تازہ ترین خبریں
آپ کو مجلس احرار کیسی لگی؟

اخبارالاحرار

انتخابات میں صحیح العقیدہ اُمیدواروں کی حمایت کا فیصلہ
6ستمبر کمجلس شوریٰ کا اجلاس ‘7ستمبریوم ختم نبوت منایا جائیگا
لاہور (یکم جولائی) مجلس احرار اسلام پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ موجودہ انتخابی نظام ناقص ترین ہونے کے باوجود متحدہ مجلس عمل کے صحیح العقیدہ، صحیح الفکر، اسلام اور وطن سے محبت رکھنے والے انتخابی امید واروں کی حمایت کرے گی۔ تاکہ وطن عزیز کی باگ ڈور ایسے ہاتھوں میں آئے جو پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بناسکیں۔ یہ فیصلہ مجلس احرار اسلام پاکستان کی مرکزی مجلس عاملہ کے ایک اجلاس میں کیا گیا جو قائد احرارحضرت پیرجی سید عطاء المہیمن بخاری مدظلہ‘اور سید محمد کفیل بخاری کی صدارت میں دارِ بنی ہاشم ملتان میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں مجلس احرار اسلام کے سیکرٹری جنرل عبداللطیف خالد چیمہ، مولانا محمد مغیرہ، ملک محمد یوسف، میاں محمد اویس، قاری محمد یوسف احرار، حافظ محمد اسمٰعیل، عبد الکریم قمر، سید عطاء المنان بخاری، مولانا محمد اکمل، ڈاکٹر محمد آصف، حافظ محمد ضیاء اﷲ، مولانا کریم اﷲ، مولانا محمد سرفراز معاویہ اور دیگر اراکین عاملہ نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد مجلس احرار اسلام کے سیکرٹری جنرل عبد اللطیف خالد چیمہ نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ تحریک ختم نبوت کو ملکی اور عالمی سطح پر منظم کیا جائے گا اور قادیانی ریشہ دوانیوں کو بے نقاب کیا جائے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نگران حکومت کے عبوری دور میں بھی قادیانی سرگرمیاں پہلے کی طرح جاری ہیں اور ملتان ، ڈیر غازی خان سمیت کئی مقامات پر قادیانی افسران تعینات کر کے قادیانیت نوازی کی جارہی ہے جس کی اجلاس میں مذمت کی گئی ہے۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ مجلس احرار اسلام کے زیر اہتمام اگست میں امیر شریعت کانفرنسز اور ستمبر میں یوم قراردادِ اقلیت (یوم تحفظ ختم نبوت) کے حوالے سے ملک گیر پروگرام کیے جائیں گے، جبکہ 6 ستمبر کو مجلس احرار کی مرکزی مجلس شوری کا اجلاس ہوگا اور7ستمبر کو یوم تحفظ ختم نبوت مرکزی سطح پر لاہور میں منایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں یہ بھی طے ہوا ہے کہ 29 دسمبر ملک بھر میں یومِ تاسیس احرار روایتی جوش وجذبے کے ساتھ منایا جائے گا۔ علاوہ ازیں 2028 میں مجلس احرار اسلام کے صد سالہ یوم تاسیس کے حوالے سے ملک گیر اجتماع عام ہوگا۔ سید محمد کفیل بخاری نے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا کہ مجلس احرار موجودہ نظام سیاست پر عدم اعتماد کے باوجود معروضی صورتحال کے پیش نظر اَپنا حق رائے دہی استعمال کرے گی اور نفاذ اسلام، تحفظ ناموس رسالت، تحفظ ختم نبوت اور استحکام پاکستان پر یقین رکھنے والے امید واروں کی حمایت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی صفوں سے دین اور وطن دشمن عناصر کو نکال باہر کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قادیانیت نوازاُمیدوار چاہے کسی بھی جماعت سے ہوں، مجلس احرار اُن کو بے نقاب کرے گی اور ان کی مخالفت بھی کرے گی۔ انہوں نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کی تاریخی کامیابی پر اُن کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے ان کی مکمل اخلاقی حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ترکی خلافت عثمانیہ کی طرف واپس لوٹے گا۔ انہوں نے پاکستان کو ’’گرے لسٹ‘‘ میں شامل کیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عالم کفر کی طرف سے پاکستان پر اقتصادی ومعاشی دباؤ بڑھانے کی سازش قرار دیا،تاکہ پاکستان ان کے ایجنڈے کے تابع رہ سکے۔
اجلاس کی قرار دادوں میں ہالینڈ کی پارلیمنٹ میں توہین آمیز خاکوں کی نمائش کے اعلان اور مسلم خواتین پر نقاب کی پابندی کی مذمت کی گئی اور اسے پرسنل لاء اور انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کے منافی قرار دیا گیا۔ دوسری قرار داد میں نگران حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ قادیانیوں کو آئین کے دائرے میں رہنے کا پابند بنائے اور چناب نگر کے داخلی وخارجی راستوں پر قادیانیوں کی طرف سے رکاوٹوں کو فی الفور ختم کیا جائے۔ ایک قرار داد میں مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی افواج کی طرف سے مسلمانوں پر کیے جانے والے مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور عالمی برادری سے اپیل کی گئی کہ وہ مداخلت کر کے کشمیری مسلمانوں کو حق رائے دہی دلوایا جائے۔ اجلاس میں ہندوستان کی جانب سے پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنا آبی جارحیت قرار دیا گیا اور اس کی شدید مذمت کی گئی۔ اجلاس میں گزشتہ دنوں انتقال کرجانے والے زعیم احرار مولانا سید عطاء المومن بخاری رحمۃ اﷲ علیہ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا گیا۔
انتخابی امیدواروں سے تحریری حلف لے کر ووٹ دیاجائے
