تازہ ترین خبریں
آپ کو مجلس احرار کیسی لگی؟

ہالینڈ کی پارلیمنٹ میں گستاخانہ خاکوں کی نمائش کا اعلان

عبداللطیف خالد چیمہ پیغمبرامن ،مُحسن ِ انسانیت جناب نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی توہین وتکذیب وہی لوگ کررہے ہیں ،جو دنیا میں بدامنی اور دہشت گرد ی کا راج پورے شباب پر دیکھنا چاہتے ہیں ،کچھ عرصے سے اسلام وپاکستان دشمن گروہ اِس عمل ِبد کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں ،ماضی قریب میں اِس کا اِرتکاب سب سے پہلے قادیانیوں نے کیا ، 30؍ ستمبر 2005 ء کو ڈینشی اخبار نے جناب نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے حوالے سے بارہ کارٹون شائع کیے جس کے پیچھے قادیانی لابی کاعمل دخل کارفرما تھا ،(روزنامہ ’’جنگ ‘‘لندن) بعدازاں ستمبر2012 ء امریکہ میں توہین آمیز فلم ریلیز ہوئی تو قادیانی امریکہ کی حمایت میں کھڑے ہو گئے اور اب (ڈچ )ہالینڈ

اسلام کی پوری عمارت عقیدۂ ختم نبوت پر قائم ہے

امیر شریعت سید عطاء اﷲ شاہ بخاری رحمہ اﷲ حضرت امیر شریعت سید عطاء اﷲ شاہ بخاری رحمتہ اﷲ علیہ نے آج سے سڑسٹھ (۶۷) سال قبل ۱۷؍مئی ۱۹۵۱ء کو پاکستان کی معروف دینی درس گاہ ’’دارالعلوم حقانیہ ‘‘اکوڑہ خٹک کے سالانہ جلسے میں خطاب فرمایا تھا۔بانی جامعہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق رحمتہ اﷲ علیہ ہمیشہ شاہ جی کو جامعہ کے جلسے میں مدعو کیا کرتے تھے۔اس خطاب کی روداد پشاور کے ایک ہفت روزہ ’’البلاغ‘‘ کے ۸؍جون ۱۹۵۱ء کے خصوصی شمارے میں شائع ہوئی ‘جسے مدیر ’’البلاغ‘‘ مولانا سعید الدین شیر کوٹی مدظلہ نے مرتب کیا تھا۔شاہ جی کایہ خطاب بعد میں ’’البلاغ‘‘ کے شکریہ کے ساتھ ماہنامہ ’’الحق ‘‘ نے مارچ ۱۹۷۰ء کے شمارے میں شائع کیا۔قند مکرّر کے طو رپر یہ

میدانِ اُحد

شاہ بلیغ الدین رحمۃ اﷲ علیہ ہجرت کا تیسرا سال ہے۔ ۷؍ شوّال کی صبح کو سورج طلوع ہوا تو ایک طرف سے اﷲ اکبر کا نعرہ بلند ہوا اور دوسری طرف سے اُعْلُ الْہُبَلْ( ۱)کی صدائیں اٹھیں اور دیوی دیوتاؤں کے جے کارے بھرے گئے۔ مدینہ منوّرہ کے شمال میں کوئی تین میل ادھر پہاڑی کے دامن میں مسلمان اور قریش پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں۔(۲) یہی میدانِ اُحد ہے۔ ابو سفیان اور عکرمہ تُلے بیٹھے ہیں کہ آج مسلمانوں سے جنگِ بدر کا بدلہ لیں گے۔ کوئی انہیں دیکھے تو سمجھے کہ خون کے پیاسے کسے کہتے ہیں۔ زندگی کے ہر اثاثے پھونک کر وہ میدانِ جنگ میں آئے ہیں۔ اور تو اور اُن کی عورتیں تک گھروں سے نکل آئی ہیں۔ ابو سفیان

مسجدیمامہ:50سالہ قادیانی قبضے اورآزادی کی سرگزشت

احمد خلیل جازم ( چوتھی اور آخری قسط) سرگودھا کے نواحی گاؤں میں مسجد یمامہ اگرچہ اب مسلمانوں کے پاس ہے اور اس کی دیکھ بھال سید اطہر شاہ کررہے ہیں لیکن قادیانی آج بھی اس تاک میں ہیں کہ کسی طرح وہ اسے دوبارہ مسلمانوں سے واپس لے لیں، اس حوالے سے وہ قانونی چارہ جوئی سے بھی باز نہیں آرہے اور عوامی سطح پر بھی سازشو ں میں مصروف ہیں۔سید اطہر شاہ کا کہنا ہے کہ ’’ قادیانی سازشوں میں ماہر ہیں، اب ان کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ مسجد یمامہ پر مسلمانوں کا مسلکی تنازعہ شروع ہوجائے ، جس وجہ سے انہیں بات کرنے کا موقع ملے اور وہ مسجد کو ایک بار پھر سیل کراسکیں، اس کے بعد

