندگی کو موت کی چادر میں لپیٹے ہوئے ایک سال مکمل ہونے…

  • |

    عشق سچا ہے

    مدثر حسین احمد میں کچھ دیر بیٹھا سوچتا رھا کہ اس کے سوال کا جواب کیسے لکھوں ؟؟ دل نے مداخلت کی ، کہنے لگا عشق جب سچا ہے تو جواب بھی سچ دو ۔ دوسری طرف دماغ تھا جو کہ بڑی دیر سے کچھ سمجھانے کی کوشش میں بولنا چاہ رھا تھا ۔ دل…

  • |

    سمجھ انجام گلشن کا……

    سید محمد کفیل بخاری ملکی حالات بڑی برق رفتاری کے ساتھ خرابی کی طرف جا رہے ہیں۔ دھرنوں اور احتجاجی ریلیوں نے کاروبارِ زندگی مفلوج کر دیا ہے۔ قتل، اغواء، آبرو ریزی کے وحشیانہ واقعات نے عوام کے ذہنوں پر خوف طاری کر دیا ہے۔ حکمرانوں اور سیاست دانوں کو تو صرف اپنے اقتدار کی…

  • |

    عیدالفطر

    مولاناابوالکلام آزادرحمۃ اﷲ علیہ فقیرنے یہ تحریر مولاناابوالکلام آزادؒکے عیدالفطرکے حوالے سے لکھے جانے والے ایک منفرد مضمون میں سے منتخب کی ہے۔اس میں عمومی تحریروں کی طرح عیدکے فضائل ومسائل نہیں بیان کیے گئے۔ مختصراًکہاجائے تویہ تحریرامت مرحومہ کو اس کا بھولاسبق یاددلاتی ہے اوراس کاحرف حرف دعوت فکرکہن دیتاہے۔اس کاعنوان گوسادہ ساہے لیکن…

  • |

    نقشہ برائے ادائیگی زکوٰۃ

    مولانا اعجاز صمدانی (الف) وہ اثاثے جن پر زکوٰۃ واجب ہے:(۱) سونا (خواہ کسی شکل میں ہو)——————————-مثلاً اِس کی قیمت:50,000/-(۲) چاندی (خواہ کسی شکل میں ہو)——————————-؍؍10,000/———–(۳) مالِ تجارت یعنی بیچنے کی حتمی نیت سے خریدا ہوا مال، مکان، زمین(۱)300,000/- ————-(۴) بینک میں جمع شدہ رقم100,000/- ————————————————–(۵) اپنے پاس موجود نقد رقم100,000/- ————————————————-(۶) ادھار رقم (جس…

  • |

    نقشہ برائے ادائیگی زکوٰۃ

    مولانا اعجاز صمدانی(الف) وہ اثاثے جن پر زکوٰۃ واجب ہے:(۱) سونا (خواہ کسی شکل میں ہو)————————————–مثلاً اِس کی قیمت:50,000/-(۲) چاندی (خواہ کسی شکل میں ہو)————————————–؍؍10,000/———–(۳) مالِ تجارت یعنی بیچنے کی حتمی نیت سے خریدا ہوا مال، مکان، زمین(۱)300,000/- ——————(۴) بینک میں جمع شدہ رقم100,000/- ——————————————————-(۵) اپنے پاس موجود نقد رقم100,000/- ——————————————————(۶) ادھار رقم (جس کے…

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.