لاہور(2جولائی)مجلس احراراسلام پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل میاں محمد اویس نے کہاہے کہ مجلس احراراسلام اپنی مرکزی ایگزیکٹوباڈی کے فیصلے کے مطابق متحدہ مجلس عمل کے صحیح العقیدہ اورصحیح الفکر امیدواروں کی بھرپور حمایت کرے گی اورجہاں مجلس عمل کاامیدوار نہ ہوگا وہاں کارکن اپنی صواب دید پر اسلام، پاکستان اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اورتحفظ ناموس رسالت کے حامی امیدواروں سے تحریری حلف نامہ لینے کے بعداُن کوووٹ دے سکیں گے۔مرکزی دفترسے جاری اپنے بیان میں انہوں نے ووٹرز سے بھی پرزوراپیل کی ہے کہ وہ ووٹ دیتے وقت کرپٹ امیدواروں کا مکمل بائیکاٹ کریں اور اسلام پسندی ،دیانتداری کی شہرت کے حامل امیدواروں کوووٹ دیں،ا نہوں نے کہاکہ ووٹ ایسی امانت ہے جس کا دیکھ سوچ کرفیصلہ کرناچاہیے ۔انہوں نے کہاکہ ہم موجودہ سرمایہ دارانہ جمہوری نظام کے نہ توحامی ہیں اورنہ موئید،لیکن معروضی صورت حال اورآئین پاکستان کے تقاضوں کے مطابق کارکنوں کوووٹ دینے کے لیے ایک معیار وضع کردیاگیا ہے۔ تاکہ کرپٹ عناصرسے جان چھوٹے اوراسلام کے نفاذ کی جدوجہد قریب ہو،اورہم ایک شفاف اورخوشحال پاکستان دیکھ سکیں۔
جسٹس صدیقی کے فیصلے کا خیرمقدم‘قادیانی آئین وریاست کے باغی ہیں
ملتان(4جولائی)مجلس احراراسلام پاکستان اورتحریک تحفظ ختم نبوت کے سربراہ سید عطاء المہیمن بخاری،سیکرٹری جنرل عبداللطیف خالد چیمہ اور نائب امیرسید محمدکفیل بخاری نے عقیدۂ ختم نبوت والے حلف نامے کے مسئلے پراسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے تفصیلی فیصلے پرانتہائی خوشی کااظہار کرتے ہوئے اس فیصلے کومسلمانوں کی کامیابی اور قادیانیوں اور قادیانی نواز عناصر کی ناکامی ونامرادی سے تعبیرکیاہے ۔مجلس احراراسلام کی قیادت نے کہاہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے اس فیصلے کوختم نبوت کی تحریک اورتاریخ میں ہمیشہ یاد رکھاجائیگا،انہوں نے کہاکہ ہم آئینی جدوجہد پریقین رکھتے ہیں اورآئین اور قانون کے تحت قادیانی غیر مسلم اقلیت ہیں۔کوئی سازش یادنیاکی کوئی طاقت ان کومسلمانوں کی صفوں میں لاکھڑا نہیں کرسکتی ۔انہوں نے کہاکہ قادیانیوں کے عقائد کفریہ ہیں اور مرزاغلام احمد قادیانی نے خود اپنے آپ کوامت مسلمہ سے الگ کرلیاتھا ۔ انہوں نے ہیومن رائٹس واچ کے اس مطالبے کو ہدف تنقید بنایاکہ قادیانیوں کو مسلم ووٹرز کے طور پرووٹ کاسٹ کرنے دیاجائے ،انہوں نے کہاکہ قادیانی جب تک اپنی اسلامی وآئینی حیثیت تسلیم نہیں کرتے اوراقلیتی دائرے میں پابند نہیں ہوتے، تب تک مسلم قادیانی کشیدگی باقی رہے گی ۔انہوں نے کہاکہ یہ ایمان وعقیدے کا مسئلہ ہے ،سیاسی رہنما قادیانیوں کو اپنی صفوں سے نکال باہرکریں ،انہوں نے کہاکہ قادیانی ریاست ،آئین اور قانون کے باغی ہیں ان کے ساتھ باغیوں جیسا سلوک کیاجائے اورربوہ میں ریاست کے اندرریاست جیسا ماحول ختم کیاجائے
ووٹ دیتے وقت دینی وملی ترجیحات کا لحاظ رکھیں:دینی رہنما
ملتان(4جولائی)مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام اور دینی رہنماؤں مولانازاہد الراشدی ،سید محمد کفیل بخاری ،مولانازبیر احمد ظہیر اور قاری زواربہادر نے ملک بھر کے ووٹروں سے اپیل کی ہے کہ وہ عام انتخابات میں ووٹ دیتے وقت متعلقہ امیدواروں سے اس امر کا تحریراً وعدہ لیں کہ وہ منتخب ہونے کے بعد دستور کے مطابق نفاذاسلام ،عقیدہ ختم نبوت وناموس رسالت کا تحفظ ،سودی نظام کے خاتمے اور فحاشی وعریانی کے بڑھتے ہوئے سیلاب کی روک تھام کے لئے کام کریں گے اور دینی وقومی مقاصد کے لئے پارٹی پالیسی سے بالا تر ہوکر دین اور ملک وقوم کے مفاد کو ترجیح دیں گے ۔ان رہنماؤں نے گزشتہ روز دفتر مجلس احراراسلام لاہور میں باہمی مشاورتی اجلاس کے بعد اس کا فیصلہ کیا جو مجلس احراراسلام کے نائب امیر مولانا سید محمدکفیل شاہ بخاری کی دعوت پر منعقد ہوا،ان رہنماؤں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے کے بعد اکثر ارکان اجتماعی ملی وقومی مقاصد ومفادات سے بے خبر ہوجاتے ہیں اور ملک کے دستور ونظریہ کے تقاضوں کو بھی نظرانداز کردیتے ہیں۔ اس لیے یہ امر ضروری ہوگیا ہے کہ الیکشن میں باقاعدہ اس بات کا عہد لیا جائے اور بعد میں بوقت ضرورت اس بابت باز پرس کا اہتمام بھی کیا جائے۔ تمام رہنماؤں نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ووٹ دیتے وقت دینی وملی ترجیحات کا لحاظ رکھیں ۔
بعض سیاسی جماعتوں میں قادیانی لابنگ موجودہے:عبداللطیف چیمہ
لاہور(5جولائی) متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی کے کنوینر اور مجلس احرار اسلام کے سیکرٹری جنرل عبداللطیف خالد چیمہ نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا ختم نبوت ترمیم کیس میں تفصیلی فیصلہ تاریخ ساز اِقدام ہے ،انہوں نے کہا کہ جسٹس شوکت صدیقی کا یہ کہنا بڑا اہم ہے کہ ’’ الیکشن ایکٹ کا بل تیا رکرنے والوں نے بظاہر سوچی سمجھی کوشش کے تحت قادیانیوں کو مسلم اکثریت میں شامل کرنے اور ان کی غیر مسلم اقلیتی شناخت چھپانے کی کوشش کی ،اور قومی اسمبلی کے اراکین اور سینٹرز اِس بات کی نشاندہی کرنے میں ناکام رہے۔ ‘‘اس پرعبداللطیف خالدچیمہ نے کہا کہ یہ حال ہے ہمارے منتخب اسمبلی اور سینٹرز کا کہ ان کو اسلام کے بنیادی عقیدہ پر وار ہوتا ہوانظر نہیں آیا یا پھر جان بوجھ کر نظریں چرالی گئی ، ،عبداللطیف خالد چیمہ نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ مسلم لیگ ن ،تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت میں قادیانی لابنگ بھی موجود ہے ،اور اس الیکشن میں ہم نے قادیانی نوازامیدواروں پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے ،انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے قادیانیوں کے لئے لفظ ’’احمدی‘‘ استعمال نہ کرنے اور شناخت واضح کرنے کے لئے ان کے نام کے ساتھ ’’قادیانی یا مرزائی ‘‘لگایا جائے کا حکم قرین قیاس ہے اور وقت کی انتہائی ضرورت بھی ، انہوں نے کہا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 7 ستمبر 1974 ء کے دن کی اہمیت اجاگر کرکے امت مسلمہ پر احسان کیا ہے ،انہوں نے کہا کہ لاہوری و قادیانی مرزائیوں کے حوالے سے قانون سازی تو ہوئی لیکن مؤثر اقدامات اور قانون کی عمل داری میں کچھ رکاوٹیں ہیں جو دُور ہونی چاہیں
نگران حکومت تحفظ ختم نبوت کی ذمہ داریوں کا احساس کرے :کفیل بخاری
لاہور(6جولائی)مجلس احراراسلام پاکستان اورتحریک تحفظ ختم نبوت نے کہا ہے کہ احتساب میں یکسانیت اورغیرجانبداری ہونی چاہئے اورقادیانیوں کا احتساب بھی ازحد ضروری ہوگیاہے ۔مجلس احراراسلام پاکستان کے امیر مرکزیہ سیدعطاء المہیمن بخاری ،نائب امراء پروفیسرخالدشبیراحمد،سید محمد کفیل بخاری،سیکرٹری جنرل عبداللطیف خالد چیمہ اورسیکرٹری اطلاعات ڈاکٹرعمر فاروق احرار نے اپنے اپنے بیانات میں کہاہے کہ جسٹس شوکت عزیزصدیقی کی طرف سے ختم نبوت والی ترمیم کے حوالے سے تفصیلی فیصلے نے بہت سے عقدے حل کردیئے ہیں۔اب راجہ ظفرالحق کمیٹی کی رپورٹ کوپبلک کرنا چاہئے اورجن عناصر کو عدالت نے قصور وارقرار دیاہے ان کونشان عبرت بنانا چاہیے۔ اس میں کسی قسم کی سیاسی وابستگی کالحاظ نہ رکھاجائے ۔سید عطاء المہیمن بخاری نے کہاکہ عالمی سطح پرتوہین رسالت کے جرم کوابھارنا اور مجرموں کوتحفظ دینا دُنیا اور انسانیت کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے ۔عبداللطیف خالد چیمہ نے کہاکہ قادیانیت انسانیت کے لیے سنگین خطرہ ہے اورپاکستانی سیاسی جماعتوں نے قادیانی لابنگ کواپنے اندرپناہ دے رکھی ہے۔انہوں نے کہاکہ حلف نامہ ختم نبوت میں تبدیلی میں ملوث کرداروں کوعبرت کانشان بنایاجاناضروری ہے ۔سیدمحمدکفیل بخاری نے کہاکہ توہین رسالت اورتوہین ختم نبوت کے حوالے سے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے تفصیلی فیصلے نے دنیاکی آنکھیں کھول دی ہیں۔انہوں نے کہاکہ عبوری حکومت کافرض بنتاہے کہ وہ اس حساس مسئلے پراپنی ذمہ داریوں کوسمجھے اور جسٹس شوکت عزیزصدیقی کے تفصیلی فیصلے پرعملدرآمدکرائے ۔انہوں نے کہاکہ وقت آگیاہے کہ قادیانیوں کواحمدی برادری یااحمدی مسلمان کہلوانے سے روک دیاجائے اوروہ اپنے ناموں کے ساتھ قادیانی یامرزائی لکھاکریں۔
شفقت محمودمرزاقادیانی کے بارے میں اپنے عقیدہ کی وضاحت کریں
ملتان(6جولائی)متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی پاکستان کے کنوینر اورمجلس احراراسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل عبداللطیف خالد چیمہ نے جسٹس شوکت عزیزصدیقی کے تازہ فیصلے کے بعدتحریک انصاف کے رہنماشفقت محمود کی طرف سے آنے والی وضاحت کومسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ شفقت محمود تاویلیں کرنے کی بجائے وضاحت کریں کہ وہ جنابِ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد مدعی نبوت کوکیاسمجھتے ہیں اورمرزاغلام احمدقادیانی کوجھوٹامدعی نبوت اوردائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں کہ نہیں۔نیزوہ یہ بھی بتائیں کہ 7ستمبر1974ء کوہونے والے پارلیمنٹ کے فیصلے جس کے مطابق لاہوری وقادیانی مرزائیوں کوغیرمسلم اقلیت قراردیاگیاتھا،اس بارے وہ کیارائے رکھتے ہیں۔
نوازشریف کی سزائیں مکافاتِ عمل ہیں:مجلس احراراسلام
ملتان(6جولائی)مجلس احراراسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل عبداللطیف خالد چیمہ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کی طرف سے سابق وزیراعظم نواز شریف اوردیگرکوسنائی جانے والی سزا پرتبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ سب کچھ مکافات عمل ہے ۔انہوں نے کہاکہ عقیدۂ ختم نبوت اورتحفظ ناموس رسالت قوانین ،دینی شعار اورملک وملت کے خلاف ن لیگی سازشوں کی وجہ سے مسلم لیگ کوآج یہ دن دیکھناپڑ رہاہے ۔انہوں نے کہاکہ حکمرانوں اور رُولنگ کلاس کااحتساب شروع ہواہے تواب اس کوکسی نتیجے تک پہنچناچاہئے اوراحتساب سب کایکساں ہوناچاہئے۔
 سیکولر اور سیاسی انتہا پسندی سے ملک تباہی سے دوچارہواہے:میاں اویس