جعلی ’’پیر‘‘ لاثانی سرکارکا فتنہ

منصوراصغرراجہ (دوسری قسط ) صوفی مسعود لاثانی سرکار کی تصانیف پر گہری نگاہ رکھنے والے علمائے کرام کا دعویٰ ہے کہ یہ شخص اپنی کتاب ’’وارث فقر ‘‘میں متعدد مقامات پر توہین ذات باری تعالیٰ کا مرتکب ہوا ہے ۔اس نے مرزا قادیانی کی پیروی کرتے ہوئے خداتعالیٰ کی صفت ’’ کُن ‘‘کو اپنے ساتھ جوڑنے کی سعی کی ہے ۔اس سلسلے میں مفتی سید مبشر رضا قادری نے ’’امت‘‘کو بتایا کہ ’’اگر لاثانی سرکار کی کتاب ’’وارث فقر ‘‘کا مطالعہ کیا جائے تو اس کے بے سروپا دعوے پڑھ کرانسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔اس شخص نے مذکورہ کتاب میں متعدد مقامات پر صریحاً توہین ذات باری تعالیٰ کا ارتکاب کیا ہے ۔اس کی چند مثالیں پیش ہیں۔وہ ’’وارث فقر ‘‘میں صفحہ 12پر

ڈاکٹر محمد آصف کاقادیانیت سے اسلام تک کاسفر

احمد خلیل جازم (دوسری قسط) ڈاکٹر محمد آصف کا کہنا تھا کہ ’’ مسلمان علماء سے مجھے میرے سوالات کے جوابات نہیں مل رہے تھے،بلکہ الٹا میرے سوالات پر مجھے قادیانی کہا جانے لگا۔ جب کہ قادیانیوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تووہاں جواب بھی ملے اور وہاں مجھے احساس ہونا شروع ہوگیا کہ یہ تو مسلمان ہیں۔ انہیں خواہ مخواہ کافر قرار دیا جارہا ہے ۔ مجھے جو وضاحتیں درکار تھیں۔ان میں سب سے اہم یہ تھی کہ جب وہ ارکان اسلام کے پابند ہیں تو ہمارا اُن سے بنیادی اختلاف کیا ہے ،لیکن جس عالم دین سے میں اس بارے میں پوچھتا۔ وہ میری تسلی نہ کراتا ۔ اسی دوران قادیانیوں نے مجھے مذاکراہ سننے کی دعوت دی، جس میں ربوہ

اخبارالاحرار

اخبارالاحرار حضرت عائشہ ؓکی زندگی خواتین کے لیے رول ماڈل ہے:احراررہنما لاہور(2جون)مجلس احراراسلام پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل میاں محمد اویس اورقاری محمدیوسف احرار نے کہاہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓکی سیرت طیبہ خواتین کے لئے مشعل راہ ہے ،ام المومنین عائشہ صدیقہؓ جودوسخاکا پیکر تھیں۔آپؓ مینارۂ علم وفضل اور عقل ودانش تھیں۔انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ صدیقہ حضورپاکؐ کی لاڈلی بیوی تھیں،آپ ؐ امی عائشہؓ کو حمیراکے لقب سے پکاراکرتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ تاریخ کے اوراق ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے فضائل ومناقب سے بھرے پڑے ہیں،حضرت امی عائشہ ؓ علم ،فقہ واِجتہاد ،حکمت وطب میں اپناثانی نہیں رکھتی تھیں۔بڑے بڑے صحابہ کرام ؓ آپؓ سے دین کے بارے میں سوالات پوچھتے اور آپؓ ان کی رہنمائی فرمایاکرتی تھیں۔انہوں نے

احرار نیوز

گزشتہ شمارے

2018 july

ہالینڈ کی پارلیمنٹ میں گستاخانہ خاکوں کی نمائش کا اعلان

اسلام کی پوری عمارت عقیدۂ ختم نبوت پر قائم ہے

میدانِ اُحد

مسجدیمامہ:50سالہ قادیانی قبضے اورآزادی کی سرگزشت

جعلی ’’پیر‘‘ لاثانی سرکارکا فتنہ

ڈاکٹر محمد آصف کاقادیانیت سے اسلام تک کاسفر

اخبارالاحرار