لاہور (8جولائی)مجلس احراراسلام پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل میاں محمد اویس اور قاری محمد یوسف احرار نے اپنے مشترکہ بیان میں کہاہے کہ سیکولر انتہاپسندی اور سیاسی انتہا پسندی نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے اور سودی نظام نے ملک کی معیشت کو عالمی اداروں کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔ اس ابتر صورت حال کا واحد حل یہ ہے کہ حکمران ملک کو اِس کے قیام کے مقصد سے ہم آہنگ کردیں اوراستحصال سے پاک الہٰامی قانون یعنی’’اسلامی نظام‘‘کے نفاذ کا اعلان کردیا جائے ،انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ہماری بقاء کا کوئی راستہ باقی نہیں ہے اور اگر ہم اﷲ کی دھرتی پراﷲ کا قانون نافذ کردیں تو دنیا کی امامت مسلمانوں کے ہاتھ میں آسکتی ہے ،انہوں نے کہا کہ موجودہ استحصالی نظام بانی پاکستان محمد علی جناح کے ویژن کی نفی ہے ، انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان کے فرمودات کی روشنی میں ملک کو امن کا گہوارہ بنایا جاسکتا ہے ،انہوں نے کہا کہ تمام دینی وسیاسی جماعتوں کو اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے یک نکاتی ایجنڈے پر اکٹھے ہوجانا چاہئے ،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور اسلام آپس میں متصادم ہیں۔ اسلام اور مسلمان دہشت گردی کے ازلی دشمن ہیں،کیونکہ اﷲ اور اﷲ کے نبی نے احترام انسانیت سکھائی ہے اور یہی ہماری پالیسی ہے .انہوں نے کہاکہ موجودہ الیکشن میں ایماندار،مخلص اورعوام دوست نمائندوں کا انتخاب کیاجائے اورملک کی باگ ڈور اچھے لوگوں کے ہاتھ میں دی جائے ۔
 توہین آمیز خاکے: مرتکبین کے پشت پناہ قادیانی ہیں
لاہور(9جولائی)متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی پاکستان نے کہاہے کہ ہالینڈ سمیت مغرب کی طرف سے آزادی رائے کے نام پر اسلام مخالف اورتوہین آمیزخاکوں کا سلسلہ بندنہ ہواتوپوری دنیامیں کشیدگی بڑھے گی۔ امن وامان خراب ہوگا اورایسے ہی اقدامات سے پھرشدت پسندی جنم لیتی ہے، اس لیے مغرب اورامریکہ کواپنے رویے پرنظرثانی کرنی چاہیے ۔ متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی پاکستان کے کنوینر عبداللطیف خالدچیمہ نے عالم اسلام سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ وہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے آگے بڑھیں اورکوئی متفقہ لائحہ عمل تیارکیاجائے ۔انہوں نے اس امر پرشدیدتشویش کااظہارکیاکہ کسی حکمران یاسیاسی لیڈر کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کئے جائیں تومیڈیاخصوصاًسوشل میڈیا پرایک طوفان برپاہو جاتاہے، لیکن افسوس بلکہ حیرت ہے کہ اسلامی ممالک پراورخصوصاً پاکستان، سعودی عرب،ترکی ،ملائشیاکے حکمران اورسیاستدانوں جن پرایسے واقعات کاذرہ بھراثر نہیں ہوتا۔انہوں نے کہاکہ جنابِ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے ناموس وحرمت پرمرمٹنامسلمانوں کے ایمان کابنیادی جزوہے اورمسلمانوں کے ان جذبات کی عکاسی کرنے میں پاکستانی حکمران مکمل طورپرناکام رہے ہیں۔عبداللطیف خالدچیمہ نے کہاکہ’’احمدی مسلمانوں‘‘کے نام پرقادیانی دنیاکو دھوکا دے رہے ہیں اوراپنے کفرکواسلام کاٹائٹل دے کراِرتدادپھیلا رہے ہیں۔عبداللطیف خالد چیمہ نے مزیدکہاکہ قادیانی بین الاقوامی سطح پرایسی قوتوں کے آلہ کاربنے ہوئے ہیں جواِسلام کوبدنام اور دہشت گردی کاموجب بنی ہوئی ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیاکہ توہین آمیز خاکوں کا سلسلہ بھی سب سے پہلے قادیانیوں نے ہی شروع کیاتھا قادیانی کائنات کے بدترین گستاخانِ رسول ہیں۔
پشاوربم دھماکہ ریاستی اداروں کی ناکامی کا ثبوت ہے:قائداحرار
ملتان (11جولائی)مجلس احراراسلام پاکستان کے امیرمرکزیہ سیدعطاء المہیمن بخاری ،نائب امیرسید محمد کفیل بخاری ،سیکرٹری جنرل عبداللطیف خالد چیمہ ،ڈپٹی سیکرٹری جنرل میاں محمد اویس اورقاری محمد یوسف احرار نے پشاورمیں بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اے این پی کے امیدوار ہارون بلور سمیت 12افراد کی شہادت پرافسوس کااظہارکرتے ہوئے اسے ناکام سیکورٹی قراردیاہے اورکہاہے کہ انتخابی امیدواروں کی سیکورٹی کویقینی بنایاجائے ۔انہوں نے فوجی ترجمان کے اس بیا ن کہ ’’خلائی مخلوق سیاسی نعرہ ہے کہ ہم خدائی مخلوق ہیں‘‘پرتبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ خدائی مخلوق ،خلائی مخلوق سے زیادہ طاقتور ہے ۔علاوہ ازیں مجلس احراراسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل عبداللطیف خالد چیمہ نے راناثناء اﷲ سمیت بعض سیاسی رہنماؤں کے اس بیان کہ ’’ہم ختم نبوت پرمکمل ایمان رکھتے ہیں ‘‘پرتبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ وہ یہ بتائیں کہ جنابِ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد نبوت کادعویٰ کرنے والوں کو کافر،مرتداوردجال وکذاب سمجھتے ہیں کہ نہیں اورمرزاغلام احمدقادیانی کے بارے میں ان کی کیارائے ہے ۔علاوہ ازیں انہوں نے کہاکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیزصدیقی کے فیصلے کی روشنی میں اقدامات کرنا نگران حکومت کی ذمہ داری ہے اور راجہ ظفرالحق کمیٹی رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داروں کوقانون کے کٹہرے میں لایاجاناضروری ہے، اس میں کسی کوکسی قسم کا استثناء نہیں دیا جاناچاہیے ۔
ہارون بلورکی شہادت سیکورٹی صورتحال پر سوالیہ نشان ہے:قاسم چیمہ
لاہور (11جولائی) احرار اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے چیئرمین محمد قاسم چیمہ نے ہارون بلور کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی بزدلانہ کارروائیوں سے سیاسی عمل کو نہیں روکا جاسکتا۔انہوں نے کہاکہ بم دھماکے میں ملوث افراد انسان کہلانے کے لائق نہیں۔انہوں نے کہا کہ پشاور بم دھماکہ بزدلانہ کارروائی ہے، جس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ قاسم چیمہ نے کہا کہ ہارون بلور کی کارنر میٹنگ میں بم دھماکہ سیکورٹی صورتحال پر سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے کہا کہ بیرونی قوتیں دہشت زدہ ماحول پیدا کرکے پاکستان کو ناکام ریاست ڈکلیئر کرانا چاہتی ہیں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انتخابی امیدواروں کی سیکورٹی کو یقینی بنایا جائے۔
نگران حکومت قادیانیوں کی آئینی حیثیت کو چھیڑنے سے بازرہے
لاہور(12جولائی)متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی پاکستان نے کہاہے کہ نگران وفاقی وزیراطلاعات ونشریات سیدعلی ظفر کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیزصدیقی کے ختم نبوت کے حوالے سے فیصلے کوچیلنج کرنے کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ آج جمعۃ المبارک کے خطبات میں ملک بھرمیں علماء کرام ،خطباء عظام اس کوہدف تنقید بنائیں گے اوراس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں گے ۔ختم نبوت رابطہ کمیٹی پاکستان کے کنوینر عبداللطیف خالد چیمہ نے کہاہے کہ اگرنگران حکومت کی طرف سے یہ اعلان واپس نہ ہواتو رابطہ کمیٹی اس پرسخت احتجاجی لائحہ عمل طے کرے گی،جس کے لئے ختم نبوت رابطہ کمیٹی میں شامل تمام مکاتب فکرکاہنگامی اجلاس لاہور میں طلب کیاجائے گا۔انہوں نے کہاکہ حیرت ہے اس بات پرکہ آئین ،دستور پاکستا ن اورریاست کوچیلنج کرنے والی کمیونٹی کوحقوق دلوانے کی بات کی جارہی ہے جوبذات خود آئین سے ماوراہے ۔ انہوں نے کہاکہ عقیدہ ختم نبوت امت کی شہ رگ ہے اورہم کسی صورت 7 ستمبر 1974ء کی قراردادِ اقلیت اورجسٹس شوکت عزیزصدیقی کے فیصلے کوسبوتاژنہیں ہونے دیں گے ۔انہوں نے نے مطالبہ کیاکہ نگران حکومت باضابطہ طورپراپنے وفاقی وزیراطلاعات ونشریات کوبیرونی ایجنڈا آگے بڑھانے سے روکے اورجوکچھ وفاقی وزیر نے کہاہے وہ فی الفور واپس لیاجائے ۔
وزیراطلاعات کا عدالتی فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان قابل مذمت ہے
لاہور(12جولائی)متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی پاکستان نے ختم نبوت کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے فیصلے کونگران حکومت کی جانب سے چیلنج کرنے کے اعلان کوامت کے اجماعی عقیدے(عقیدہ ختم نبوت)سے انحراف اوربدترین قادیانیت نوازی قرار دیتے ہوئے اس کی شدیدالفاظ میں مذمت کی ہے ۔متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی کے کنوینرعبداللطیف خالد چیمہ نے اپنے ردعمل میں کہاہے کہ نگران وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سید علی ظفر نے دو روز قبل (10جولائی )اسلام آباد میں یورپی یونین کے اشترا ک سے ’’اقلیتوں کے حقوق اورمذہبی آزادی ‘‘کے عنوان سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس صدیقی کے حالیہ فیصلے کے حوالے سے جن خیالات کا اظہار کیا ہے ،وہ دستورپاکستان سے انحراف بلکہ امت کے چودہ سوسالہ عقیدے پرحملہ آور ہونے کی کوشش ہے ۔ اس کوبظاہر اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی کے نام پرکسی طور پرقبول نہیں کیاجاتاسکتا ۔انہوں نے کہاکہ قادیانیوں نے آج تک7ستمبر 1974ء کی قرارداداقلیت کوتسلیم نہیں کیا۔وہ اپنے غیر مسلم اقلیتی دائرے کوبھی تسلیم نہیں کرتے ۔قادیانی آئین پاکستان ،دستورپاکستان اورریاست کے باغی ہیں اوردستوروعدالتی فیصلوں کواپنے رویے سے مسلسل چیلنج کررہے ہیں۔ قادیانیوں نے جہاد کوحرام قراردیااوراکھنڈ بھارت ان کامذہبی عقیدہ ہے۔ قادیانی پوری دنیا میں پاکستان کیخلاف پراپیگنڈہ کررہے ہیں ۔ہمیں حیرت ہے کہ نگران حکومت اس اہم ایشوپرقوم کی ترجمانی کرنے کی بجائے ریاست کے باغیوں کی طرفداری کررہی ہے۔ جس کوہم مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے سیاسی ومذہبی قیادت سے پرزوراپیل کی کہ وہ نگران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سیدعلی ظفر کے بیان کابروقت نوٹس لیں کیونکہ یہ مسئلہ عقیدے کابھی ہے اورملکی سلامتی کابھی۔
دہشت گردوں کو کیفرکردارتک پہنچا کراَمن بحال کیاجائے
لاہور(13جولائی)مجلس احراراسلام پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل میاں محمداویس ،قاری محمدیوسف احراراورقاری محمدقاسم بلوچ نے اکرم خان درانی اورسراج رئیسانی پردہشت گرد حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ دہشت گردوں کا کسی بھی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، معصوم اوربے گناہ لوگوں کاخون بہاناکہاں کی انسانیت ہے، انہوں نے کہاکہ بیرونی نادیدہ قوتیں ایسی بزدلانہ کارروائیاں کرکے ملک میں الیکشن ملتوی کراناچاہتی ہیں اورپاکستان کوناکام ریاست ڈکلیئر کراناان کابنیادی مقصد ہے لیکن وہ ان شاء اﷲ اپنے ان ناپاک مقاصدمیں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکیں گی۔انہوں نے کہاکہ حکومت انتخابی امیدواروں کی سیکورٹی کویقینی بنائے اوردہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹاجائے ۔
سیدعلی ظفر بیان واپس لیں ‘ورنہ تحریک کے سامنے کیلئے تیاررہیں
لاہور(13جولائی)وفاقی وزیراطلاعات ونشریات سید علی ظفرکی جانب سے ختم نبوت کیس کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیزصدیقی کے حالیہ فیصلے کونگران حکومت کی طرف سے چیلنج کرنے کے اعلان کے خلاف متحدہ تحریک ختم نبو ت رابطہ کمیٹی پاکستان اور دینی جماعتوں کی اپیل پرگزشتہ روزملک بھرمیں یوم احتجاج منایاگیا۔مختلف مکاتب فکرکے رہنماؤں سیدعطاء المہیمن بخاری ،حافظ عاکف سعید ،مولانازاہدالراشدی ، سیدمحمدکفیل بخاری ،مولاناعبدالرؤف فاروقی ،ڈاکٹرفریداحمدپراچہ ،سردارمحمد خان لغاری ،مولانا محمدالیاس چنیوٹی ،قاری محمدرفیق وجھوی اور کئی دیگر رہنماؤں نے اپنے اپنے بیانات اوراپنے اپنے خطبات جمعۃ المبارک میں اس امرپرشدید احتجاج کیاکہ نگران وفاقی وزیراطلاعات ونشریات سید علی ظفر نے عالمی ایجنڈے کی روشنی میں اوریورپی یونین کے ایماء پریہ اعلان کیاہے کہ ختم نبوت کے حوالے سے اسلام آباد کے جسٹس شوکت عزیزصدیقی نے جو حالیہ فیصلہ سنایا ہے ،اس کے خلاف نگران حکومت اَپرکورٹ میں اپیل دائرکرے گی ،علماء کرام اوردینی رہنماؤں نے کہاکہ یہ اعلان دراصل امت کے چودہ سوسالہ موروثی اورمتفقہ عقیدے کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ جس کوہم پوری قوت کے ساتھ مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ جسٹس شوکت عزیز کافیصلہ امت مسلمہ کے عقیدے کے عین مطابق ہے، جس کوچھیڑنا یااس کی مخالفت کرنا ایمان سے ہاتھ دھونے کے مترادف ہے۔ تمام علماء کرام اور دینی رہنماؤں نے ہالینڈ حکومت کی طرف سے ڈچ پارلیمنٹ میں توہین آمیز خاکوں کے اعلان کو دنیا کے امن کو خراب کرنے کی مذموم کوشش قراردیا اور مطالبہ کیا کہ عالمی برادری اس حساس مسئلے پر سوچے اور یواین اوتوہین انبیاء کو ممنوع قرار دے ۔ختم نبوت رابطہ کمیٹی پاکستان کے کنوینرعبداللطیف خالد چیمہ نے اس پرکہاہے کہ جمعۃ المبارک کے روز تمام مکاتب فکر کے سرکردہ رہنماؤں نے نگران وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سید علی ظفر کے اعلان کومتفقہ طورپرمسترد کردیاہے۔ انہوں نے کہاکہ وہ کون سے انسانی حقوق ہیں جومحسن انسانیت صلی اﷲ علیہ وسلم پرتنقید کاحق مانگتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ آزادی مذہب اورآزادی رائے کے نام پرجنابِ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم پرتنقید کاحق مانگناکون سی انسانیت کی خدمت ہے، انہوں نے کہاکہ قادیانیوں کاآئین اورقانون میں جوسٹیٹس طے کیاگیاہے، قادیانی اس کوماننے سے نہ صرف انکاری ہیں بلکہ قادیانی پوری دنیامیں پاکستان کیخلاف لابنگ کرکے اپنے آپ کومظلوم ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔جبکہ قانون نافذکرنے والے ادارے امتناع قادیانیت جیسے قوانین پرعمل درآمد نہیں کررہے ۔ عبداللطیف خالدچیمہ نے کہاکہ نگران حکومت وفاقی وزیرکے اس اعلان کو فی الفور واپس لے، بصورت دیگر ختم نبوت رابطہ کمیٹی جوتمام مکاتب فکر کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے، اس پرسخت لائحہ عمل طے کرے گی ۔انہوں نے کہاکہ ناموس رسالت اورختم نبوت کامسئلہ ہمیں اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر صورت حال کانوٹس لے کر اس کی تلافی نہ کی گئی تو ختم نبوت رابطہ کمیٹی دینی جماعتوں کا مشترکہ اجلاس بلاکر سخت لائحہ عمل طے کرے گی ۔انہوں نے کہاکہ دین بیزار اوروطن دشمن عناصر نے ملک میں انارکی پیداکررکھی ہے۔ ہمیں اسلام کا نفاذ اوروطن کا استحکام سب سے زیادہ عزیز ہے جبکہ قادیانی اکھنڈٖبھارت کا مذہبی عقیدہ رکھتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ قادیانیوں کو رعایت دینے والے یاان کے بارے میں نرم گوشہ رکھنے والے اسلام اور وطن کی محبت سے عاری ہیں۔انہوں نے دینی وقومی اورسیاسی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ اسلام اوروطن کی محبت کومقدم رکھیں اوراسلام اوروطن کے غدار قادیانیوں کا علامہ اقبال مرحوم کی طرز پراحتساب کریں۔
سیاسی اشرافیہ ‘بیوروکریسی کی اصلاح کے بغیرتبدیلی ممکن نہیں:خالدشبیر
چنیوٹ(13جولائی)مجلس احرار اسلام پاکستان کے نائب صدر پروفیسر خالد شبیر احمد نے ملک کی سیاسی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات سے قبل دہشت گردی کے واقعات کے باعث قومی سلامتی داؤ پر لگ چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر محب وطن پاکستانی پریشان ہے،جبکہ کچھ لوگوں کی اناپرستی نے الیکشن کو زندگی موت کا مسئلہ بنادیا ہے۔وہ گزشتہ روز احرار کارکنوں سے خطاب کررہے تھے۔پروفیسر خالد شبیر نے کہا کہ اس دھرتی کو آزاد کرانے میں احرار رضاکاروں نے قربانیاں دیں، جیلوں میں گئے، لیک اورملک کو آزاد کرایا۔انہوں نے کہا کہ جب تک پاکستان میں سیاسی اشرافیہ اور بیوروکریسی کا طرز عمل نہیں بدلے گا، حالات بدستوراَبتر رہیں گے۔
احرارنے مظلوم کشمیریوں کیلئے پہلی عوامی تحریک کا آغازکیاتھا
لاہور(13جولائی)13جولائی 1931ء کوکشمیر میں شہید ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ایک اجلاس دفترمجلس احراراسلام لاہورمیں منعقدہوا ۔جس کی صدارت مجلس احراراسلام کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل میاں محمداویس نے کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میاں محمداویس نے کہاکہ مجلس احراراسلام نے کشمیرمیں سب سے پہلے ڈوگرہ راج کے مظالم کے خلاف عوامی تحریک چلائی اور برصغیر کے طول وعرض سے قافلے کشمیرروانہ ہوئے۔پچاس ہزاراَحراررضاکاگرفتار جبکہ سچیت گڑھ کے مقام پرڈوگرہ فوج کی اندھادھند فائرنگ سے 22؍احرار ورکرز شہید ہوئے ، آخرمیں شہداء کے درجات کی بلندی کی دعاء کی گئی۔
خاکوں کی نمائش دنیاکے امن کو تباہی سے دوچارکرناہے:احراررہنما
کراچی(14جولائی)مجلس احراراسلام سندھ کے امیرمفتی عطاء الرحمن قریشی ، قاری علی شیر قادری اورشفیع الرحمن احرارنے کہاہے کہ قادیانیوں سے متعلق جسٹس شوکت عزیزصدیقی کے فیصلے کونگران حکومت کی طرف سے چیلنج کرنامسلمانوں کے جذبات کی توہین اوردوقومی نظریہ کی نفی ہے جبکہ ہیومن رائٹس واچ کاقادیانیوں کوبطور مسلمان ووٹ ڈالنے کی اجازت دینے کامطالبہ بھی نہایت شرمناک ہے انہوں نے کہاکہ ہالینڈ کی پارلیمنٹ میں توہین رسالت کے خاکوں کی نمائش کااعلان دنیاکے امن کوتہ وبالاکرنے کی ناپاک جسارت ہے۔
دہشت گردی کے مسلسل واقعات لمحۂ فکریہ ہیں:سیدعطاء المہیمن بخاری
لاہور(15جولائی)مجلس احراراسلام پاکستان کے امیرمرکزیہ سید عطاء المہیمن بخاری نے سانحہ مستونگ اورسانحہ بنوں پرانتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کے اندوہناک واقعات کی شدید مذمت کی ہے اور کہاہے کہ دہشتگردی کرنے والے مسلمان توکجاانسان کہلوانے کے بھی حقدار نہیں۔مرکزی دفتر سے جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ نوازشریف اوردیگر کوسزاؤں اورن لیگی قیادت پردہشت گردی کے مقدموں سے حکمرانوں اورسیاستدانوں کو عبرت پکڑنی چاہیے ۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ جوکل دہشتگردی کے مقدمے بناتے یابنواتے تھے،آج خود اسی قسم کے مقدموں کا شکارہورہے ہیں،ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مکافات عمل ہے۔
قرآنی نظام کے نفاذسے ہی پاکستان دہشتگردی سے پاک ہوگا
فیصل آباد(15جولائی)مجلس احرار اسلام پاکستان کے نائب امیرسیدمحمدکفیل بخاری نے فیصل آباد میں تنظیم اسلامی کے زیراہتمام’’ ختم نبوت اورقرآن کریم‘‘کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ قرآن کریم کی ایک سوآیات مبارکہ جناب نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم پرنبوت ختم ہونے کی گواہی دیتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ قرآن کریم کانظام نافذہوگا تووطن عزیز دہشتگردی سے پاک ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ نگران حکومت کے عبوری دور میں بھی قادیانیوں کونوازاجارہاہے ۔
 احرار کے دروازے تمام مسالک کے مسلمانوں کے لیے کھلے ہیں
لاہور ( 16جولائی ) مجلس احرار اسلام پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل میاں محمداویس نے کہا ہے کہ قادیانیت انسانیت کے لیے ناسور ہے ۔ختم نبوت مسلمانوں کے عقیدے کی بنیادہے۔انہوں نے کہا کہ 1973ء کا آئین ،پاکستان میں نفاذ اسلام کی ضمانت دیتا ہے اور احرار کارکن دستو ر پاکستان کے خلاف ہونے والی سازشوں کوناکام بنانے کے لیے پر عزم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 1974ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت کسی دباؤ پر نہیں قرار دیا گیا بلکہ پارلیمنٹ میں موجود مسلمانوں نے اپنے عقیدے کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ عقید ہ ختم نبوت کے مقدس مشن کی خاطر مجلس احرار نے سیاسی حیثیت قربان کی ۔انہوں نے کہا کہ اقتدار ہماری منزل نہیں ،ہمارا مقصد انتشار اور افراتفری کی بجائے مقتدر حلقوں کی اصلاح اور عوام کی خدمت ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دفتراحرارنیو مسلم ٹاؤن لاہور میں احرار کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر مجلس احراراسلام لاہورکے ضلعی ناظم قاری محمد قاسم بلوچ، ڈاکٹر ضیاء الحق قمر ،قاری شہزاد رسول ،مہراظہرحسین وینس اور دیگر بھی موجودتھے۔انہوں نے کہا کہ مجلس احرار الیکشن میں متحدہ مجلس کی بھرپور حمایت کرتی ہے اوراپنے کارکنوں کو بھی ہدایت کرتی ہے کہ وہ مجلس عمل کے صحیح العقیدہ نمائندوں کو ووٹ دے کرکامیاب بنائیں ۔ انہوں نے کہا کہ مجلس احرار کے دروازے تمام مسالک کے مسلمانوں کے لیے کھلے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تمام مسلمانوں کو اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دین اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لیے تیا ر ہونا چاہیے ۔
حکومتی قادیانیت نوازی : آئین کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں
لاہور(17جولائی)متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی پاکستان کے کنوینراور مجلس احراراسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل عبداللطیف خالد چیمہ نے کہاہے کہ ختم نبوت والی ترمیم کے حوالے سے اسلام آبادہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیزصدیقی کے فیصلے کے خلاف نگران سیٹ اپ میں اپرلیول پرخطرناک سازشیں ہورہی ہیں اوراندرون خانہ اس فیصلے کوسبوتاژکرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔مرکزی دفترسے جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ جب بھی ملک میں سیاسی یاانتخابی گہماگہمی ہوتوبیرون ممالک سے بھیجے گئے ایجنڈے کے مطابق اسلامی دفعات اوراسلامی فیصلوں کوختم کرنے کی کوششیں تیز ہوجاتی ہیں۔تاکہ شوروغل میں استعماری ایجنڈا آگے بڑھایا جاسکے۔عبداللطیف خالد چیمہ نے کہاکہ نگران حکومت اپنے پیش رو حکمرانوں کے مطابق قادیانیت نوازی کامظاہرہ کررہی ہے اورنگران وفاقی وزیراطلاعات ونشریات سید علی ظفر اس مسئلہ پراندرون خانہ دباؤ بڑھارہے ہیں اوربیرونی ایجنڈے کوآگے بڑھانے کے لئے عقیدہ ختم نبوت کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا اوراسلام کے نفاذ سے ہی یہ باقی رہ سکتا ہے توہین رسالت اور توہین ختم نبوت کمزورسے کمزور اور گناہگار سے گناہگار مسلمان بھی برداشت نہیں کرسکتا۔ انہوں نے دینی وسیاسی قیادت سے اپیل کی کہ وہ انتخابی مصروفیات سے تھوڑاساوقت نکال کر عقیدیہ ختم نبوت کے خلاف ہونے والی سازشوں کا ادراک کریں اورتحفظ ختم نبوت کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بھی بنائیں ۔ انہوں نے کہا کہ کہ قادیانی جماعت کے ترجمان سلیم الدین کی طرف سے قادیانیوں کی جانب سے الیکشن میں ووٹ کاسٹ نہ کرنے اور حلف نامے پر عدم اعتماد دراصل آئین اور ریاست سے بغاوت پر مبنی قادیانی رویہ ہے۔جس کا الیکشن کمیشن اور حکومت کو نوٹس لینا چاہئے۔
ووٹ ڈالنے سے روکنے پر قادیانی جماعت کیخلاف کارروائی کی جائے
لاہور(18جولائی)متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی پاکستان نے کہاہے کہ قادیانی جماعت پاکستان کی جانب سے الیکشن 2018ء سے لاتعلقی بلکہ قادیانی ووٹرز کوووٹ کاسٹ کرنے سے روکنا،آئین پاکستان سے انحراف اورریاست سے غداری کے مترادف ہے ۔متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی کے کنوینراورمجلس احراراسلام کے سیکرٹری جنرل عبداللطیف خالدچیمہ نے قادیانی جماعت کے ترجمان سلیم الدین کے بیان پرتبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ قادیانیوں کی الگ شناخت پارلیمنٹ اورپوری امت مسلمہ کامتفقہ فیصلہ ہے ،قادیانی اپنی آئینی حیثیت کوتسلیم کرنے سے مسلسل انکاری ہیں اور وطن عزیزکے خلاف بیرونی دنیامیں پروپیگنڈہ اورلابنگ کرکے پاکستان کو بدنام کررہے ہیں پھروہ پاکستان کے شہری ہونے کے حقوق تواستعمال کرتے ہیں لیکن فرائض سے لاتعلق ہیں۔انہوں نے کہاکہ قادیانی آخر اپنی شناخت کیوں چھپاتے ہیں اوردھوکہ دہی سے مسلمانوں کی صفوں میں شامل ہوکراعلیٰ عہدوں تک پہنچ جاتے ہیں۔عبداللطیف خالد چیمہ نے کہاکہ فاٹا میں خواتین کوووٹ کاسٹ کرنے سے روکنے پرکارروائی ہوسکتی ہے توپھرقادیانی جماعت جوریاست کی رٹ کومسلسل چیلنج کررہی ہے اوراعلانیہ الیکشن میں ووٹ ڈالنے سے روک رہی ہے تواس کیخلاف کارروائی کیوں نہیں ہورہی ۔ انہوں نے سلیم الدین کے اس الزام کورَدکیاکہ اس سے مذہبی تفریق پیداہوتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ اپنے اپنے مذہب کی پہچان ہوتی ہے جوہرحال میں ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ جن لوگوں نے ختم نبوت والے حلف نامے کوچھیڑااُن کوتاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی ۔انہوں نے کہاکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیزصدیقی نے ترمیمی بل کے حوالے سے جوتفصیلی فیصلہ دیاہے وہ ختم نبوت کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھاجائے گا،اب حکومت اوراداروں کا فرض ہے کہ وہ اس فیصلے پرمکمل عملدرآمد کروائیں اوراپنی شناخت چھپانے والے قادیانیوں کیخلاف قانون کے مطابق کاروائی کریں۔
جغرافیائی ونظریاتی سرحدوں پر زیادہ چوکس ہونا ضروری ہے
لاہور(27جولائی)مجلس احراراسلام پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل میاں محمداویس نے کہاہے کہ قرآن پاک ساری کائنات کے تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔ ہم نے قرآن وسنت سے دوری اختیار کر کے اپنے آپ کو ناکامیو ں اور پستیوں کی طرف دھکیل دیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سیکولرزم اورلبرل ازم کی تباہ کاریوں سے بچنے کے لیے امریکی و استعماری ایجنڈے کو مستقل بنیادوں پر مسترد کر دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک ہمیں حکمرانوں اور سیاستدانوں سے زیادہ عزیز ہے کیونکہ وطن کی محبت آنجناب نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا نظریہ اور ہماری ایٹمی قوت عالمی استعمار کو بری طرح کھٹک رہی ہے، ہمیں اپنی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کو پہلے سے زیادہ چوکس ہوکر مضبوط بنانا چاہیے ۔انہوں نے کامیاب ہونے والے تمام امیدواروں کومبارکبادپیش کی اور توقع ظاہر کی کہ جیتنے والی پارٹی اپنے انتخابی وعدوں کے مطابق ملک کواسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے بھر پور اقدامات کرے گی، حکومت اور اپوزیشن ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے باہمی نفرتوں کو ختم کرکے ہم آہنگی پیدا کریں گے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بلا تفریق فیصلے کئے جائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Time limit is exhausted. Please reload the CAPTCHA.